باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟ - سنی شیعہ…

باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 5 از 47

سُنی مناظر: یہ آپ کی ذاتی رائے ہے یا آپ کے پاس کوئی معقول دلیل بھی ہے؟ آپ کو غنیمت اور فئے کی تمیز بھی نہیں مناظر صاحب؟ ایک طرف ظاہر کرتے ہیں کہ صرف حدیث رسول اللہﷺ حجت ہے اور کسی عالم کا کوئی قول قابلِ حجت نہیں اور دوسری طرف مجھ سے مطالبہ بھی کر رہے ہیں کہ کسی عالم کے قول سے غنیمت کو بھی خاصہ رسول دکھاؤں، جبکہ غنیمت زیرِ بحث موضوع ہی نہیں اور مناظر صاحب مجھ پر حوالے ضائع نہ کریں ایسے حوالے آپ کو کام آئیں گے، اگر میرے سامنے ضائع کریں گے تو خود ضائع ہو جائیں گے۔

لاتقربو الصلوٰة پڑھ رہے ہو وانتم السکاریٰ کون پڑھے گا؟ آگے بھی پڑہیں۔ نبی کریمﷺ اپنے عیال کا نفقہ ادا فرماتے تھے اپنے اہل بیت کو بھی کچھ حصہ دیا کرتے تھے اور باقی جہاد میں اور فی سبیل اللہ خرچ فرماتے تھے۔ مزید آگے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضورﷺ کے ارشاد کہ مطابق فدک کی  تولیت اپنے پاس رکھی۔ یہاں بھی تولیت یعنی بطور سنبھالنے کہ بات چل رہی ہے جسے آپ نے ذاتی ملکیت ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

دوسری بات مفتی تقی عثمانی صاحب تو عالم ہیں آپ نے تو اوپر کہا کہ عالم غیر معصوم ہے پھر بھی عالم کو ہی پیش کر دیا؟ کیا یہ شرط صرف مجھ پر لاگو ہے آپ اس سے مستثنیٰ ہو؟ سب سے پہلے شرائط کی خلاف ورزی تو آپ نے کی ہے۔ دعویٰ دال اور دلیل چنہ۔

شیعہ مناظر کا اقرار کہ فدک بعد از نبی قائم مقام کا ہے۔

زبردست آپ نے تسلیم کر لیا کہ رسول اللہﷺ کہ بعد باغ فدک اس کے قائم مقام کا ہوگا مطلب رسول اللہﷺ نے فدک سیدہؓ کو نہیں دیا کیونکہ وہ قائم مقام کا ہوگا۔ اس اقرار سے آپ کا دعویٰ بھی باطل ہوا  اور استدلال بھی۔

میں نے کونسے اصول کو توڑا ہے نشاندہی کریں۔

 تفسیر صافی میں موجود یہ قول امام ضعیف ہے تو آپ صحیح سند کہ ساتھ اس کی نفی ثابت کریں۔ ابھی تو فدک کے ہبہ پر بات شروع ہی نہیں ہوئی ہے۔ کوئی ایک روایت صحیح السند ملکیت رسولﷺ پر پیش کریں تاکہ پتہ چلے کہ سامنے والا مناظر ہے ورنہ روتے رہیں گے۔

شیعہ مناظر کی طرف سے غیر علمی گفتگو اور بازاری الفاظ کی شروعات

 شیعہ مناظر: ناظرین اس جاہل انسان کی حالت دیکھی ہے آپ نے؟ ابھی دیکھیے گا اسکو جوتے کیسے پڑتے ہیں۔ بالکل ہی جاہل اور علم سے پیدل انسان ہے یہ۔ جب تم سب جانتے ہوئے جان بوجھ کر ایک ہی بات بار بار کہو گے تو پھر میں جواب تو دوں گا۔ تم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا مخالف ایسا استدلال کرسکتا ہے ہوش اُڑ گئے ہیں تمہارے۔ تمہاری حالت دیکھ کر ترس آتا ہے تم پر۔

جھوٹے پر خدا کی لعنت

پہلے خود عام انسان کی مثالوں کو رسولﷺ پر فٹ کر رہے تھے۔

میں نے دلیل دی ابن حجر سے کہ کچھ چیزیں رسول اللہﷺ اور خدا کے ساتھ مخصوص ہوتی ہیں۔ لہٰذا دلیل باطل ہے۔ اب جھوٹ بک رہے ہو تم۔ بالکل جہالت۔ دیکھو اپنے دار العلوم دیوبند کی ویب سائیٹ اجتہاد فقط تب جائز ہے جب کوئی حکم قرآن و حدیث میں نہ ہو۔

