مکارمہ اسماعیلیوں کے عقائد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مکارمہ اسماعیلیوں کے عقائد

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 2

تقیہ میرے اور میرے آباء کا دین ہے۔

دیگر ائمہ سے بھی نقل کرتے ہیں کہ ہمارا راز چھپا کہ رکھو۔ جس نے ہمارا راز پھیلایا اس نے ہمارا حق تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

باطنی تاویل:

اسماعیلی بڑے فخر سے اپنا یہ نظریہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ظاہر اور باطن کے درمیان تفریق کرتے ہیں:

ان الظاھر ھو الشریعة و الباطن ھو الحقیقة و صاحب الشریعة ھو الرسل محمد صلوات اللہ علیه و صاحب الحقیقة ھو الوصی علی بن ابی طالب (الفتخار صفحہ :71 للسجستانی)

شریعت ظاہری علم ہے اور باطنی علم حقیقت ہے۔ محمدﷺ صاحبِ شریعت ہیں اور حضرت علیؓ صاحبِ حقیقت ہیں۔

انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو رسول اکرمﷺ کی نبوت میں شریک بھی ٹھہرایا غالی صوفیوں کا بھی یہی عقیدہ ہے۔ اسماعیلی مکارمہ کہتے ہیں کہ رسالت سات افراد میں مشتمل ہے۔ آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ، محمدﷺ اور امام قائم میں۔ 

(اثبات النبوت: صفحہ 131، الایضاح: صفحہ 43،کنزالولد: صفحہ 268)

مکارمہ داعیوں کا جادو سے مستفید ہونا:

اسماعیلی مکارمہ جادو سے کام لینے میں مشہور ہیں۔ یہ ان سے متداول ہے کہ یہ جادو کا استعمال کرتے ہیں۔ان کی کتابوں میں ہے کہ جنوں اور شیطانوں سے وسیلہ لیں۔ ان کی خاص ترین کتاب میں ہے جو ہر مکرمی کے گھر میں موجود ہوتی ہے اس میں لکھا ہے:

مقری، مغیشم، شمشا، بریشا، کباکبا، کبا، ینجلی، ینجلی، ینجلی یہ سب شیطانوں اور جنوں کے نام ہیں۔ اں کے توسل سے مدد مانگ رہے ہیں۔(صحیفة الصلاۃ الکبرٰی صفحہ 662)

مکارمہ کا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں مؤقف:

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سبِّ وشتم کرنے میں دوسرے شیعوں کی مانند ہی ان کا نظریہ ہے کہ بات ان کے نظریہ میں پوشیدہ نہیں۔ عام مکارمہ میں مشہور ہے کہ یہ سبِّ وشتم کرنا ہمارا مذہب ہے بلکہ مکارمہ فرقے والے جب کسی کو غصہ ہوتے ہیں تو کہتے ہیں: جو سیدنا ابو ہریرہؓ کو عذاب ہے وہی تجھے ہو (العیاذ باللہ)اور اہلِ سنت کو ابو ہریرہؓ اور سیدہ عائشہؓ کی قوم قرار دے کر گالی دیتے ہیں۔ اور مکارمہ کا عقیدہ ہے کہ ستارے بذاب خود مؤثر ہیں اور ماں کے پیٹ میں بچے کی تخلیق وہی کرتے ہیں۔ ان کا امام حامدی کہتا ہے:

بچے کی تصویر کشی شمس، زحل، قمر کے اشتراک سے عطارد ستارہ کرتا ہے۔ دل شمس کی قوت سے پیدا ہوتا ہے، بچے کے پاؤں زحل کی قوت سے اور سر قمر کی قوت سے پیدا ہوتا ہے۔ اور عطادر مکمل تصویر کشی کرتا ہے۔ اور زہرا ستارہ مذکر یا مؤنث بناتا ہے۔ (کنزالولد: صفحہ 142)

مکارمہ کا عقیدہ ہے کہ نبی کریمﷺ نے دین درج ذیل افراد سے سیکھا:

 حضرت ابی بن کعبؓ سے وصیتوں کا علم سیکھا اور زید بن عمرو سے طہارت کا علم سیکھا اور حضرت عمرو بن نفیلؓ سے نماز سیکھی اور زید بن اسامہؓ سے زکوٰۃ اور حضرت خدیجہؓ بنتِ خویلد سے حج کے فرائض سیکھے ہیں۔ (کنزالولد: صفحہ 210)

