اسماعیلیوں کا تعارف اور اسماعیلی شیعوں کے فرقے - ردِ رافضیت…

اسماعیلیوں کا تعارف اور اسماعیلی شیعوں کے فرقے

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 3

(4)۔ اسماعیلی فرقہ بہرہ: یہ ہندوستان اور یمن کے اسماعیلی ہیں انہوں نے سیاست بالکل چھوڑ رکھی ہے تجارت کرتے ہیں یہ ان ہندوستانیوں سے مل کر رہتے ہیں جو مسلمان ہوئے ہیں بہرہ ہندی زبان کا قدیم لفظ ہے اس کا معنیٰ تاج ہے بہرہ فرقہ والے دو ناموں میں تقسیم ہیں۔1۔ بہرہ سلیمانی ہےان کی نسبت سلمان بن حسن کی طرف ہے ان کا مرکز یمن میں ہے بہرہ اسماعیلیوں کا موجودہ بڑا لیڈر جس کا نام ڈاکٹر محمد بن برھان الدین ہے جسے یہ بہت مقدس گردانتے ہیں اور اسے سجدہ کرتے ہیں اس کے قدم چومتے ہیں اس کی بات کو حرف آخر سمجھتے ہیں وہ آج کل بادشاہوں اور رئیسوں کی زندگی گزار رہا ہے اس کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے اور اس کے فرقہ کے ماننے والے تنگدستی محرومی اور فقر کی زندگی گزارتے ہیں یہ لیڈر اپنی پیروکاروں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کرتا اور ان سے ایسے پیش آتے ہیں جیسے ایک آقا اپنے غلام سے پیش آتا ہے اس کے فرقہ کا ہر چودہ برس کا لڑکا اس کا مطیع اور خادم بن جاتا ہے قریب زمانہ کا ایک حادثہ ہوا ہے جس سے بہریوں کے لیڈر کی سنگدلی نمایاں ہوتی ہیں اور انہیں حقوق انسانی سے کتنا دور لے کر مشقت میں ڈال رکھا ہے۔ 1977ء میں ایک اسماعیلی فرقہ کی عورت فوت ہوئی اس کی عمر 65 سال تھی اسے سرکارابی بھی کہتےتھے یہ چمن آذر شہر میں تھی جو گجرات انڈیا کے علاقہ میں واقع ہے اسماعیلی امام نے اسے دفن کرنے سے روک دیا وجہ یہ تھی کہ اس کے خاوند نے جس کی عمر 73 برس تھی اپنے امام کی بات نہ مانی تھی اب مرکزی پارلیمنٹ کے ارکان دہلی میں جمع ہوئے انہوں نے اجازت لے کر دفن کرنے کی اجازت دی اب اس کا جسم بدبو مار رہا تھا وہ بھی مشروط اجازت دی کہ صرف اس کا خاوند اولاد قریبی ہی اس میں شامل ہوں گے اور بغیر نماز جنازہ بغیر کفن اسے دفن کریں گے اس ظلم پر بھی کسی کی جرات نہیں کہ احتجاج کر سکے یا کچھ کہ سکے۔

ایک دفعہ اسماعیلی بہریوں کا لیڈر خلیج ریاستوں میں گیا وہاں اجتماعات کیے لیکچر دیے اور لمبا چوڑا مال جمع کیا اور انہیں برکات اور مغفرتوں کی نوید سنائی یہی اسماعیلی بہرہ کا لیڈر محمد برہان الدین جو ہے اسے خالص چاندی سے تیار شدہ محل ہدیہ دیا گیا جس میں خالص سونے سے آیات نقش تھیں یہ اس قبر کی طرف لے کر جاتا تھا جو سیدہ زینب بنتِ علی رضی اللہ عنہ کی طرف مصر میں منسوب ہے بھی تھی یہ محل ہر طرح کے نقشوں اور نگار کا نمونہ تھا اور یہ میدانِ سیدہ میں لایا گیا جو کہ قاہرہ میں ہے تین لوڈروں پر اسے لاد کر لایا گیا۔

(5) اسماعیلی فرقہ آغاخانی ہے: یہ فرقہ ایران میں 1900ءمیں نمودار ہوا ان کا پہلا سربراہ حسن علی شاہ ہوا ہے اس کے بعد آغا خانی علی شاہ ہوا ہے یہ آغا خان ثانی تھا اس کے بعد اس کا بیٹا محمد حسینی ہے یہ آغا خان ثالث ہے یہ یورپ میں دادعیش دیتا رہا تھا اس کے بعد کریم خان آیا جو کہ آغا خان رابع ہے اب تک یہی ان کا سربراہ چلا آرہا ہے یہ امریکی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر چکا ہے۔ 

