مکارمہ اسماعیلیوں کے عقائد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مکارمہ اسماعیلیوں کے عقائد

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 1 از 2

مکارمہ اسماعیلیوں کے عقائد

ان کے عقائد پر بحث سے پہلے ہم اسماعیلی مکارمہ کی کتابوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

  1. ان کی ظاہری کتب ہیں۔ 
  2. باطنی کتب

جو ان کی ظاہری کتب ہیں وہ تو عوام کے لیے بھی جائز ہیں۔ خواہ وہ اسماعیلی ہو یا غیر ہو۔ ان میں انہوں نے اپنے مذہب کے عقائد اور افکار اور تعلیمات کی حقیقت کو پتہ نہیں چلنے دیا خفیہ رکھا ہے کچھ ظاہری مسائل بیان کیے ہیں۔ اور جو ان کی باطنی کتب ہیں اور جس عقیدے کے یہ تابع ہیں یہ وہ کتب ہیں ان پر یہ عوام کو مطلع نہیں ہونے دیتے صرف خواص پر ہی آشکار کرتے ہیں۔ انہوں نے ان کی تلاوت سے اپنوں کو بھی روک رکھا ہوتا ہے۔ انہیں پڑھنے کی یا ان سے آگاہ ہونے کی بھی تب اپنوں کو اجازت دیتے ہیں جب ان سے یہ پختہ عہد لیتے ہیں کہ یہ ان کی آگے کسی کو خبر نہ دیں گے۔ حسین بن علی بن ولید ان کا داعی اپنے ایک خاص مرید سے یہ عہد لیتا ہے کہ اس باطنی کتاب سے آگے کسی کو مطلع نہ کریں بس اسے اپنے تک رکھیں۔اس کے الفاظ یہ ہیں:

”میں تجھ سے یہ عہد لیتا ہوں کہ تو اس کتاب پر اسے ہی مطلع کرے گا جسے میں اجازت دوں گا۔ اس پر میں اللہ کا تاکید شدہ عہد لیتا ہوں جو اس نے اپنے مقرب فرشتوں سے لیا ہے اور مرسل نبیوں سے لیا ہے اپنے دین کے ہادی اماموں سے لیا ہے۔ اگر تُو نے یہ عہد پورا نہ کیا تو یہ سب ائمہ تجھ سے بری ہیں تیرا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں کہتا ہے“

لا نسخت منه حرفا ولا اقل ولا اکثر ولا وقف علیه الا انت او من اذنت له بالوقوف علیه وانک تعید الی ھذا النسخة بعد ان تفرغ من قراءتھا واللہ علی ما نقول وکیل  (مقدمہ المبدأ والعماد)

”نہ تو اس میں سے ایک حرف نقل کرے گا اور نہ ہی اس سے کسی کو آگاہ کرے گا مگر اس کے لیے جسے میں اجازت دوں گا۔ اور یہ نسخہ پڑھنے کے بعد مجھے واپس کر دے گا۔ جو بھی ہم عہد و پیمان کر رہے ہیں اللہ اس پر وکیل ہے۔“

میں مؤلف کتاب کہتا ہوں:

مکارمہ اسماعیلی ہمیشہ اپنی کتابوں کو صیغہ راز میں ہی رکھتے آ رہے ہیں۔ اب جب بھی مکرمی اسماعیلی داعی کے پاس آئیں گے آپ ان کے عقیدے کے بارے میں پوچھیں یا ان کتابوں کے بارے میں دریافت کریں جن میں ان کا عقیدہ مرکوز ہو تو یہ پوری غفلت کا اظہار کرتے ہوئے صرف ایک کتاب آپ کے ہاتھ میں تھما دیں گے جو کہ صحیفۃ الصلاۃ ہے۔ یہ نماز کے متعلق چند فقہی مسائل پر مشتمل ہے۔ مگر بعض طبع خانوں نے ان اسماعیلی باطنی فرقہ کی کتابوں کو شائع کر دیا ہے جو انہیں ان کے داعیوں سے ہاتھ لگی تھیں جن سے ان کے مذہب کی بھیانک صورت سامنے آئی۔ جس کو اللہ نے فطرتِ سلیمہ دے رکھی اور وہ فلسفہ الحاد کی بے یقینی کے اندھیروں میں گرنے کے بجائے کتاب و سنت کے روشن میناروں کی طرف آتا ہے۔

مکارمہ کا اللہ کے بارے میں عقیدہ:

یہ اللہ پاک کے بارے میں عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی صفت کے ساتھ موصوف نہیں۔ یہ قرآن و سنت کے صریح خلاف ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے تنزیہہ کے نام پر اس کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں ان کا ایک اہم گھر ابراہیم حامدی اسماعیلی کہتا ہے۔

