چوتھا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فقہ و فتاویٰ کے ساتھ…

چوتھا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فقہ و فتاویٰ کے ساتھ گہرا شغف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

وہ سائل کو اطمینان دلاتیں اور کہتی تھیں میں تیری ماں ہوں تو مجھ سے وہ مسئلہ پوچھنے سے مت شرم کر جو مسئلہ تو اپنی ماں سے پوچھ سکتا ہے۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 349۔ سیرۃ السیدۃ عائشہ رضی اللہ عنہا للندوی: صفحہ 330)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا صرف فقہ الحدیث و السنۃ اور اس کے مطابق فتویٰ پر ہی اکتفا نہ کرتی تھیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کتاب و سنت سے مسائل مستنبط کرنے کا بھی خصوصی ملکہ عطا کیا تھا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ سعد بن ہشام رحمہ اللہ ان کے پاس آئے اور کہا میں آپؓ سے تبتل کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس کے بارے میں آپؓ کی کیا رائے ہے؟ انھوں نے فرمایا:

’’تم ایسا ہر گز نہ کرو ، کیا تم نے اللہ عزوجل کا یہ فرمان نہیں سنا:

وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلًا مِّنۡ قَبۡلِكَ وَ جَعَلۡنَا لَهُمۡ اَزۡوَاجًا وَّذُرِّيَّةً ۞ (سورۃ الرعد آیت 38)

ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے ہیں اور انہیں بیوی بچے بھی عطا فرمائے ہیں۔

لہٰذا تو تبتل نہ کر۔‘‘

(سنن ترمذی: حدیث نمبر: 1082 کے بعد۔ سنن نسائی: جلد 6 صفحہ 60۔ مسند احمد: جلد 6 صفحہ 97 حدیث نمبر: 24704۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن نسائی میں کہا اگر سعد سے حسن کا سماع ثابت ہو جائے تو پھر یہ روایت صحیح ہے اور شعیب ارناؤط نے مسند احمد کی تحقیق میں اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔)

سیدہ صفیہ بنت حیی ام المؤمنین رضی اللہ عنہا جب حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ سے واپسی کے دن حائضہ ہو گئیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپﷺ نے فرمایا: ’’کیا اس نے ہمیں روک لیا ہے۔‘‘ کہا گیا وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں۔ تو آپﷺ نے فرمایا: ’’پھر (رکنے کی) ضرورت نہیں۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 1757۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1211)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ استنباط کیا کہ طواف وداع معذور افراد پر واجب نہیں، تو وہ تمام خواتین جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ حج پر جاتیں وہ اسی حکم پر عمل کرتیں۔ عمرہ بنت عبدالرحمٰن کہتی ہیں:

’’ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب حج پر جاتیں اور ان کے ساتھ والی عورتوں کو حیض آنے کا اندیشہ ہوتا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کو نحر والے دن (دس ذوالحجہ) کو طواف افاضہ کے لیے بیت اللہ بھیج دیتیں۔ وہ طواف افاضہ کر لیتیں اور اگر ان کو اس کے بعد حیض آ بھی جاتا تو وہ ان کا انتظار نہ کرتیں بلکہ ان کو ساتھ لے کر مکہ سے نکل جاتیں۔ حالانکہ چند عورتوں کو حیض شروع ہو جاتا، لیکن وہ طواف افاضہ کر چکی ہوتی تھیں۔‘‘

(مؤطا امام مالک: جلد 3 صفحہ 605۔ معرفۃ السنن و الآثار للبیہقی: جلد 7 صفحہ 353، حدیث نمبر: 3191۔ سیرۃ السیدۃ عائشۃ ام المؤمنین للندوی: صفحہ 271۔)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مشہور فقہی آراء درج ذیل ہیں: 

(السیدۃ عائشۃ ام المومنین و عالمۃ نساء العالمین لعبد الحمید طہماز: صفحہ 197۔ سیرۃ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا و جہودہا فی الدعوۃ و الاحتساب للجوہرۃ بنت صالح الطریفی: صفحہ 222، 178۔ و موسوعۃ فقہ عائشۃ ام المؤمنین لسعید فائز دخیل۔)

1۔ ان کے نزدیک بلی کا جوٹھا پاک ہے۔

2۔ فحش کلامی کے بعد وضو مستحب ہے۔

3۔ اپنی بیوی کو چھونے یا بوسہ لینے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔

