باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟ - سنی شیعہ…

باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 38 از 47

3۔ جب بدعتی اپنے مذہب کی تائید میں روایت نقل کرے اس کی روایت قابل قبول نہیں ہوگی۔

 

4۔یہ روایت شیعت کو قوت دیتی ہے اور یہ شیعہ مذہب ہے نا کہ سنی مذہب کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے گواہ پیش کیے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے رد کیا وغیرہ۔



 

اہل سنت مناظر کی طرف سے ایک الزامی حوالہ

 

 

 

 

 

لاتقبل روایاتھم فیما یوافق مذھبھم۔

 

ترجمہ: وہ روایت جو راوی کہ مذہب کہ موافق ہو وہ قابل قبول نہیں ہوگی۔

 

الحمدللہ میں نے شیعہ و سُنی  دونو ں   کی کتب سے حجت تمام کردی ہے کہ جو راوی اپنے مذہب کی تائید میں روایت کرے اس کی روایت قابل قبول نہیں ہوگی اور یہ روایت دعوی ہبہ فدک  شیعہ مذہب کی تائید میں ہے اور سنی مذہب  بھی میں نے پیش کردیا ہے۔ پہلی ٹرن میں شاہ صاحب رح کی کتاب تحفہ اثناعشریہ سے۔

 

اگر میں نے کوئی ضعیف روایت پیش کی ہے تو آپ اس کی نفی صحیح سند کہ ساتھ پیش کردیں۔صحیح سند دکھانا صرف مجھ پر لازم نہیں ہے۔

 

آپ نے شیعہ تفسیر قمی کی روایت کیوں پیش کی ہے؟ شیعہ کتب مجھ پر کب سے حجت بن گئیں؟ خیر یہ آپ کی مجبوری ہے۔ آپ مخالف کہ مذہب پر ہو  یا  اپنے مذہب پر؟ آپ مجھے مال غنیمت دکھانے کا بھی کہہ رہے ہیں۔ کیا ہماری بحث مال غنیمت پر ہورہی ہے؟ اور دلیل دینا مدعی کا ذمہ ہوتا ہے  میرے ننھے منھے مناظر۔

 

آپ بار بار اہلسنت کتب سے فدک کے خاص ہونے کو ثابت کر رہے ہیں، جبکہ میں نے اس کا انکار ہی نہیں کیا کیونکہ خاص سے مراد    ذاتی ملکیت آپ نے ثابت کرنا ہے۔ میں نے لفظ خاص کو بطور سنبھالنے پر تین حوالے پیش کئے ہیں۔ 



























 

شیعہ مناظر کا اعتراض: فدک کی آمدنی نبی کی طرح خرچ نہیں کی جاتی تھی۔





 

حضرت ابوبکر نے  بنو ہاشم اور بنو مطلب کو خمس کا حصہ کیوں  نہیں دیا تھا؟

 

ان سب کا اصل خاندان ایک تھا عبدمناف کے چار بیٹے تھے ایک ہاشم جن کی اولاد میں رسول اللہ ﷺ تھے، دوسرے مطلب، تیسرے عبدشمس جن کی اولاد میں عثمان ؓ تھے، اور چو تھے نوفل جن کی اولاد میں جبیر بن مطعم ؓ تھے۔ : ہمیشہ ایک دوسرے کی مدد کرتے رہے اسی لئے کفار نے جب مقاطعہ کا عہد نامہ لکھا تو انہوں نے اس میں بنو ہاشم اور بنو مطلب دونوں کو شریک کیا۔  ابوبکر ؓ نے اس وجہ سے خمس نہیں دیا کہ وہ اس وقت غنی اور مالدار رہے ہوں گے، اور دوسرے لوگ ان سے زیادہ ضرورت مند رہے ہوں گے، جیسا کہ دوسری روایت میں علی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایک حصہ خمس میں سے دے دیا تھا، جب حضرت عمر ؓ نے انہیں حصہ دینے کے لئے بلایا تو انہوں نے نہیں لیا اور کہا کہ ہم غنی ہیں۔

 

آپ  گالیاں دینے سے بہتر ہے ملکیت ثابت کریں ۔ آپ کی جہالت سب کہ سامنے لاؤں گا۔ ان شاء اللہ۔

 

 

 

ترجمہ:عمر بن عبدالعزیز جب خلیفہ مقرر ہوئے تو فرمایا تحقیق رسول اللہ ص کہ پاس فدک تھا  ان میں سے خرچ کرتے تھے اور لوٹاتے تھے اس میں سے بنوھاشم کہ صغیر (یعنی چھوٹے بچوں پر) اور شادیاں کرواتے تھے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ص سے سوال کیا کہ یہ مجھے دیں تب رسول اللہ ص نے انکار کردیا اور ویسے ہی سیدنا ابوبکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما کہ دور میں تھا الخ.....

