باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟ - سنی شیعہ…

باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 47 از 47

2۔ فدک کے ہبہ والی روایت میں ایک راوی فضیل بن مرزوق تھا جو شیعہ ہے۔ ہبہ والی بات اپنے مذہب کی تائید میں بیان کررہا ہے جو کہ سنی و شیعہ  مسلمہ اصول کے مطابق قابل قبول نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اگرچہ فضیل بن مرزوق ثقہ اور صحیح مسلم کا راوی ہے، میں اسی راوی پر جرح مفسر بھی پیش کر چکا ہوں، جبکہ شیعہ مناظر نے اس راوی  کی تعدیل پیش کی۔ جرح و تعدیل کے اصولوں کے مطابق جرح کے سامنے تعدیل کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ خود شیعہ مناظر کے اسکینز سے بھی دکھا دیا، ان کے پیش کیے ہوئے اسکین میں بھی مذکور ہے کہ جرح مطلق قابل قبول ہے۔

 3۔ گواہ والی روایت کا رد صرف اہلسنت کتب سے نہیں بلکہ شیعہ کتب سے بھی میں نے پیش کیا جس پر شیعہ مناظر صرف بدگوئی کرتا رہا لیکن کوئی علمی جواب نہیں دیا۔

4۔ دورانِ مناظرہ شیعہ مناظر نے اپنے خود مقرر کی گئی شرائط کو بھی بار بار توڑا۔

 5۔ میں نے ثابت کیا کہ نہ صرف اہلسنت بلکہ فضیل بن مرزوق   کا شیعہ ہونا  خود شیعہ کتب میں  بھی مذکور ہے۔

6۔ اہلسنت و اہل تشیع کے ہاں متفقہ طور پر تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ بدعتی کی وہ روایت جو اس کے مذہب کی تائید میں ہو وہ قابل قبول نہیں کی جاتی۔

ان تمام دلائل و نکات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شیعہ مناظر اپنے دعوے پر کوئی مضبوط دلیل نہیں رکھتا۔ باغ فدک کے معاملے میں اہل تشیع کا مؤقف باطل اور اہلسنت مؤقف ہی حق ہے۔ 

والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ

فضیل بن مرزوق کے متعلق مزید تفصیل اور سنی و شیعہ کتب سے اضافی اسکین

1۔ راوی فضیل بن مرزوق شیعہ تھا  لیکن ثقہ، ثبت اور صالح تھا۔ اس کی توثیق کئی محدثین نے کی ہے۔ متشدد امام ابن حبان نے اسکو ثقات میں ذکر کیا اور یہ بھی کہا ہے کہ غلطی بھی کر جاتا تھا، خاص طور پر عطیہ سے موضوع روایت مروی ہیں۔ مسند ابی یعلیٰ میں ہبہ والی روایت بھی فضیل بن مرزوق نے عطیہ سے لی ہے۔

فدک خالص رسول اللہﷺ کی ملکیت تھی۔


صفحہ 47 از 47