اسماعیلیوں کا تعارف اور اسماعیلی شیعوں کے فرقے - ردِ رافضیت…

اسماعیلیوں کا تعارف اور اسماعیلی شیعوں کے فرقے

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 3 از 3

(6)۔ اس کے بعد ایک اور مرحلہ آتا ہے وہ "تدلیس" کا مرحلہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اسماعیلی عقائد کے اسرار و رموز کو بتدریج آشکار کرنا ہے کیونکہ اسماعیلی داعی فداکار سے مربوط عہد و پیمان لیتا ہے کہ میں مذہب کے قواعد آہستہ آہستہ بتاؤں گا انہیں آگے بیان نہیں کرنا اور یہ داعی اسے یہ تاثر دیتا ہے کہ اس کے پیروکار کثیر تعداد میں ہیں لیکن یہ ان سے نا واقف ہے اسے ان کی مکمل تعداد کا علم نہیں ہوتا۔

(7)۔ اس کے بعد "خلع و سلخ" کا آخری مرحلہ آتا ہے اس کا مطلب ہے کہ اسماعیلی مذہب قبول کرنے والے نے اپنے عقائد اور ارکان دین سے علیحدگی اختیار کر لی ہے اور اسماعیلی خبیث مذہب میں اس کے اعتقادات میں شمولیت اختیار کر لی ہے اس سے یہ"بلاغ اکبر" کہتے ہیں۔

آغا خانی اسماعیلیوں نے "ہونزا" کے علاقہ میں جو کہ پاکستان کے شمال میں علاقہ بڑے وسیع پیمانے پر سرگرمیاں تیز کر رکھی ہیں یہ وہاں اپنی دعوت مدارس اور طبی مراکز کی صورت میں پھیلا رہے ہیں وہاں تو اب یہ حالت ہے کہ ہر بستی میں پرائمری اور تین سکول تو میٹرک تک بھی ہیں جو انہوں نے تیار کر رکھے ہیں اور چند بستیوں کے اہم مقام پر طبی مرکز ہیں جن کی تعداد پانچ ہو چکی ہے یہ ادارے آغا خانی اسماعیلیوں کی زیرِ نگرانی کام کر رہے ہیں یہ آغا خانی اپنی دعوت کو بھی وسیع پیمانے پر پھیلا رہے ہیں اقتصادی ترقی کے پردے میں آغا خانی دعوت کو عام کر رہے ہیں 1988ء میں پاکستان کی وزرات زراعت نے مزارعین میں کھاد تقسیم کی ایک سال بعد 1989ء میں آغا خانی فرقہ کا سربراہ ساری کھاد خرید لیتا ہے اور اسے ذخیرہ کر لیتا ہے اور مزارعوں سے روک لیتا ہے تاکہ یہ کھاد کی ضرورت کے وقت اس سے رجوع کریں اور اس کے خبیث مطالبات کے سامنے سرنگوں ہو جائیں اور اور یہ انہیں اپنی دعوت قبول کرنے پر مجبور کر سکے۔

"فرقہ بہریہ" بھی علمی اور ثقافتی میدان میں بہت زیادہ سرگم عمل اور تنظیم سازی میں بھی بہت چاک و چوبند ہے بہریہ کا امام سیف الدین 1937ء میں قاہرہ کا دورہ کرنے گیا تھا یہ پہلا اسماعیلی لیڈر تھا جو آٹھ صدیوں بعد مصر گیا تھا وہاں سلطان بہری نے مصر کے جمال عبد الناصر کی خدمت میں "عیون الاخبار" جو ادریس عماد الدین کی تالیف ہے اس نے اس کتاب کی فوٹو کاپی پیش کی اور مصری حکومت نے اس کے عوض سلطان اسماعیلی کو قیمتی کپڑے دیے جو اسماعیلی فرقہ کے پرانے مصری دور کے آثار و علامات سے مزین تھے یہ قیمتی ہدیہ 39 قطعات پر مشتمل تھا ہر ایک ٹکڑے پر شیشے کا غلاف چڑھا ہوا تھا جو اب بھی ہندوستان کے اسماعیلیوں کے ممبئی والے دفتر میں موجود ہے اس کے بعد یہ سلطان اسماعیلی متعدد بار ہندوستان میں اور اس سے باہر اپنے فرقہ بہریہ کی دعوت کو منظم کرنے کے لیے سفر کرتا رہا ہے اس کی سربراہی کے دور میں ان کی 350 مساجد تقریباً 300 مدارس تعمیر ہوئے تھے اور بڑے بڑے علمی ادارے اور "سورت" شہر میں جو کہ گجرات انڈیا میں واقع ہے وہاں ایک "سیفیہ" یونیورسٹی بھی اس نے اپنے پیروکاروں کے لیے تعمیر کی تھی جس میں اسماعیلی فرقہ کے طلباء افریقہ یورپ اور عرب ممالک سے یہاں آتے ہیں اور زیورِ تعلیم سے آراستہ ہوتے ہیں یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

غمِ دلفگار:

اسماعیلی بہرہ فرقہ کے امام محمد بن برہان الدین کو جامعہ ازہر کی یونیورسٹی نے ڈاکٹریٹ کی عزازی ڈگری دی ہے یہ 1986ء کی بات ہے یہ اس کی اور اس کے والد کی خدمات کا صلہ تھا اور اس فرقہ بہریہ کی خدمات کا صلہ تھا جو انہوں نے تعلیمی اور ثقافتی میدان میں سر انجام دیں تھی یہ بہریہ فرقہ کا امام وہ چاندی کا مقبرہ دیکھنے مصر گیا تھا جو اس کے والد نے ہدیہ میں دیا تھا اسماعیلی امام نے اس دورہ کے دوران حکومتِ مصر سے تین مطالبات کیے ان میں سے ایک تو قبول ہوا دوسرا قبول نہ کیا گیا اور تیسرا مؤخر کر دیا گیا جو قبول ہوا وہ یہ ہے کہ حاکم بامر اللہ خاتمی کے نام کی یادگار میں یونیورسٹی بنانے دیں اس کی حکومت مصر نے اجازت دے دی اور دوسرا مطالبہ کیا کہ ہمیں جامع خانہ جو ان کا عبادت خانہ ہے بنانے کی اجازت دیں یہ حکومتِ مصر نے قبول نہ کیا اور اس شرط لگا دی کہ یہ اس صورت میں ممکن ہے کہ وہ ہماری نگرانی میں ہوگا اور ہمارے ماتحت ہوگا لیکن یہ نہ مانے تھے تاہم یہ بہریہ فرقہ والے اس علاقے کے اردگرد پھیلتے جا رہے ہیں یہ ان کا عملی قدم ہے جو اس مطالبہ کے حصول کے لیے بہریوں نے اٹھایا ہے اورقبہ سیدنا حسینؓ اور سیدہ زینبؓ کے اصلاحات کے مطالبات لے کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں تاکہ آہستہ آہستہ جامع خانہ بنوائیں تیسرا مطالبہ یہ تھا کہ ازہر یونیورسٹی کی طرز پر ہمیں بھی یونیورسٹی تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے لیکن حکومتِ مصر نے یہ مطالبہ مؤخر کر دیا کہ اس پر ہم غور و فکر کریں گے اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے بہریہ فرقہ کے طلبہ اظہر یونیورسٹی کی طرف ا رہے ہیں اور اس سے الحاق کر رہے ہیں تاکہ یہ مطالبہ بھی پورا ہو۔


صفحہ 3 از 3