فلا یقال الیه حیا ولا قادر ولا عالما ولا عاقلا ولا کاملا ولا تاما ولا فاعلا ولا یقال عنه ذات لان کل ذات خاملة للصفة  (کنز الولد)

”اللہ تعالیٰ کو نہ تو زندہ کہا جائے گا نہ قادر نہ عالم نہ عاقل نہ کامل نہ تام نہ فاعل نہ ہی اسے ذات سے تعبیر کیا جائے گا کیونکہ ہر ذات صفت کی حامل ہوتی ہے۔

غور فرمائیے! یہ اللہ تعالیٰ کو اسم اور صفت سے خالی قرار دے رہا ہے۔“

امامت کے بارے میں مکارمہ کا نظریہ:

ان کا امامت کے متعلق نظریہ درج ذیل نکات کے گرد گھومتا ہے۔

1) نقطہ یہ ہے کہ امامت دین کے اساسی ارکان میں شامل ہے۔ ان کا قاضی نعمان لکھتا ہے:

بنی الاسلام علی سبع دعائم الولایة وھی افضلھا واطھارة والصلاة والزکاۃ والصوم والحج والجہاد (دعائم السلام جلد1 صفحہ 2)

اسلام کی بنیاد سات چیزوں پہ ہے:

  1.  ولایت و امامت ہے جو ان میں سے سب سے افضل ہے۔
  2. طہارت
  3. نماز
  4. زکوٰۃ 
  5. روزہ
  6. حج 
  7. جہاد

2) نقطہ یہ ہے کہ ان مکارمہ کا امام واجبِ اطاعت ہے ان کا داعی معز لکھتا ہے:

ان اللہ قد فضلنا وشرفنا واختصنا واجتبانا وافترض طاعتنا علی جمیع خلقه (المجالس و اوالمسایرات)

”اللہ تعالیٰ نے ہمیں شرف اور فضل سے نوازا ہے اور ہمیں خصوصیت سے اور انفرادیات سے نوازا گیا ہے اور ساری مخلوق پر ہماری اطاعت فرض کر دی گئی ہے۔“

3)ان کا عقیدہ ہے کہ زمین کبھی امام سے خالی نہیں ہوئی خواہ وہ امام ظاہر ہو یا مستور ہو ان کا داعی حسن بن نوح کہتا ہے۔

ان الارض لا تخلو طرفة عین من قائم بحق لھدایة عباد اللہ وخلقه اما ظاھرا مشھودا او باطنا مستورا  (الازھار صفحہ 189)

”یہ سرزمین ایک لمحہ بھر بھی اللہ کے بندوں اور اس کی مخلوق کی ہدایت کے لئے امام حق کے لیے خالی نہ ہوگی خواہ وہ ظاہر ہو یا غائب ہو۔“

4) امامت کے بارے میں ان کا عقیدہ ہے کہ امام جو بھی ہو گا سیدنا علیؓ کی اولاد سے ہو گا یعنی حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ سے ہو گا۔ اس کے بعد سیدنا حسینؓ کی اولاد سے ہو گا سیدنا حسنؓ کی اولاد سے نہ ہو گا۔ اس کے بعد اسماعیل کی اولاد سے ہو گا۔ اس کے بعد کسی کی اولاد سے نہ ہو گا۔ (دعائم السلام:جلد1: صفحہ 89 المصابیح فی الاثبات الامامہ للکرمانی: صفحہ 109)

5) ان کا عقیدہ ہے کہ ان کا ہر امام معصوم ہے۔ ان کے عقیدے میں یہ بھی شامل ہے کہ ہر بعد والا امام سابقہ اماموں سے افضل ہوتا ہے۔نعمان کہتا ہے:

لا یاتی امام الا اعطاہ اللہ فضل الامام الذی مضی قبله وعلمه وحکمته (المجالس و المسایرات)

”ہر آنے والے امام کو اللہ تعالیٰ گزشتہ امام سے افضل بناتا ہے۔ علم و حکمت بھی گزشتہ امام سے بہتر ہوتا ہے۔“

حامدی مکرمی کہتا ہے کہ رسول اللہﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے بعض نے نبوت کا اقرار کیا ہے۔ لیکن آپ کے وصی کو تسلیم نہیں کیا رسول اللہﷺ کا اقرار ان کے لیے مفید نہیں کیونکہ آپﷺ نے سیدنا علیؓ کے متعلق جو خلافت کی وصیت کی تھی اسے تسلیم نہیں کیا۔

اسماعیلی مکارمہ کا نظریہ تقیہ:

تقیہ کے بارے میں تمام شیعہ فرقے بڑے فخر سے اقرار کرتے ہیں۔ یہ جعفر صادق سے جھوٹ نقل کرتے ہیں:

التقیہ دینی و دین آبائی۔ (اسرار النطقاء: صفحہ 92)

صفحہ 1 از 2