چوتھا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فقہ و فتاویٰ کے ساتھ…

چوتھا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فقہ و فتاویٰ کے ساتھ گہرا شغف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

39۔ مطلقہ (رجعی) عدت مکمل ہونے سے پہلے اپنے گھر سے نہ نکلے۔

40۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نزدیک جس عورت کا خاوند فوت ہو گیا ہو وہ دورانِ عدت گھر سے باہر جا سکتی ہے کہ شاید کہ یہ فتویٰ اضطراری حالت پر موقوف ہے۔

41۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نزدیک نکاح متعہ حرام ہے۔

42۔ مشروط خرید و فروخت مکروہ ہے۔

43۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فروخت کنندہ کو خریدار سے خریدا ہوا سامان قیمت فروخت سے کم قیمت پر خریدنے سے منع کرتی تھیں جب تک خریدار نے سامان کو اپنے قبضے میں نہ لیا ہو۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بعض آراء فقہیہ میں دیگر صحابہ سے منفرد تھیں۔ جیسے:

1۔ محرم چھوٹا پاجامہ پہن سکتا ہے۔

2۔ ولد الزنا کے لیے نماز کی امامت جائز ہے۔

3۔ حالت امن میں عورت بلامحرم سفر کر سکتی ہے۔

4۔ رمضان میں سفر مکروہ ہے۔

5۔ رضاعت باعث تحریم ہے۔ چاہے وہ ایام رضاعت میں ہو یا کبر سنی میں ہو۔

(موسوعۃ فقہ عائشۃ ام المومنین لسعید فائز دخیل: صفحہ 534)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا شریعت کے ان اسرار، حکمتوں اور مصلحتوں کو سمجھتی تھیں جن پر احکام شریعت کی بنیاد تھی اور وہ ظاہری نصوص پر ہی تکیہ نہ کر لیتی تھیں۔ جیسے:

1۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں مردوں کے ساتھ نماز میں آ جاتی تھیں، انھیں کسی قسم کا تردّد و اندیشہ نہ ہوتا۔ البتہ ان کی صفیں بچوں کی صفوں کے پیچھے ہوا کرتی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عورتوں کو مسجدوں میں آنے سے مت روکو۔ جب نبوت کا مبارک عہد گزر گیا اور کثرت سے غنیمتیں اور اموال آ گئے اور غیر مسلموں کے ساتھ میل جول بڑھ گیا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جدید حالات کا مشاہدہ کیا تو کہا:

’’جو کچھ عورتوں نے نئے نئے طور طریقے اپنا لیے ہیں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیتے تو انھیں ضرور منع کرتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کیا گیا تھا۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 869۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 445)

اگرچہ یہ ایک جزوی واقعہ ہے لیکن یہ اس حقیقت کی دلیل ہے کہ روشن و محکم شریعت کے اکثر احکام ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نظر میں تھے اور انھیں بخوبی علم تھا کہ احکام شریعت حکمتوں اور اسباب پر مبنی ہوتے ہیں۔ لہٰذا جب وہ اسباب اور حکمتیں تبدیل ہو جائیں تو شرعی احکام بھی تبدیل ہو جانے چاہئیں۔

2۔ مکہ مکرمہ کی ایک وادی کا نام محصب ہے۔ حج کے ایام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں پڑاؤ کیا تھا۔ پھر آپﷺ کے خلفائے راشدینؓ نے بھی آپﷺ کی اتباع میں وہاں پڑاؤ کیا اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی رائے میں وادیٔ محصب میں پڑاؤ حج کی سنت ہے لیکن سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اسے سنت نہیں مانتیں اور نہ ہی وہ حج کے دنوں میں وہاں پڑاؤ کرتی تھیں۔ وہ کہتی تھیں:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو وہاں صرف اس لیے پڑاؤ کیا کہ وہ ایک ایسا مقام ہے جہاں سے آپﷺ کے لیے روانگی آسان تھی۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 1765۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1311) 

3۔ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اونٹ پر سوار ہو کر کیا۔ بعض لوگوں نے اس سے یہ سمجھا کہ بیت اللہ کا طواف سوار ہو کر کرنا سنت ہے اور کچھ ائمہ مجتہدین کا بھی یہی مذہب ہے۔ لیکن بات اس طرح نہیں جیسے وہ کہتے ہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سوار ہو کر طواف کرنا مصلحت، حکمت اور سبب کی وجہ سے تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’حجۃ الوداع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا آپﷺ رکن (حجر اسود و رکن یمانی) کا استلام کرتے تھے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ کرتے تو لوگوں کو اس سے ہٹا دئیے جانے کا خوف تھا۔‘‘

(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1274۔ سیرۃ السیدۃ عائشۃ ام المومنین للندوی: صفحہ 287 مفہوما۔)

اس کے علاوہ بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فقاہت کی مثالیں بیان کی جاتی ہیں۔


صفحہ 3 از 3