باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟ - سنی شیعہ…

باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 6 از 47

ترجمہ: (مال فئے ) خاص ہے رسول ص کے ساتھ وہ اس میں تصرف کر سکتے ہیں جیسے چاہیں۔ اپنی ذات کے لئے رسول ص مختص کریں یا کسی اور جگہ استعمال کریں۔

تیسرا نکتہ: کیا جس طرح  زمانہ نبیﷺ میں حصہ جاتا تھا ویسے ہی جناب اول کے دور میں دیا جاتا تھا؟ ہرگز نہیں۔ ملاحظہ ہو صحیح السند روایت۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللّٰهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، ‌‌‌‌‌‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ الزُّهْرِيِّ،‌‌‌‏أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ‌‌‌‌‌‏أَخْبَرَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ، ‌‌‌‌‌‏أَنَّهُ جَاءَ هُوَ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يُكَلِّمَانِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا قَسَمَ مِنَ الْخُمُسِ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، ‌‌‌‌‌‏فَقُلْتُ:‌‌‌‏ يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَسَمْتَ لِإِخْوَانِنَا بَنِي الْمُطَّلِبِ، ‌‌‌‌‌‏وَلَمْ تُعْطِنَا شَيْئًا وَقَرَابَتُنَا وَقَرَابَتُهُمْ مِنْكَ وَاحِدَةٌ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‌‌‌‏ إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ جُبَيْرٌ:‌‌‌‏ وَلَمْ يَقْسِمْ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَلَا لِبَنِي نَوْفَلٍ مِنْ ذَلِكَ الْخُمُسِ كَمَا قَسَمَ لِبَنِي هَاشِمٍ وَ بَنِي الْمُطَّلِبِ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَقْسِمُ الْخُمُسَ نَحْوَ قَسْمِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُعْطِي قُرْبَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِيهِمْ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُعْطِيهِمْ مِنْهُ وَعُثْمَانُ بَعْدَهُ.

سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ مجھے جبیر بن مطعمؓ نے خبر دی کہ وہ اور عثمان بن عفانؓ دونوں اس خمس کی تقسیم کے سلسلے میں گفتگو کرنے کے لیے رسول اللہﷺ کے پاس آئے ۱؎ جو آپ نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کے درمیان تقسیم فرمایا تھا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے ہمارے بھائیوں بنو مطلب کو حصہ دلایا اور ہم کو کچھ نہ دلایا جب کہ ہمارا اور ان کا آپ سے تعلق و رشتہ یکساں ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنو ہاشم اور بنو مطلب دونوں ایک ہی ہیں ۲؎ جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپﷺ نے بنی عبد شمس اور بنی نوفل کو اس خمس میں سے کچھ نہیں دیا جیسے بنو ہاشم اور بنو مطلب کو دیا، سیدنا ابوبکر صدیقؓ ۳؎ بھی اپنی خلافت میں خمس کو اسی طرح تقسیم کرتے تھے جیسے رسول اللہﷺ تقسیم فرماتے تھے مگر وہ رسول اللہﷺ کے عزیزوں کو نہ دیتے تھے جب کہ نبی اکرمﷺ ان کو دیتے تھے، حضرت عمر بن خطابؓ اس میں سے ان کو دیتے تھے اور ان کے بعد سیدنا عثمان بن عفانؓ بھی ان کو دیتے تھے۔

البانی نے اس کو صحیح کہا ہے۔ 

 شیعہ مناظر کا مزید گستاخانہ انداز

 بیوقوف انسان! میں نے حدیث رسول ص سے بھی حوالہ دیا ہے کہ یہ ملکیت تھا رسول ص کی اسی وجہ سے ہبہ کیا۔ پھر تقی عثمانی صاحب کا حوالہ دیا۔ جہالت کی حدیں ختم ہو گئیں۔

بیوقوف انسان قائم مقام کے معنیٰ معلوم ہیں؟ رسول ص نے اپنی حیات میں ہی فدک ہبہ کر دیا تھا۔ قائم مقام تک بات ہی نہیں آئی۔ دوسری بات تفسیر صافی والی روایت ضعیف ہے۔ تم کو چیلنج ہے ہبہ والی روایت پر کلام کرکے دکھاؤ، تم صرف بھاگو گے۔ میں نے بسند حسن روایت پیش کی کہ فدک ہبہ ہوا جو کہ ملکیتِ رسول ہونے کی دلیل ہے۔ تم کو چیلنج ہے ایک روایت ہی دو کہ مال فئے ملکیت رسول ص نہیں ہے۔ 

