باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟ - سنی شیعہ…

باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 39 از 47

بیوقوف انسان جو میں دار العلوم دیوبند کا حوالہ دیا وہاں بھی انہوں نے    روایت سے استدلال کیا ہے ۔ ذاتی قول نہیں ہے  ، اتنا تو علم حاصل کرلو ذاتی قول اور روایت میں فرق کر سکو عجیب ۔ اب مزہ آئے گا رجال کا پنگا لیا میرے ساتھ اب میں بتاؤں گا ، آجاؤ سکھاؤں تم کو رجال۔ہم ان مراحل سے گزریں گے تاکہ معاملہ بالکل واضح ہو جائے۔

 

1۔فضیل بن مرزوق کی توثیق 

 

2۔فضیل میں تشیع تھی؟

 

3۔تشیع سے مراد کیا ہے؟

 

4۔فضیل میں بدعت کیا تھی؟

 

5۔ کیا فضیل پر اس اصول کا اطلاق ہوتا ہے؟

 

فضیل بن مرزوق کی توثیق

 

 





 

امام ذہبی نے الکاشف میں فائنل حکم اس راوی پر جو لگایا ہے وہ  ثقہ کا ہے۔

 

لہذا *فضیل بن مرزوق * بالکل ثقہ راوی ہے ۔



 

فضیل میں تشیع تھی؟

 

اول) پہلے تو ہمیں دیکھنا ہوگا علماء رجال *تشیع سے مراد* کیا لیتے تھے۔

 

دوم) تشیع کیا کوئی بری چیز تھی؟

 

  علمائے رجال کے نزدیک تشیع کی تعریف 







 

امام ابن حجر کہتے ہیں تشیع (شیعہ) سے مراد یہ ہے کہ ایک بندہ جناب عثمان پر امام علی ع کو فضیلت دے یا شیخین کو مولا علی ع سے افضل سمجھے۔ اسکو علمائے رجال تشیع کہتے ہیں۔اس سے کہاں  ثابت ہوتا ہے فضیل بن مرزوق موجودہ شیعہ تھا جو شیخین سے اظہار بیزاری اختیار کرتا تھا؟ عجیب جہالت ہے۔



 

تشیع ہونا بری بات ہے؟

 

قارئین تشیع تو انکے معتبر علماء میں اور صحابہ و تابعین میں بھی تھے۔ ان سے گزارش ہے ہمت کرکے اُن کو بدعتی کہیں۔

 

*امام حاکم نیشاپوری شیعہ تھے*



 

 

 

 





 

جی جناب تو کیا کہیں گیں امام حاکم بدعتی تھے؟ ٹکڑے لینے کے لیے علی معاویہ کو بلا لیا ہے۔



 

صحابہ رض میں تشیع تھی

 

 صحابی رسول جناب ابوطفیل رض بھی شیعہ تھے ۔

 

 





 

 استدلال

 

اگر شیعہ ہونا بدعت ہے تو یہاں لکھے عبد السلام ناصبی کہ *صحابہ اور علماء بدعتی تھے* (معاذ اللہ) پھر بات آگے چلے گی ورنہ اُس سے پہلے یہ اصول پیش کرکے جہالت نہ دکھائے۔



 

کیا فضیل بن مرزوق پر اس اصول کا اطلاق ہوتا ہے؟

 

بالکل نہیں۔ فضیل بن مرزوق بدعتی نہیں تھا اگر بدعتی ہوتا تب دیکھتے ۔ آپ نے فضول میں سکین لگا کر ڈرامے بازیاں کی ہیں۔



 

اہلسنت مناظر نے سُنی و شیعہ کے ہاں متفقہ اصول دکھا کر واضح کیا کہ راوی ثقہ ہونے کے باوجود اپنے مذہب کی تائید میں روایت کرے گا تو قبول نہیں کی جائے گی۔ شیعہ مناظر ان دلائل کا رد نہیں کر سکا اور یہ ممکن بھی نہیں تھا کیونکہ خود اہل تشیع کے ہاں کئی سُنی راوی ثقہ ہیں، لیکن ان راویوں کی ایسی روایات جو شیعیت کے مسلمہ نظریات کے خلاف ہوں تو اسی اصول کے تحت رد کی جاتی ہیں ۔

 

شیعہ مناظر: 

 

مطالبہ: فضیل بن مرزوق میں بدعت ثابت کی جائے ورنہ یہ اصول کسی فائدے کا نہیں۔جہالت کا عالم یہ ہے کہ شیعہ کتب سے اصول حدیث بلاوجہ پھینکنا شروع کردیے ہیں، جس کا کوئی تعلق واسطہ ہی نہیں۔



 

شیعہ مناظر کی دلیل سے براہ راست اس اصول کا تعلق ہے، لیکن شیعہ مناظر کو بداخلاقی سے فرصت ملتی  تو اس اصول پر غور و فکر بھی کرتے!



