حضرت مولانا علامہ علی شیر حیدری شہید رحمۃ اللہ کا فرمان -…

حضرت مولانا علامہ علی شیر حیدری شہید رحمۃ اللہ کا فرمان


صفحہ 2 از 3

 ترجمہ: یہ مؤمن نہیں ہے۔ اس نے کہا تھا میں محبت ہوں، قرآن نے کیا تھا: هُمُ الۡعٰدُوۡنَ‌ (سورۃ المؤمنون: آیت نمبر، 7)یہ دشمن ہے۔ اس نے کہا تھا میں تابعدار ہوں، عملاً ثابت ہوا کہ یہ مخالف ہے۔ اس نے کہا تھا میں سیدنا علی المرتضیٰؓ کا غلام ہوں، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تو میرا غلام ہے تو سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمان غنیؓ میرے امام ہیں تو بھی ان کو مان لے تو کہنے لگے مولا! ہم ان کو نہیں مانتے سیدنا حسنؓ نے اعلان کیا کہ دیکھیں حضرت علیؓ کا وفادار حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حُب دار، بھلا سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ سے بڑا کوئی ہو سکتا ہے؟ نہیں۔

فرمایا! تم نے میری اس بات پر بیعت کی ہے کہ تم مجھے اپنا امام مانتے ہو۔ سیدنا حسنؓ کہتے ہیں کہ تم نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے، وعدہ کیا ہے کہ جس کے ساتھ میں صلح کروں گا ان کے ساتھ تمہاری صلح ہو گی جس کے ساتھ میں جنگ کروں گا اس کے ساتھ تمہاری جنگ ہوں گی۔

سنو! پھر میں نے اُمتِ مسلمہ کے حق میں بہتر سمجھتے ہوئے ، دین اور اسلام کا فائدہ سمجھتے ہوئے سیدنا امیر معاویہؓ کو امیر المؤمنین تسلیم کر کے ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے تم بھی بیعت کر لو۔ مگر وہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے لڑ پڑے کیونکہ خوّان تھے۔

(امام اہلِ سنت کا پیغام سنی قوم کے نام: صفحہ، 10)

ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

ہمارا تو پیغام یہ ہے پروگرام یہ ہے کہ اب کوئی نیا نبی نہیں آئے گا ہر کفر کے ساتھ ٹکر لینا اب علماء حق کا کام ہے اور ان کے ساتھ دینا تمام مسلمانوں کا کام ہے۔ اور ایک کفر کی فکر میں دو کفر جو بنیادی کفر ہیں، جو اسلام کی جڑ کو ہی اتار پھینکنا چاہتے ہیں 

کوئی نماز کا منکر ہو گا، کوئی روزے کا منکر ہو گا کوئی کسی دوسرے مسئلے کا منکر ہو گا وہ بے ایمان ہے، لیکن جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا انکار کرے گا، وہ سب سے بڑا بے ایمان ہے۔ کیونکہ تمام مسائل بتانے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، حضور اکرمﷺ سے کلمہ لے کر اُمت کو دینے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز، روزہ، قرآن، حج، زکوٰۃ لے کر اُمت کو دینے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سارا دین سیکھ کر اُمت کو سکھانے والے اور اُمت کو پہنچانے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں۔ 

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سچے تو سارا دین سچا، اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اگر معاذاللہ کچے سارا دین کچا۔ جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طعن کرتا ہے، جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا منکر ہے، وہ سارے دین کا منکر ہے، کیونکہ سارا دین تو ان ہی کے ذریعے سے آیا ہے۔

(خطبات حیدری: جلد، 2 صفحہ، 354) 

سوال: دیگر کھلے اور ظاہری کفار اور اسلام دشمن طاقتوں کی موجودگی کے باوجود ان اندرونی چھپے ہوئے خطرناک دشمنوں اور بدترین کافر شیعہ کے خلاف آواز بلند کرنا اور ان کا راستہ روکنے میں پہل کرنا کیوں زیادہ ضروری ہے؟ 