مکارمہ کے نزدیک عقل ہی تمام الہٰی صفات کا محل ہے اور یہی عقل ہے جو اس کی طرف نماز میں متوجہ کی جاتی ہے۔ یہ خارجی مظہر ہے یہ جس کی عبادت کرتے ہیں۔ یہ اسے حجاب کہتے ہیں۔ ان کے نزدیک عقل الہٰ حقیقی ہے، انسان اللہ کی ذات تک اس عقل کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا یہی صفات کی علت غایہ ہے۔ اور یہ کہتے ہیں، سورۃ قلم میں جس قلم کا ذکر ہے اس سے مراد یہی عقلِ اول ہے، یہی عقل خالق و مصور ہے ان کے نزدیک نفسِ کلی سے مراد لوحِ محفوظ ہے ان کے نزدیک عقل نفسِ سابق اور نفسِ تالی ان تینوں کے ذریعہ تمام موجودات پائی جاتیں ہیں۔ (مطالع الشموس- الذخیرۃ فی الحقیقۃ)

یہ ایسی خرفات ہیں جو قرآن پاک میں مذکور نہیں نہ ہی رسول اکرمﷺ نے ان کا ذکر کیا ہے ارشادِ باری تعالیٰ ان کی تردید کرتا ہے:

 فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَيُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَكَ بِالۡعُرۡوَةِ الۡوُثۡقٰى لَا انْفِصَامَ لَهَا‌‌ ؕ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ۞(سورة البقرہ: آیت 256)

ترجمہ: اس کے بعد جو شخص طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آئے گا، اس نے ایک مضبوط کنڈا تھام لیا جس کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں، اور اللہ خوب سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ 

اللہ وحدہ ہی صفات جمال و کمال اور اسماء حسنٰی کا مستحق ہے۔ جس کا یہ عقیدہ ہو کہ اللہ کی صفات غیر میں جلوہ گر ہوجاتی ہے یا کوئی دوسرا اسماءِ الہیٰ اور صفات میں سے معمولی بھی حقدار ہے تو وہ کافر و مشرک ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کو بے مثل پیدا کرنے والا ہے۔ کسی برائی سے پھرنے اور کوئی بھی طاقت اللہ ہی سے ہے آسمان و زمین اور جو کچھ اِن میں ہے سب کا وہی خالق ہے۔ وہی امور کی تدبیر کرتا ہے اور قضا و قدر کے فیصلے کرتا ہے اللہ کے سوا جو کچھ بھی ہے۔ وہ اس کا غلام ہے اور زیرِ فرمان ہے اور اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں اور اس کی جبروت و سلطنت کے سامنے پست ہے کوئی چیز وجود پذیر نہیں ہوسکتی جب تک اللہ اسے وجود نہ بخشے۔ کسی کو بقاء نہیں وہی باقی رکھتا ہے اللہ کی مرضی کے بغیر کوئی نفع نہیں پا سکتا۔ ہر حکم ہر اس کی فرمانواری کے تابع ہے۔ ہر چیز، ہر خیر سے وہی نوازتا ہے، وہی صاحبِ کمال ہے، دوسرے سب ناقص۔ عیب ناک فاقہ مست حاجت مند ذلیل و مسکین نادان اور زیاں کار ہے۔ جسے چاہے اپنے فضل سے نواز دے۔ سب راہِ گم گشتہ ہیں۔ ہدایت یافتہ وہی ہے جسے وہ راہِ راست پہ رکھے۔

سب بھوکے مرتے ہیں، وہ جسے چاہے رزق میں فراوانی دے، سب برہنہ لباس ہیں جسے چاہے وہ لباس زیبِ تن کرائے، سب فقیر ہیں جسے چاہے غناء عطا کرے، وہ لا شریک ہے کوئی مرسل نبی، کوئی مقرب فرشتہ، کوئی عقل اول، کوئی نفس کلیہ، کوئی وصی اس کا شریک نہیں اگر کوئی ان کی شراکت کا عقیدہ رکھتا ہے یہ کافر و مشرک اور دائمی دوزخی ہے دینِ اسلام کا معاند و مخالط ہے۔ یہ حقیقتِ توحید سے نا آشنا ہے اور رسول اکرمﷺ جو نورِ ہدایت لے کر آئے ہیں اِسے قبول نا کرنے کی ضد پر اڑنے والا ناہنجار ہے۔


صفحہ 2 از 2