باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟ - سنی شیعہ…

باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 4 از 47

1۔ فدک رسولﷺ کی ملکیت تھا، اسی وجہ سے رسول (اللہﷺ) نے جناب زھرا سیدہ کو ہبہ کر دیا۔

2۔ رسول صادق و امین ہیں اگر فدک کسی غیر کا ہوتا تو کبھی بھی کسی غیر کا حق شہزادی سیدہ کو ہبہ نہ کرتے۔

عجیب بات تو یہ ہے کہ آپ ایک عام بندے کی مثال کو رسولﷺ سے ملا رہے ہیں۔ عام بندہ غیر معصوم بھی ہے اور گنہگار بھی جبکہ رسول معصوم ہے۔ یہ بات آپکی سمجھ میں ایسے نہیں آئے گی دلیل دیتا ہوں۔ 

وأجاب المانعون عن ذلك كله بأن ذلك صدر من الله ورسوله وما أن يخصا من شاءا بما شاءا وليس ذلك خير غيرهما

(فتح الباری :جلد 11 صفحہ 170)

"اور صلوت پڑھنے سے منع کرنے والے علماء ان دلائل کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اللہ اور اسکے رسولﷺ  کا کسی چیز کو کرنا ان کی مرضی ہے کہ وہ کسے مختص کریں اور جس طرح کریں اور کسی غیر خدا اور غیر نبی کو یہ حق نہیں کہ وہ کرے"

استدلال: 

1۔ یہ عقلی بات ہے کہ رسولﷺ  کا ہبہ کرنا اس بات کی قوی دلیل ہے کہ فدک نبی کی ملکیت تھا ورنہ نبی کسی غیر کا حق مار کر (معاذ اللہ) اپنی بیٹی کو نہیں دے سکتے۔

2۔ آپکی عام انسان پر دینے والی مثال کا رد بھی خوب ہوگیا کہ کچھ چیزیں خدا اور نبی کے لیے مخصوص ہوتی ہیں غیر نبی کو حق نہیں ہوتا۔

دعویٰ اور دلیل بالکل ایک ہے اور جو استدلال قائم کیا ہے وہ بھی واضح ہے چونکہ معاملہ رسول امین کا ہے تو ہبہ کے ثابت ہونے سے فدک کا نبی کی ملکیت ہونا اپنے آپ ثابت ہو جاتا ہے، بصورت دیگر رسولﷺ پر خائن کا الزام عائد ہوگا (نقل کفر کفر نباشد) اسے منطق کی زبان میں بیان کروں تو یہ قضیہ  شرطیہ متصلہ لزومیہ ہے۔

شیعہ مناظر کی طرف سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ

اہلسنت مناظر کی دلیل

شیعہ مناظر کا رد:  آپ کا یہ استدلال مبہم ہے۔ یہ ایک عالم کا اجتہاد ہے اور اجتہاد اُس صورت میں ہے جب حدیث اور قرآن نہ ہو جبکہ یہاں قرآنی آیت بھی ہے اور حدیث بھی ہے۔ جناب زھرا سیدہ کا عمل اسکے بالکل بر خلاف ہے۔ جنابِ زھرا س نے خود دعویٰ کیا تھا کہ فدک مجھے نبیﷺ  نے ہبہ کر دیا تھا۔اسی کتاب سے جواب لیں۔

اہلسنت مناظر کی دلیل

شیعہ مناظر کا رد: یہ بات بھی بالکل غلط ہے۔ اگر خاصہ سے مراد سنبھالنے کے معنیٰ میں ہے تو مالِ غنیمت کا سنبھالنا بھی رسولﷺ کے ذمے ہی تھا کہ کس کو کتنا دینا ہے۔ اگر ایسا ہے تو ثابت کریں کسی عالم نے غنیمت کو بھی رسولﷺ  کا خاصہ لکھا ہو۔ آپکی تمام باتوں میں احتمال ہے۔

1۔ پہلی دلیل میں ایک عالم کا اجتہاد ہے وہ بھی جناب زھرا  سیدہ کے عمل کے خلاف۔

2۔ دوسرے حوالے میں خاصہ بالکل غلط تاویل کی ہے، اگر اسے مان لیا جائے تو غنیمت بھی خاصہ ہو جائے گا۔

لہٰذا “اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال

 مطالبہ:

میں نے حدیث رسولﷺ سے استدلال کیا کہ فدک نبی کی ملکیت ہے۔ آپ کو چاہیے کہ حدیث رسولﷺ پیش کریں کہ مال و دولت ملکیت رسولﷺ نہیں ہوتی۔

دوسری دلیل: فدک رسولﷺ کی ملکیت تھا۔ میں تم پر حوالہ جات ضائع نہیں کرنا چاہتا قسم سے۔

ایک حوالہ دے کر آگے جا رہا ہوں اور تمہارے رونے دھونے کو ختم کر رہا ہوں۔ اب ہبہ والی روایت پر کلام کرنا۔

