باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟ - سنی شیعہ…

باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 43 از 47

پہلی بات تو یہ کہ فضیل بدعتی نہیں تھا بلکہ عقیدہ کے لحاظ سے سنی تھا۔

 

لیکن اگر کوئی بدعتی راوی ثقہ ہو اپنی بدعت میں بھی روایت کرے تو قبول ہوتی ہے۔





 

 صاف اسکینز







 

غور فرمائیں۔۔ واضح لکھا ہے کہ شیعہ ثقہ راوی کی بدعت والی روایت اس وقت قبول  ہوگی جب بدعت مکفرہ نہ ہو۔ فدک کا ہبہ ہونا  مطلب پوری صحابہ کرام کی جماعت  اتنے اہم واقعے سے لاعلم تھی یا جان بوجھ کر چھپایا،   اس بدعت کا اثر دین کے  اولین راویوں کے ساتھ براہ راست قرآن و سنت پر ہوتا ہے کیونکہ قرآن و سنت صحابہ کے وسیلے امت تک پہنچا ہے۔ اس سے  بڑی بدعت مکفرہ اور کیاہوگی؟



 

شیعہ مناظر: میں ملکیت پر حدیث اور دو علماء کے اقرار دے چکا ہوں۔ لیں ایک اور حوالہ پیش کرتا ہوں۔

 

فدک ملکیت رسول ص تھا

 

یہ پورا کا پورا  رسول ص کی ملکیت تھا اور رسول ص کا خاصہ تھا اور کسی دوسرے کا اس میں حق نہیں تھا۔

 

بالکل بالکل واضح ہوگیا۔

 

 خلاصہ

 

1۔ فدک رسول ص کی ملکیت تھا

 

2۔ رسول ص جناب زھرا س کو عطاء کردیا

 

3۔ جناب زھرا س نے گواہ دیے رد کردیا حق نہ دیا گیا۔

 

4۔ فضیل بن مرزوق ثقہ سنی عقیدہ راوی تھا اس لیے اُس میں کوئی بدعت نہیں تھی۔

 

 

 

سُنی مناظر:آپ کی لاچاری اور پریشانی میں سمجھ سکتا ہوں۔ کیا اب باغ فدک کے ہبہ پر بات ہوگی۔ آپ نے کیا کہا تھا پچھلی باری میں ذرا  بتا دیں۔ جرح مفسر مقدم ہوتی ہے تعدیل مفسر اور مبھمپر اس کو تو آپ نے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔



 

شیعہ مناظر کی طرف سے بیچ میں دخل اندازی: جرح مفسر کونسے عالم نے بیان کی اور جرح کیا تھی وہ بھی بیان کردیں زرا۔



 

سُنی مناظر: صبر کریں آپ مجھے میری آخری ٹرن پوری کرنے دیں آپ نے نئے حوالے پیش کیے ہیں اور یہ صریح اصول مناظرہ کی خلاف ورزی ہے۔



 

شیعہ مناظر: اوکے آپ کرلیں۔



 

 



 

سُنی مناظر: بیچ میں بولنا یہ آپ کی شکست کی علامت ہے صبر کریں اور اپنے استدلال کا آپریشن دیکھیں۔ معزز قارئین میں نے ایک اصول پیش کیا۔  شیعہ و سنی دونوں کتب سے ، جس میں مذکور تھا کہ جرح مقدم ہوتی ہے تعدیل پر چاہے تعدیل مفسر ہو یا مبھم ہو، موصوف نے اس کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ میں نے سمجھا صدر مناظر مجھے اس کا جواب لے کر دے گا مگر نہیں دلوایا۔

 

الفاظوں کا چناؤ آخر تک شیعہ مناظر نے درست نہیں کیا۔ افسوس ہوا اس بات پر۔





 

اس حدیث میں صاف لکھا ہوا ہے کہہ ان تمام حضرات نے بطور متولی کہ باغ فدک کو سنبھالا جس سے ملکیت کی نفی ثابت ہوگئی اگر ملکیت ہوتی تو متولی کیوں؟ 



 

فضیل بن مرزوق کی توثیق کا جواب

 

سنی مناظر: میری جان کتنی بار کہہ چکا ہوں توثیق تم کو کوئی فائدہ نہیں دے گی ، کیوں بات سمجھ نہیں آرہی آپ کو؟میں نے جرح مفسر پیش کی ہے اور اس کہ مقابلے میں تعدیل کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔



 

فضیل بن مرزوق  اور صحیح مسلم

 

  مطلب وہی ثقہ ہوا نا تمہاری دلیل سے؟ وہیں تعدیل ہوئی جو جرح کہ مقابلہ میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے موصوف ثقہ ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے میں نے کب انکار کیا ہے کہ وہ ثقہ نہیں ہے یا اس کی کسی نے توثیق نہیں کی۔ اگر کہا ہے تو نشاندہی کریں! فضیل بن مرزوق کی توثیق ہے مگر جرح کہ مقابلہ میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔



 

دلیل میزان الاعتدال اور الکاشف کے حوالے

 

یہ حوالہ آپ پہلے بھی پیش کرچکے ہو۔  اس لیے تو کہا کہ نکتہ مکمل ہوا  اور اس کہ ساتھ آپ کا  رٹہ بھی۔ جاہل، پاگل، ذلیل ان الفاظوں کہ علاوہ آپ کے پاس کچھ نہیں ہے۔



 

 

 

چلیں آپ نے یہاں امام نسائی کی جرح مبھم مان لی ہے۔ منکر الحدیث کہنا جرح مفسر نہیں تو میں نے جو حوالہ لگایا ہے اس کو ہاتھ کیوں نہیں لگایا؟





 

جرح مفسر کے لئے جو الفاظ استعمال ہوتے ہیں ان میں منکر الحدیث بھی مذکور ہے جو موصوف کو نظر  نہیں آیا۔اب امام بخاری رح کی طرف آتے ہیں۔





 

قال بخاری منکر الحدیث ونقل ابن قطان ان البخاری قال کل من قلت فیه منکر الحدیث فلاتحل روایة منه.

 

ترجمہ۔ ابن قطان نے نقل کیا ہے کہ امام بخاری رح نے فرمایا ہر روایت یا  راوی جس کہ بارے میں منکرالحدیث کہوں اس سے روایت لینا حلال (جائز) نہیں ہے۔

 

چلیں امام بخاری رح والا روش بھی ختم ہوگیا ۔الحمدلللہ۔ 



 

شیعہ اشکال کا رد: منکر الحدیث ہونا کوئی جرح مفسر نہیں ہے۔

 

سُنی مناظر:  اس کا رد امام بخاری رح کہ قول سے ثابت ہے۔ آپ جرح کہہ رہے ہو امام بخاری تو اس کو قابل حجت ہی نہیں مانتے۔

 

شیعہ اشکال: ابن حبان کی وہ جرح جس میں منفرد ہوں قبول نہیں ہوتی۔

 

سُنی مناظر: منفرد نہیں ہے آپ اوپر اقرار کرچکے ہو صبر اسکرین شاٹ لگاتا ہوں۔



 

یہ لیں آپ نے جرح قبول کی ہے چاہے مبھم ہی کیوں نہ ہو۔ باقی مفسر تو الحمدلللہ میں ثابت کرچکا ہوں اور منفرد کا رد بھی آپ نے خود امام نسائی رح کہ قول سے کردیا ہے۔

 

اور یہ جھوٹ بولتے ہوئے آپ کو شرم نہیں آئی؟ کہاں میں نے کہا ہے کہ جرح مبھم پر ایک بھی تعدیل مقدم ہوتی ہے۔ اب یہ بچ گیا ہے آپ کے  پاس؟ اس میں تفصیل ہے جو میں باربار بیان کرچکا ہوں۔













 

تساھل ابن حبان رح کا رد ملاحظہ فرمائیں









 

امام حاکم رح کہ بارے میں لکھ رہے ہیں مصنف کہ وہ متساھل(سست) تھے ۔ جس کو وہ صحیح کہیں او  اس راوی کہ بارے میں کسی معتمد شخصیت کی تصحیح موجود نہ ہ  اور  نہ کسی نے اس راوی کو ضعیف کہا ہو  تب ہم اس پر حسن کا حکم لگائیں گے مگر یہ کہ کوئی علت اس میں ایسی ظاہر ہو جو اس کہ ضعف کو واجب کرے۔

 

اور صفحہ ٥١ میں لکھا ہے کہ

 

اور قریب ہے اس کہ (یعنی امام حاکم کہ) اس کہ صحیح ہونے کہ حکم میں ابی حاتم اور  ابن حبان۔

 

*



 

استدلال*

 

ابن حبان رح پر مطلق حکم جاری کیا شیعہ مناظر نے بلکہ اس میں تاویل اور قید ہے۔ متساھل/متشدد  کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہر جرح ان کی مردود ہے جو شیعہ صاحب نے مفہوم نکالا  بلکہ اگر کوئی علت ہے جو اس کہ ضعف کو  واجب کرتی ہے تو اس کو ضعیف کہا جائے گا اور علت موجود ہے ضعف کی منکر الحدیث۔





 

بلکل یہ بھی میری تائید میں ہے متشدد کی جرح دوسرے محدثین کے اقوال دیکھے بغیر نہیں لینی چاہیے۔ ہم نے دوسرے محدثین کی جرح دیکھ کر  ہی  فضیل بن مرزوق  کو ضعیف راوی کہا   ہے۔

 

خلاصہ

 

صفحہ 43 از 47