جواب: دیگر کفار کے مقابلہ میں شیعوں کا راستہ روکنے اور ان کے خلاف آواز بلند کرنے میں پہل کرنے کی وجہ یہ ارشاد خداوندی ہے:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قَاتِلُوا الَّذِيۡنَ يَلُوۡنَكُمۡ مِّنَ الۡكُفَّارِ وَلۡيَجِدُوۡا فِيۡكُمۡ غِلۡظَةً‌  (سورۃ التوبة: آیت نمبر، 123)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق سب سے پہلے نزدیک والے کافر سے قتال کرنا دیگر کفار کے مقابلے میں یعنی دور رہنے والے کفار سے جنگ کرنے کی بنسبت زیادہ اہم اور ضروری ہے۔

اب ہم اپنے علاقے کے حساب سے دیکھیں تو اس وقت ہمارا سب سے قریبی اور نزدیک کافر اور دین کا سب سے بڑا دشمن شیعہ ہے۔ جو ہمارے قریب بلکہ ہمارے اندر رہتے ہوئے مسلمانوں کے ایمان پر حملہ آور ہے اور وہ بھی اسلام کا لبادہ اُوڑھ کر اور مؤمن کہلوا کر۔ خاص طور پر 1979 عیسوی کو ایران میں خمینی کے شیعہ خونی انقلاب کے بعد سے شیعہ نے جس طرح کھل کر اپنے کفریہ عقائد و نظریات کو اسلام کا نام دے کر ہمارے ملک میں نافذ کرنے اور پھیلانے کی سر توڑ کوششیں شروع کر رکھی ہے۔ اور ہمارے ملک کے جید جید علماء کرام چن چن کر شہید کر دیئے ہیں اور اب تک کئی ہزار سنی علماء، طلباء، وکلاء، تاجر اور جوانوں کو شہید کر چکے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق دیگر کفار کی موجودگی کے باوجود سب سے پہلے شیعہ کا راستہ روکنا اور ان کے خلاف آواز حق بلند کرنا زیادہ مناسب اور ضروری ہے۔

حقیقت میں ہمیں ہر باطل قوت کو اپنا حریف خیال کرنا ہو گا، یہ بات مدنظر رہے کہ کھلے کافروں سے مقابلہ بہت آسان ہے لیکن وہ کافر جس کا دعویٰ اسلام کا ہو، اور وہ اسلام ہی کے نام پر کفر کا مرتکب ہو، اسلام ہی کے نام پر خلفاء راشدینؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کافر و مرتد قرار دے رہا ہو، اس کی حیثیت متعین کر دی جائے تاکہ کفر اور اسلام کے مابین امتیاز پیدا ہو اور غلبہِ اسلام و تحفظ شریعت کے ابلاغ میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ عیسائیوں، یہودیوں، ہندؤوں، سکھوں اور کیمونسٹیوں سے اُمتِ مسلمہ کا اختلاف واضح ہے، ان کفار نے کبھی اسلام کا دعویٰ نہیں کیا، اس لیے ان کی سرگرمیوں سے اُمتِ مسلمہ کو ہوشیار کرنا بہت آسان ہے، لیکن جو اسلام کے نام پر اسلام کی بنیادوں پر کلہاڑی چلا رہے ہیں، غیر اسلامی نظریات کو اسلام کے نام پر فروغ دے رہے ہیں ۔ اسلامی اصطلاحات کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں، تقیہ اور جھوٹ کے پردے میں سادہ لوح عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں، ان کے مقابلے کے لیے ہماری ذمہ داری بھی دو چند ہو جاتی ہے۔ شیعیت کا فتنہ، کفر و ارتداد سے بھی زیادہ خطرناک ہے، کافر یا مرتد کی صحبت کا اثر مسلمان کے دل پر نہیں پڑتا، کیونکہ وہ ایک کھلا ہوا دشمنِ اسلام ہے، اور وہ جو کچھ بکتا اور بکواس کرتا ہے، مسلمان اس کو کافر و مرتد اسلام سے عداوت و عناد پر ہی محمول کرے گا۔

صفحہ 2 از 3