عربوں کے ہاں نکاح کی اقسام - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

عربوں کے ہاں نکاح کی اقسام

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بے شمار اہم واقعات و غزوات اور شرعی احکامات کی تفصیل نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سنن جیسے ہجرت، واقعہ افک، آپﷺ کے مشہور غزوات مثلاً بدر، احد، خندق اور بنی قریظہ۔ اسی طرح نماز خوف کی تفصیل غزوہ ذات الرقاع، فتح مکہ کے موقع پر عورتوں کی بیعت، حجۃ الوداع کے اہم واقعات، خلفائے اربعہ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے اہم واقعات و تغیرات کو نہایت تفصیل اور باریک بینی سے بیان کیا۔

ہم یہاں بطور مثال سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی پہلی وحی کی بابت نقل کرتے ہیں۔ وہ فرماتی ہیں:

’’ابتدائے نبوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند میں سچے خواب نظر آتے تھے۔ آپ جو خواب بھی دیکھتے وہ صبح کی پو پھوٹنے کی مانند ظاہر ہوتا۔ پھر آپﷺ خلوت پسند ہو گئے۔ آپﷺ غارِ حراء میں چلے جاتے اور اس میں عبادت کرتے اور مسلسل چند راتوں تک عبادت کرتے رہتے۔ پھر آپﷺ اپنے اہل خانہ کے پاس لوٹتے اور وہاں سے اپنی خور و نوش کی چیزیں لے کر واپس غار میں چلے جاتے۔ پھر جب وہ ختم ہو جاتیں تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آتے اور چند دنوں کے لیے زادِ سفر لے جاتے۔ بالآخر اچانک آپﷺ تک حق پہنچ گیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غار حراء میں تھے، ایک فرشتہ آیا اور اس نے کہا: آپ پڑھیے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔‘‘ آپﷺ نے فرمایا: ’’اس نے مجھے پکڑا اور مجھے اپنے ساتھ لپٹا لیا اور خوب بھینچا، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: آپﷺ پڑھئے۔ میں نے کہا: ’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔‘‘

اس نے دوسری بار مجھے پکڑا اور اپنے ساتھ لپٹا لیا اور خوب بھینچا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: آپ پڑھیے۔ میں نے کہا: ’’میں پڑھا ہوا نہیں۔‘‘ اس نے تیسری بار مجھے پکڑا اور اپنے ساتھ لپٹا لیا، اور خوب بھینچا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا:

اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِىۡ خَلَقَ‌۞ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍ‌ ۞اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُ ۞عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ۞ (سورۃ العلق آیت 5)

ترجمہ: پڑھو اپنے پروردگار کا نام لے کر جس نے سب کچھ پیدا کیا۔ اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا ہے۔پڑھو، اور تمہارا پروردگار سب سے زیادہ کرم والا ہے۔ انسان کو اس بات کی تعلیم دی جو وہ نہیں جانتا تھا۔

تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کانپتے جسم کے ساتھ واپس آئے اور سیدہ خدیجہؓ کے پاس چلے گئے اور فرمانے لگے: ’’مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ مجھے کپڑا اوڑھا دو۔‘‘ آپﷺ کو گھر والوں نے کپڑا اوڑھا دیا، حتیٰ کہ آپﷺ سے خوف دور ہو گیا۔ جب آپﷺ پرسکون ہوگئے تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو پکارا: اے خدیجہ! میرا کیا قصور ہے؟ مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے اور آپﷺ نے انھیں پورا واقعہ سنایا۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہرگز نہیں، آپ خوش ہو جائیں! پس اللہ کی قسم! اللہ آپﷺ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ پس اللہ کی قسم! بے شک آپﷺ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، محنت کشوں کا ہاتھ بٹاتے ہیں، محتاج کی مدد کرتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کے راستے میں مصائب و مشکلات کو برداشت کرنے کے لیے مدد کرتے ہیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس پہنچیں جو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا چچا زاد تھا اور وہ جاہلیت میں نصرانی مذہب پر تھا اور عربی میں کتابت کرتا اور اللہ جو چاہتا اس سے انجیل کو عربی میں لکھواتا۔ وہ بڑھاپے کو پہنچ چکا تھا اور اس کی آنکھیں ضائع ہو چکی تھیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا: اے میرے چچا زاد! آپ اپنے بھتیجے کی روئیداد سنیں۔ ورقہ نے کہا: اے بھتیجے تو کیا دیکھتا ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی آپ بیتی سنائی۔ سن کر ورقہ نے کہا: یہ وہی ناموس ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر اترا تھا کاش میں اس وقت نوجوان (الجذع: تنومند دنبہ، مفہوم یہ ہے کہ جب آپﷺ کو نکالیں گے کاش میں اس وقت زندہ طاقت ور ہوتا تاکہ آپﷺ کی مدد کرتا۔ (کشف المشکل لابن الجوزی: جلد 4 صفحہ 276۔)  ہوتا کاش میں زندہ رہتا۔ ورقہ نے کچھ کہا (کہ جب آپکو آپ کی قوم نکال دے گی)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟‘‘ ورقہ نے کہا: ہاں۔ جس آدمی نے بھی یہ بات کی جو آپﷺ کر رہے ہیں تو اسے ضرور تکلیف دی گئی اور اگر میں اس دن زندہ ہوا جس دن آپﷺ کو ان حالات کا سامنا کرنا پڑے گا تو میں آپﷺ کی ضرور بالضرور مدد کروں گا۔ پھر زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ ورقہ فوت ہو گیا اور کچھ عرصہ کے لیے وحی رک گئی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین ہو گئے۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4953 ۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 160)

جو زمانہ جاہلیت کے واقعات تھے ان میں سے بیشتر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد محترم سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سنے ہیں جو سب لوگوں سے زیادہ عربوں کی مہمات، خانہ جنگیوں اور ان کے انساب کے عالم تھے۔ اسی لیے عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے فقیہ ہونے پر کوئی تعجب نہیں اور نہ ہی ان کے عربوں کی جنگی مہمات اور ان کے اشعار کی عالمہ ہونے پر تعجب ہے۔ کیونکہ میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہونے کی وجہ سے ان سے یہ معلومات جمع کر لیتی تھیں، جو سب لوگوں سے زیادہ ان چیزوں کے عالم تھے۔ لیکن مجھے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس علم طب کے بارے معلومات ہونے پر تعجب ہوتا ہے۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 183)


صفحہ 2 از 2