 

اس کو کہتے ہیں صحیح سند روایت۔امید کرتا ہوں موصوف کو افاقہ ہوگیا ہوگا۔ برائے مہربانی گالیاں نہ دیں میں بھی دے سکتا ہوں مگر نہیں دے رہا کیونکہ اس سے تربیت اور نسل کا پتہ چلتا ہے۔

 

 شیعہ مناظر:   میں نے ذاتی بات کہی یا  روایات اور کتب سے ثابت کیا؟  شاہ عبدالعزیز نے اپنی تحفہ میں لکھا کہ اہلسنت میں اس عنوان کی کوئی روایت موجود ہی نہیں۔ شاہ عبد العزیز نے یہاں یہ نہیں کہا کہ ضعیف ہیں۔ اُس نے بالکل انکار دیا ایسی کوئی روایت سرے سے نہیں ہے۔ میں نے جب روایات پیش کیں تو تم کو ثابت کرنا چائیے تھا کہ سنی کتاب نہیں ہے ورنہ حکم اور جھوٹ واضح ہے۔ 



 

شاہ عبدالعزیز نے تحفہ اثناعشریہ میں باغ فدک کا ہبہ اور گواہ طلب کرنے کے واقعے کا انکار اس لئے کیا ہے کیونکہ اہلسنت کتب میں  یہ واقعہ صحیح روایات سے ثابت ہی نہیں ہے۔ ضعیف روایات اگر موجود بھی ہوں تو قابل حجت نہیں ہوتیں۔ ایسی روایات کا ہونا یا  نہ ہونا  برابر ہے۔

 

 

 

شیعہ مناظر: میں نے لعنت جھوٹوں پر کی ہے۔ شکایت کا مطلب آپ مان گئے شاہ عبد العزیز جھوٹا ہے۔بہت شکریہ



 

(شیعہ مناظر نے باقائدہ نام لیکر اہلسنت عالم کو جھوٹا کہا اور صاف نام لے کر لعنت بھی کی ہے۔ اوپر اسکرین شاٹ بھی دئے گئے ہیں اور سادگی دیکھیں کہ کس طرح معصوم بن رہا ہے۔ اہل تشیع اسی طرح عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔)



 

شیعہ مناظر: باقی روایت کی سند پر کلام آرہا ہے رجال سے ویسے ہی مجھے بہت محبت ہے۔ رٹا رٹایا کون؟ سب دیکھ سکتے ہیں کون موقع پر اصل کتابیں کھول کر حوالے بھیج رہا ہے۔ کون وہی ۱۰ سال پرانے بنے بنائے سکین چلا رہا ہے۔ بیٹا مطالعہ کرو بہت پٹو گے (علمی میدان میں) تم ورنہ۔ جھوٹوں پر خدا کی لعنت۔ عبد السلام ناصبی صاحب نے جھوٹ بولا تین حوالے دیے ہیں۔

 

1۔پہلا حوالہ دیا فیض الباری سے کہ بالکل ہی کمزور اور شاذ قول ہے جس میں احتمال ہی اتنے ہیں لہذا استدلال ہی نہیں بنتا

 

2۔ دوسرا جو پیش کیا وہ تو ہے ہی مبھم دوسرا اُدھر عالم اجتہاد کر رہا ہے کہ جناب زھرا س نے اس وجہ سے ایسا  کیا ہوگا  

 

جسکا  رد میں نے شہزادی س کا اپنا عمل دکھا کر کردیا کہ وہ  فدک کو بابا کی ملکیت سمجھ کر ہی ہبہ کا دعوی کر رہی ہیں کہ بابا رسول ص نے مجھے دے دیا۔ اسکے علاوہ کیا ہے آپ کے پاس ؟

 

فدک کی ملکیت پر دلائل:

 

1۔ حدیث رسول ص بسند حسن  پیش کی ہے کہ شہزادی س کو رسول ص نے باغ ہبہ کردیا اور یہ قضیہ شرطیہ ہے دینے سے ملکیت خود ثابت ہو جاتی ہے۔

 

2۔تقی عثمانی کا حوالہ دیا۔

 

3۔ بدائع واصنائع پیش کی۔

 

مختصر حدیث اور اقرار علماء سے استدلال پکڑا ہے۔

 

 چیلنج

 

حدیث لاؤ کے فدک رسول ص کی ملکیت نہیں تھا۔مولوی پر لعنت ۔ دکھاؤ کب کہا مولوی حجت نہیں ہے!تم پر تو حجت ہے، تم حنفی ہو پورا مذہب بابوں پر ہے۔ ابو حنفیہ کے بارے میں کیا خیال ہے؟

 

صفحہ 38 از 47