 

شیعہ مناظر: یہ اصول اور اسکین تمہارے کسی کام کے نہیں کیونکہ یہ ہمارے اصول ہیں لہذا انکا اطلاق شیعہ کتب اور احادیث پر ہوگا نہ کے تمہاری کتب اور احادیث پر ۔سکین دینے سے پہلے دیکھ لیا کرو بیوقوف انسان۔



 

اہل سنت مناظر نے دونوں فریقین کی کتب سے یہ اصول دکھایا۔ سُنی و شیعہ علماء دونوں ہی اس اصول پر عمل بھی کرتے ہیں۔اس موقعہ پر  شیعہ مناظر بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکے تھے اسی وجہ سے  ذاتیات پر اتر آئے۔



 

 باقی فضیل بن مرزوق بدعتی ہی نہیں بات کرنے کا فائدہ ہی نہیں

 

سید خوئی رض کی کتاب  سے سکین پیش کیا کہ عطیہ اصحاب صادق ع میں سے تھا۔

 

  اس سے ثابت ہوتا ہے وہ شیعہ تھا، پھر تو نعمان بن ثابت ابوحنیفہ بھی شیعہ ہوگیا۔سید خوئی رح نعمان بن ثابت ابو حنیفہ کے بارے میں لکھتے ہیں

 

اصحاب صادق ع میں تھا



 

ابو حنیفہ بھی شیعہ ہوگیا؟؟؟ بیوقوف انسان مولا ع کے اصحاب میں تمام مذہب اور طبقے کے لوگ آتے تھے۔



 

شیعہ مناظر:  میں نے  گواہ  والی  بات پرتفسیر القمی سے صحیح السند روایت پیش کی ہے۔   

 

جھوٹوں پر خدا کی لعنت





 

سنی مناظر کی حالت دیکھ سکتے ہیں سب قارئین۔ اب کہتا ہے شیعہ کتب مجھ پر حجت کیسے۔ جاہل انسان تم نے جو الزامی جواب دیا  اُسکا رد کیا ہے کہ ہمارے پاس صحیح السند روایات میں یہ واقعہ موجود ہے۔ جاہل انسان ہو تم،   بالکل چولیاں ماری ہوئی ہیں ساری جاہل نے۔ کیا جواب دے بندہ.

 

میں نے احادیث اور علماء کے اقرار پیش کیے ہیں ملکیت ہونے پر۔ تم بھی ایک حدیث لاؤ کہ باغ فدک نبی کی ملکیت نہیں تھی ۔

 

جہالت کی حد ہے ویسے بے تکی  تاویلات ۔ جناب ابوبکر نے کہا جیسا رسول ص کرتے تھے میں اُس سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹوں گا۔  یہ بوگس دلیل ہے وہ غنی تھے ۔ غنی ہونے سے کیا آپکو آپکے حق سے جدا کیا جا سکتا ہے؟ موصوف کو لگتا تھا کوئی عام بندہ ہوگا کام چل جائے گا دو نمبری کرنا تو سنیوں کی عادت ہے۔ سنی مناظر اصول درائیہ سے بالکل پیدل اور جاھل ہے۔

 

 

 

  

 

شیعہ مناظر: یہ روایت پیش کرکے سُنی مناظر کہتا ہے  کہ اسکو صحیح روایت کہتے ہیں۔



 

حدیث صحیح کا متصل ہونا  لازم ہے۔







 

شیعہ مناظر: حضرت عمر بن عبدالعزیز والی روایت   منقطع ہے۔

 

روایت کے ضعف کی وجہ

 

جناب صاحب رسول ص کی  وفات   632 عیسوی میں ہوئی جبکہ جناب عمر بن عبد العزیز کی  پیدائش   682  عیسوی میں ہوئی ۔ جناب صاحب عمر بن عبد العزیز اور رسول ص میں ۵۰ سال کا فرق ہے۔ منقطع اجماعی طور پر ضعیف ہوتی ہے۔





 

 

 

  شیعہ مناظر:  پس واضح ہوا پیش کردہ روایت مردود ہے

 

 حاشیہ

 

سنی مناظرہ اس قدر جاہل ہے کہ رجال الثقات سے دلیل پکڑ رہا ہے ،بیوقوف انسان ، رجال رجل سے نکلا ہے، رجل کی جمع رجال ہے۔ یعنی اسے راوی ثقہ ہیں یہ کہاں کہا ہے حدیث کی سند صحیح ہے ؟ آجا میرا  بیٹا اصول درائیہ پڑھو تمکو جاہل ہو بالکل، سنی مناظر کی جہالت آشکار ہو چکی ہے۔ اب میں بتاتا ہوں مقبول روایت کس کو کہتے ہیں۔میری  پیش کردہ روایت متصل ہے اسکے روات حسن الحدیث ہیں۔ الحمد للہ





 

 



 

 

 

خلاصہ

 

1۔فدک رسول ص کی ملکیت ہے۔

 

2۔ رسول ص نے جناب زھرا س کو فدک ہبہ کردیا۔

 

3۔ جناب زھرا  س نے گواہ پیش کیے اُن کو رد کردیا گیا اور آپ کو حق نہ دیا گیا۔(بسند حسن)

 

 مطالبہ

 

1۔ صریح صحیح حدیث لاؤ فئے ملکیت رسول ص نہیں ہے۔

 

2۔فضیل بن مرزوق کی بدعت بیان کرو۔ چولیا مار کر وقت ضائع نہ کرنا۔

 

 





 

صفحہ 39 از 47