جبکہ سورہ حشر آیت 6 اور جناب عمر کے قول سے فدک رسولﷺ کا خاصہ ہے جہاں چاہیں خرچ کریں جیسے چاہیں خرچ کریں بھلے سارا مال فئے اپنے پاس رکھ لیں نبی کو اختیار ہے لہٰذا اس معاملے میں اجتہاد کسی کام کا نہیں۔ اوئے جاہل مطلق انسان۔ اس جاہل انسان کی حالت دیکھو میں نے قول عالم پیش نہیں کیا تھا بلکہ روایت پیش کی تھی دیوبندی ہو یا بریلوی سب ہی پیدل ہوتے ہیں۔

یہ اوپر روایت کی پوری سند ہے بیوقوف انسان (شیعہ مناظر کا اخلاق ملاحظہ فرمائیں) 

شیعہ مناظر کی طرف سے اہلسنت مقدسات کی واضح توہین اور ذاتیات پر حملے

 شیعہ مناظر: شکریہ بہت بہت یہ اسکین لگا دیا آپ نے۔ اس سے واضح ہو جائے گا سنیوں کا سب بڑا مناظر شاہ عبد العزیز بھی جاہل اور جھوٹا تھا۔ سنیوں کا سب سے چھوٹا مناظر عبد السلام بھی جھوٹا اور جاہل ہے۔ گواہ طلب کرنے والی روایت سنی کتب میں بسند حسن موجود ہے۔ جی ناظرین شاہ عبد العزیز نے دعویٰ کیا ایسی کوئی روایت سنی کتاب میں ہے ہی نہیں۔ میں بسند حسن روایت پیش کرتا ہوں۔

پہلی کتاب تو یہی ہے جس میں یہ روایت موجود ہے۔ یہ سند بھی حسن ہے ویسے۔ مزید حوالہ لو۔

اسناد حسن 

اللہ ج قرآن میں فرماتا ہے لَّعْنَتَ اللّٰہِ عَلَی الْکٰذِبِیۡنَ

مفتے میں شاہ عبد العزیز تے لعنت پوائے۔ (شیعہ مناظر کی ذہنیت نوٹ کریں)

اہلسنت مناظر کی الزامی دلیل

شیعہ مناظر کا رد: اسکے تمام روات شیعہ رجال میں مجہول الحال ہیں  معلوم ہی نہیں کون تھے۔

جبکہ محمد بن زکریا نام کے روایت سنی رجال میں موجود ہیں لہٰذا یہ سنی روایت ہے۔ بالکل ضعیف ہے، حجت نہیں ہے۔

شیعہ کتب میں بسند صحیح گواہ والی روایت

اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے۔ بیٹا جاہل تو تم ہو سنی لائبریری کے سکین اُٹھا کر لے آئے ہو آتا جاتا کچھ ہے نہیں، بھائی دلیل تم دو کسی نے غنیمت کو خاصہ کہا ہو۔

اگر خاصہ کے معنیٰ سنبھالنے کے معنیٰ میں ہے تو مالِ غنیمت بھی رسولﷺ ہی سنبھالتے تھے کوئی غیر نہیں سنبھالتا تھا۔

دکھاؤ کسی عالم نے مال غنیمت کو بھی خاصہ کہا ہو۔ بیٹا کیوں ذلیل ہونا چاہتے ہو مزید؟ فئے وہ مال ہے جو بغیر جنگ کے حاصل ہو، وہ رسولﷺ کا خاصہ ہے انکے لیے مخصوص ہے۔ غنیمت سے مراد وہ مال جو جنگ سے حاصل ہو جس کے مصارف انفال میں موجود ہیں۔

جہالت کی حد جھوٹ کی حد

میں نے حدیث لگائی رسول اللہﷺ نے فدک ہبہ کیا جو اُن کی ذاتی ملکیت ہونے کی قوی دلیل ہے۔ تم میں ہمت ہے تو حدیث لگاؤ کہ فدک رسولﷺ کی ملکیت نہیں تھا۔ باقی خیانت کرنا تو تمہارا کام ہے ابھی شاہ عبد العزیز سے مثال دے چکا ہوں۔ ناظرین اسکی حالت دیکھیں۔ ایک گھنٹے سے شور ڈال رہا ہے فدک کو ملکیت رسولﷺ ثابت کرو۔ اسکرین شاٹ دیکھیں۔

اہل سنت مناظر کی دلیل

شیعہ مناظر کا رد: اس میں واضح لکھا ہے فدک رسولﷺ کی ملکیت ہے۔ آگے جو تم نے highlight کیا ہے اُس سے اسکی ہرگز نفی نہیں ہوتی۔ بیوقوف انسان۔ مال فئے سب کو دینا کیا رسولﷺ پر لازم تھا؟ ہر گز نہیں یہ مال رسولﷺ کا خاصہ تھا جیسے مرضی خرچ کرتے، چاہے خود رکھتے یا کسی اور کو دے دیتے۔ رسولﷺ کا اہل و عیال پر خرچ کرنا ان کی خوشی تھی ناکہ واجب تھا۔

ملاحظہ ہوں۔

صفحہ 5 از 47