جناب تقی عثمانی صاحب انعام الباری میں لکھتے ہیں۔ 

فدک مال فئے میں داخل ہو گیا، جس کے بارے میں نبی کریمﷺ کو مکمل اختیار حاصل تھا۔ وہ آپﷺ کی ملکیت تھا۔

 آگے جناب نے عجیب و غریب حرکت کی ہے۔ شرائط میں لکھا ہے جب تک ردّ نہیں کر دیتے الزامی جواب نہیں دے سکتے۔ ہر باری میں سنی مناظر شرائط کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔

 اہلسنت مناظر کی دلیل:

شیعہ مناظر کا اقرار کہ فدک بعد از نبی قائم مقام کا ہے۔

شیعہ مناظر: 

1۔ اول اس روایت میں کچھ ہے ہی نہیں اُلٹا میرے حق میں ہی ہے کہ مال فئے اللہ اور رسولﷺ کا ہے اور اس کے بعد قائم مقام کا ہوگا جو ہمارے نزدیک ائمہ اہلبیت ع ہیں۔

2۔ دوم شرائط میں لکھا ہے ایک دوسرے کے اصولوں حدیث پر بات ہوگی۔

3۔ پیش کردہ روایت ضعیف ہے سند ہی نہیں۔

خلاصہ:

 1۔فدک رسولﷺ کی ملکیت تھا۔

 2۔ ملکیت ہونے کی وجہ سے ہی رسولﷺ نے فدک شہزادی سیدہ کو ہبہ کردیا تھا۔

3۔ اہلسنت کی حسن درجے کی روایت سے فدک کا ہبہ کرنا بھی ثابت کر دیا۔ الحمدللہ

سُنی مناظر: دعویٰ اور آپ کے دلائل میں کوئی ربط نہیں ہے۔ آپ کی منطق کے مطابق پہلے ہبہ ہوتا ہے اور بعد میں اس سے ملکیت ثابت ہوتی ہے تو استدلال بھی آپ کا ویسا ہی ہوگا۔  

آپ نے یہ شرط کب لگائی تھی کہ کسی عالم کا قول قابلِ قبول نہیں ہوگا صرف قرآن کی آیت اور حدیث رسول اللہﷺ پیش کی جائیں گی؟ چلیں پیش کریں وہ روایت بھی جس میں مذکور ہے کہ مجھے رسول اللہﷺ نے فدک دیا تھا۔ ان شاء اللہ اس کا ردّ میں صحیح سند سے کروں گا۔

 آپ خود اہلسنت عالم تقی عثمانی کے قول بطور دلیل پیش کر رہے ہیں لیکن مجھے عالم کے قول کو پیش کرنے سے منع کر رہے ہیں یہ کیسی پابندیاں ہیں جو صرف میرے لئے ہیں۔

ایک افسانہ: سیدہ فاطمہ کی طرف سے فدک کے ہبہ کا دعویٰ  

سیدہ فاطمہ کا یہ کہنا کہ رسول اللہﷺ نے مجھے فدک دیا تھا اور اس پر گواہ پیش کئے شیعہ رافضیوں کی جھوٹی کہانی ہے۔

اہلسنت کے نزدیک سیدہ فاطمہؓ کا دعویٰ ہبہ کرنا اور بطورِ گواہ حضرت علی، ام ایمن اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہم اجمعین کو پیش کرنا یہ افتراء جھوٹ ہے۔

اہل سنت مناظر کی طرف سے الزامی دلیل:

گواہ پیش کرنے کہ بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ اس میں سے آپ کا حصہ نکالتے تھے اور باقی کو تقسیم کرتے تھے وغیرہ، تب سیدہ فاطمہؓ نے جواب دیا کہ آپ ویسے ہی کرو جیسے میرے والد کرتے تھے۔

شیعہ مناظر: مکمل ترجمہ کر دیں تمام حوالہ جات کا عام عوام کے لیے۔ شکریہ

سُنی مناظر: عوام کے لیے یا آپ کے لیے؟ بہرحال میں مختصر ترجمہ کررہا ہوں۔ اس میں بھی مذکور ہے کہ سیدہ فاطمہؓ کا دعویٰ فدک کا ہبہ کرنا  اور گواہی میں ان حضرات کو پیش کرنا اس کی کوئی اصل نہیں ہے اور لکھا ہے کہ کوئی ایسی روایت نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ دعویٰ کیا تھا۔

شیعہ مناظر کے اعتراض کا رد:

اگر خاصہ سے مراد سنبھالنے کے معنیٰ میں ہے تو مال غنیمت کا سنبھالنا بھی رسول اللہﷺ کے ذمے ہی تھا کہ کس کو کتنا دینا ہے۔ اگر ایسا ہے تو ثابت کریں کسی عالم نے غنیمت کو بھی رسول اللہﷺ کا خاصہ لکھا ہو۔

صفحہ 4 از 47