اسماعیلیوں کی دعوت کا انداز

اسماعیلی مذہب والوں نے حلیے گھڑے ہوئے ہیں اور عوام کو اپنے مکارانہ جال میں پھنسانے کے لیے اور اپنے عقائد فاسدہ میں لانے کے لیے دام ہمرنگ زمین بچھا رکھا ہے ان کی دعوت کے متعدد مراحل ہیں۔

  1. مرحلہ تفرس ہے اس میں اسماعیلی مذہب کی دعوت دینے والا نہایت ہی ذکی و فطین ہوتا ہے اس کی بات پر گہری نظر ہوتی ہے کہ کہاں ڈھیل کرنا ہے اورکہاں نہیں کرنا اور اسے نصوص کی تاویل پر مکمل عبور حاصل ہوتا ہے اور یہ عوام کو اس بجھارت میں ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ یہ باطن ہے یہ ظاہر ہے اسے یہ بھی قوت حاصل ہوتی ہے کہ وہ مزاج میلان طبع مذہب اور عقیدہ کے مطابق دعوت پیش کرتا ہے اہلِ علم کا ان کے بارے میں تجزیہ ہے: ان الاسماعیلیتہ یھود مع الیھود و مجوس مع المجوس ونصاریٰ مع النصاریٰ و سنتہ مع اھل السنتہ۔

اسماعیلی یہودیوں کے ساتھ یہودی اور مجوسیوں کے ساتھ مجوسی اور عیسائیوں کے ساتھ عیسائی اور اہلِ سنت کے ساتھ سنی بن کر نمودار ہوتے ہیں۔چلو تم ادھر کو ہوا جدھر کی:

  1. مرحلہ"تانیس" ہے یہ انس و اطمینان سے ماخوذ ہے جس می اسماعیلی مذہب کا داعی جسے قربانی کا بکرا بنانا چاہتا ہے اس کے دل کی کھیتی میں اطمینان کا بیج بوتا ہے اس کے تقرب میں رہتا ہے اور دینداری عبادت گزاری اور نرم گفتاری کے پردہ میں اسے قابو کرتا ہے۔
  2.  مرحلہ "تشکیک" ہے تشکیک کا مطلب شک میں مبتلا کرنا اس مرحلہ میں داعی جسے یہ قربانی کا بکرا بنانا چاہتا ہے اسے ذہنی شک کو شہبات میں مبتلا کر دیتا ہے شریعت میں ثابت شدہ چیزیں پچیدہ مسائل اور متشابہ آیات پوشیدہ عدد وغیرہ کے بارے میں ذہنی الجھاؤ پیدا کرتا ہے۔

خلق سبع سموت۔ 

اس نے سات آسمان پیدا کیے۔

اللہ کا فرمان ہے:

و یحمل عرش ربک فوقھم یومئذ ثمانیہ۔

اس دن تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے اٹھائیں گے۔

اور فرمانِ الٰہی ہے:

علیھا تسعہ عشر۔

اس دوزخ پر انیس فرشتے مقرر ہیں۔

چونکہ ان آیات کے بارے میں عوام کا علم سطحی ہوتا ہے یہ گہرے نکات ہیں یہ داعی اس میں شکوک پیدا کر کے دین سے دور کرتا ہے آخر کار وہ آدمی اس میں الجھ کر دین سے باہر ہو جاتا ہے اسماعیلی شیعوں کا یہ مرحلہ نہایت ہی خطرناک ہے۔

(4)۔ "تعلیق" کا مرحلہ ہے یہ اسماعیلی دعوت کا علمبردار ایسے پریشان خیال مسلمانوں کو اپنے اعتقادات کا ہمنوا بنانے کے لیے کوشاں ہوتا ہے تو اسے یہ بتاتا ہے کہ ان پچیدہ سوالات کے جوابات ہمارے پاس ہیں لیکن ہم ہر ایک کے سامنے نمایاں کرنا درست نہیں سمجھتے اور نہ ہی ہر وقت انہیں آشکار کیا جا سکتا ہے جو انہیں حاصل کرنا چاہتا ہو وہ اور جو ان کے معرفت سے آشنا ہونے کا ارادہ رکھتا ہو وہ انہیں صیغہ راز میں رکھنے کا پہلے پختہ عہد و پیمان باندھے یہ راز پھر بتائیں گے اس فریب کاری کی وجہ سے یہ عام مسکین آدمی دھوکہ کی رسی پر لٹک جاتا ہے اس وجہ سے اسے تعلیق کہتے ہیں۔

(5)۔ اس کے بعد ایک مرحلہ آتا ہے اسے "ربط" کہتے ہیں اس کا مطلب ہے کہ سخت قسموں اور پختہ پیمانوں کے ساتھ زبان بندی کردی جاتی ہے کہ اس فرقہ میں داخل ہونے والا اس داعی اسماعیلی نے جو اسے ذکر کیا وہ اسے راز میں رکھے گا افشانہ کرے گا۔

صفحہ 2 از 3