4۔ ختنے کے مقامات ملنے سے مرد و عورت دونوں پر غسل واجب ہو جاتا ہے اگرچہ انزال نہ ہو۔

5۔ حیض کے آخر میں زرد رنگ حیض میں شامل ہے۔

6۔ مستحاضہ عورت اپنے معمول کے مطابق حیض کے دنوں تک عبادت سے رکی رہے گی پھر ایک بار غسل کر کے ہر نماز کے لیے وضو کرے گی۔

7۔ حیض کا خون کپڑے سے کھرچنے اور دھونے کے بعد اس کا رنگ اگر کپڑے پر باقی رہ جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔

8۔ خاوند اپنی حائضہ بیوی سے سے تلذذ و فائدہ اٹھا سکتا ہے جب اس نے ازار بند باندھا ہوا ہو۔

9۔ جنبی کو جس کپڑے میں پسینہ آئے وہ پاک ہے۔

10۔ نماز عشاء سے پہلے نیند اور اس کے بعد گپ شپ لگانا مکروہ ہے۔

11۔ نمازی نماز کے دوران اپنے پہلو پر ہاتھ نہ رکھے۔

12۔ غلام نماز کی امامت کرا سکتا ہے۔

13۔ دوران سفر پوری نماز پڑھی جا سکتی ہے۔

14۔ فجر کی دو سنتوں میں تخفیف مستحب ہے۔

15۔ عورت جب اکیلے نماز پڑھنا چاہے تو وہ اپنے آپ کے لیے اذان و اقامت کہہ سکتی ہے۔

16۔ بالغ عورت کی نماز بغیر سر ڈھانپے درست نہیں۔

17۔ جمعہ کے دن غسل واجب نہیں۔

18۔ سجدۂ تلاوت واجب نہیں۔

19۔ میت کو اس کے مرنے کی جگہ سے کسی اور جگہ لے جا کر دفن کے لیے منتقل کرنا مکروہ ہے۔

20۔ حاملہ کو حیض نہیں آتا۔

21۔ سویا ہوا بیدار ہو کر اپنے کپڑوں میں تری دیکھے اگرچہ اسے احتلام ہونے کا سبب یاد نہ ہو تو اس پر غسل واجب ہے۔

22۔ مسجد میں میت پر نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے۔

23۔ زیر کفالت یتیموں کے اموال میں سے ان کی زکوٰۃ دینا اور ان کے اموال کے ساتھ تجارت کرنا جائز ہے۔

24۔ عورت کے زیورات کی زکوٰۃ واجب نہیں۔

25۔ قرض میں زکوٰۃ نہیں۔

26۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دورانِ سفر روزہ رکھتی تھیں۔

2ح۔ اگر روزے کی حالت میں روزہ دار اپنی بیوی کا بوسہ لے تو اس سے روزہ ناقص نہیں ہوتا۔ بشرطیکہ بیوی کے لعاب وغیرہ سے خاوند کے پیٹ میں کچھ چلا نہ جائے۔

28۔ روزے دار کو اپنے آپ پر قابو رکھنے کا یقین ہو تو وہ اپنی بیوی سے لذت حاصل کر سکتا ہے۔

29۔ معتکف مریض کی عیادت نہ کرے۔

30۔ ان کے نزدیک حرم مکہ کی طرف قربانی کے لیے جانور بھیجنے سے فقراء پر صدقہ کرنا افضل ہے۔

31۔ احرام کی حالت میں عورت اپنا چہرہ نہ کھولے اور نقاب پہن کر طواف کرے۔

32۔ عورت طواف کے سات چکر مسلسل پورے کرے اور ان کے بعد وہ دو رکعات نفل پڑھے۔

33۔ عورت طواف کرتے وقت غیر محرم مردوں میں نہ گھسے۔

34۔ شادی وغیرہ جیسے معاملات کی ذمہ داری مرد اٹھائیں۔

35۔ ان کے نزدیک ’’قرؤ‘‘ سے مراد طہر ہے۔

36۔ جس عورت سے اس کا خاوند ایلاء کرے تو چار ماہ گزرنے سے اسے طلاق نہیں ہوتی۔

37۔ اگر خاوند اپنی بیوی کو اختیار دے دے کہ وہ اس کے ساتھ رہنا چاہے تو رہے وگرنہ اسے جانے کی اجازت ہے تو یہ طلاق شمار نہیں ہوتی۔

38۔ مطلقہ (رجعی) نان و نفقہ اور مسکن کی حق دار ہے۔

صفحہ 2 از 3