چوتھا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فقہ و فتاویٰ کے ساتھ…

چوتھا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فقہ و فتاویٰ کے ساتھ گہرا شغف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اگر تمام مسلمان خواتین میں سے سب بڑی فقیہہ اور عالمہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ بلکہ تمام صحابہ کرامؓ میں بڑی فقیہہ تھیں۔ عطاء رحمہ اللہ نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تمام لوگوں سے زیادہ فقیہہ، زیادہ عالمہ اور اکثر مسائل میں زیادہ احسن رائے والی خاتون تھیں۔

(اسے لالکائی نے شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ: جلد 8 صفحہ 1521، حدیث نمبر: 2762 میں روایت کیا۔ مستدرک حاکم: جلد 4 صفحہ 15، حدیث نمبر: 6748 اور ذہبی نے التلخیص میں اس روایت پر سکوت اختیار کیا۔

شیخ ابو اسحق شیرازی ( یہ ابراہیم بن علی بن یوسف ابو اسحاق شیرازی شافعی ہیں۔ 393 ہجری میں پیدا ہوئے۔ علم و عمل اور زہد و ورع میں شیخ الاسلام کہلائے۔ بطور حازق مناظر مشہور ہوئے۔ ان کے وزیر نظام الملک طوسی نے مدرسہ نظامیہ بنایا۔ ان کی تصنیفات میں ’’التنبیہ‘‘ اور ’’اللمع‘‘ مشہور ہیں۔ 476 ہجری میں فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 18 صفحہ 452۔ طبقات الشافعیۃ للسبکی: جلد 4 صفحہ 215۔) نے یہ روایت اپنی کتاب طبقات الفقہاء میں صحابہ فقہاء کے ضمن میں نقل کی۔

(طبقات الفقہاء لابی اسحق شیرازی: صفحہ 47۔ الاجابۃ لا یراد ما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابۃ للزرکشی: صفحہ 59)

ابن حزم رحمہ اللہ نے جب ان صحابہؓ کا ذکر کیا جن سے فتاویٰ منقول ہیں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سب سے پہلے تذکرہ کیا۔

(جوامع السیرۃ لابن حزم: صفحہ 319۔ الاجابۃ لا یراد: صفحہ 59)

علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے کہا:

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مطلق طور پر امت کی تمام خواتین میں سے زیادہ فقیہہ ہیں۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 135)

فتویٰ دینے کی نوبت آتی یا کوئی فقہی اشکال ہوتا اکابر صحابہ اسے حل کروانے کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رجوع کرتے۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

’’ہم اصحاب رسول اللہ پر جب بھی کسی حدیث میں کوئی مشکل پیش آتی تو ہم اس کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھتے تو وہ ہمیں ضرور آگاہ کرتیں۔‘‘

(سنن ترمذی: حدیث نمبر: 3883۔ اس نے اسے حسن صحیح کہا ہے۔ الکامل فی الضعفاء لابن عدی: جلد 4 صفحہ 144۔ سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 179 میں ذہبیؒ نے لکھا یہ حسن غریب ہے۔ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ترمذی میں اسے صحیح کہا ہے۔ حدیث نمبر: 3833۔ 

عبدالرحمٰن بن قاسم رحمہ اللہ نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خلافت سیدنا ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم سے لے کر تا حیات افتاء کو جاری رکھا نیز وہ مجھ پر خصوصی شفقت بھی کرتی تھیں۔‘‘

(الطبقات الکبرٰی لابن سعد: جلد 2 صفحہ 375۔ اور ابن عساکر نے تاریخ دمشق: جلد 49 صفحہ 165 پر اسے نقل کیا۔)

محمود بن لبید نے لکھا:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا عمر و عثمان رضی اللہ عنہما کے عہود خلافت سے لے کر تاحیات افتاء سے وابستہ رہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اکابر صحابہ کرامؓ جیسے عمر و عثمان اور دیگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اپنے اشکالات بھیجتے اور سنن نبویہ کے متعلق ان سے پوچھتے رہتے۔‘‘

(الطبقات الکبری لابن سعد: جلد 2 صفحہ 375)

مسروق رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اکابر صحابہ کرام کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرائض (میراث و احکام) کے متعلق سوال کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘

(سنن سعید بن منصور: حدیث 287۔ مصنف ابن ابی شیبۃ: حدیث نمبر 31037۔ سنن دارمی: جلد 2 صفحہ 442، حدیث نمبر: 2859۔ معجم الطبرانی: جلد 23 صفحہ 181، حدیث نمبر: 19245، مستدرک حاکم: جلد 4 صفحہ 12۔)

علامہ ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جن اصحاب کرام رضی اللہ عنہم سے فتاویٰ جات نقل کیے گئے ہیں ان کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب ہیں ان میں مرد و زن سب حضرات شامل ہیں جن میں سے سات بکثرت فتاویٰ دیتے تھے:

(1) سیدنا عمر بن خطاب

(2) سیدنا علی بن ابی طالب

(3) سیدنا عبداللہ بن مسعود

(4) سیدہ عائشہ ام المومنین

(5) سیدنا زید بن ثابت

(6) سیدنا عبداللہ بن عباس اور

(7) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم۔

علامہ ابن حزم رحمہ اللہ نے لکھا درج بالا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہر ایک کے فتاویٰ سے ایک ضخیم مجلد تیار ہو سکتی ہے۔

(اعلام الموقعین عن رب العٰلمین لابن قیم الجوزیۃ: جلد 1 صفحہ 15۔)

علامہ سخاوی ( یہ محمد بن عبدالرحمٰن بن محمد ابو الخیر سخاوی شافعی المذہب ہیں۔ 831 ہجری میں پیدا ہوۓ۔ فقہ، علوم لغت اور قرأت قرآنیہ میں رسوخ حاصل کیا پھر علوم حدیث کی طرف توجہ کی تو خداداد صلاحیتوں کے ساتھ جیسے قرأۃ اور قوت حافظہ کے ذریعے ڈھیر ساری مرویات جمع کر لیں۔ ان کی مشہور تصنیف ’’فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث‘‘ ہے۔ 90 ہجری میں وفات پائیرحمہ اللہ نے لکھا:

’’صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے سات صحابہ بکثرت افتاء کے ساتھ مشہور ہوئے:

(1) عمر، (2) علی، (3) ابن مسعود، (4) ابن عمر، (5) ابن عباس، (6) زید بن ثابت، (7) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم۔

علامہ ابن حزم رحمہ اللہ نے لکھا ممکن ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے فتاویٰ سے ایک ضخیم مجلد تیار کر لی جائے۔

(فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث للسخاوی: جلد 3 صفحہ 117)

علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے لکھا:

’’وہ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ) سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ادوارِ خلافت سے لے کر تاحیات فتاویٰ جاری کرتی رہیں۔‘‘

(اسعاف المبطأ برجال المؤطأ للسیوطی: صفحہ 35)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسائل دینیہ کے متعلق کسی بھی استفتاء سے پریشان نہ ہوتیں اور نہ کسی قسم کی تنگی محسوس کرتی تھیں اور اگر کوئی خاص مسائل ہوتے تو وہ سوال کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتیں اور جو خاص مسائل پوچھنے سے شرماتے تو ان کی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے تربیت کرتیں:

وَاللّٰهُ لَا يَسۡتَحۡىٖ مِنَ الۡحَـقِّ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 53)

ترجمہ: اور اللہ حق بات کہنے سے شرماتا نہیں۔‘‘

صفحہ 1 از 3