خلاصہ:

 1۔ فدک ملکیت رسول ص ہے

2۔ فدک رسول ص نے جناب زھرا س کو ہبہ کر دیا۔

3۔ جناب زھرا س نے دعویٰ کیا تو گواہ مانگے گئے سب کو رد کردیا اور حق نہ دیا۔

(روایت بسند حسن دیکھا چکا ہوں)

سُنی مناظر: 

شرط 15 ملاحظہ فرمائیں

شیعہ مناظر کی خباثت: شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کو موصوف نے جاہل اور جھوٹا لکھا ہے۔

اور یہاں شاہ صاحبؒ پر شیعہ مناظر نے لعنت کی ہے۔

سنی مناظر: الحمدللہ شرط 15 کو موصوف نے توڑ کر خود اپنی شرط سے اپنی شکست کا اعلان کیا ہے مُجھے معلوم ہے یہ گالیاں کس درد سے نکل رہی ہیں اور چوٹ کہاں لگی ہے۔ مجھے معلوم ہے آپ نے صرف ہبہ پر رٹہ لگایا ہوا ہے اسی لئے ہبہ والی روایت پر بات کرنا چاہتے ہو مگر وہاں تک پہنچنے کی آپ اوقات ہی نہیں رکھتے۔

خاص سے مراد ملکیت ہے یا بطورِ سنبھالنے کہ؟ میں بطورِ سنبھالنے پر تین اسکین دے چکا ہوں۔ اب آپ بھی ہمت کریں ایک صحیح روایت فدک کے ذاتی ملکیت پر  پیش کریں۔

آپ نے دوبارہ ایک مولوی پیش کر دیا ہے۔ کہہ بھی رہے ہو مولوی حجت نہیں اور بار بار مولوی پیش بھی کر رہے ہو اب ہم آپ کی جہالت پر کیا لکھیں؟ سورة حشر کی آیت 6 کے بعد آیت نمبر 7 بھی ہے، اسے کون پڑھے گا؟

فتویٰ دارالعلوم کس نے لکھی ہے؟ انعام الباری کس نے لکھی ہے؟ کیا یہ حدیثیں ہیں تمہاری نظر میں؟ یہ ہے رٹے کا نقصان! جب رٹہ ختم ہوتا ہے تو پھر بار بار وہی پیش کرنا پڑتا ہے۔ شاہ عبدالعزیز صاحبؒ نے بلکل صحیح لکھا ہے اور میں ثابت کر رہا ہوں بےفکر ہو جاؤ۔

اس روایت میں ایک راوی فضیل بن مرزوق ہے جو آپ کی جماعت کا ہے۔

قال عبدالخالق بن منصور عن ابن معین صالح الحدیث الا انه شدید التشیع۔وکان فیه تشیع۔

ترجمہ: فضیل بن مرزوق شدید شیعہ تھا اور اس میں شیعت تھی۔

فضیل بن مرزوق صادق ع کہ اصحاب میں سے تھا۔

استدلال: ان دو حوالوں سے ثابت ہوا کہ فضیل شیعہ تھا اور سخت شیعہ تھا اور اصحاب صادق رح میں سے تھا۔ مطلب پکا شیعہ تھا۔ اب جناب کہے گا کہ شیعت کوئی جرح نہیں، بخاری میں بھی شیعہ راوی ہیں وغیرہ۔ اس پر بھی روشنی ڈالتا جارہا ہوں تاکہ جناب کو پیش کرنے کی تکلیف نہ ہو کیونکہ چھوٹوں پر شفقت کرنا نبی ص کی سنت ہے۔

الا ان یروی ما یقوی بدعته فترد علی المذھب المختار

جب راوی روایت کرے جو اس کی بدعت اور مذہب کو قوت دے وہ روایت رد کی جائے گی۔

ان کان داعیة لمذھبه لم یقبل

صفحہ 6 از 47