باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟ - سنی شیعہ…

باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 37 از 47

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، ‌‌‌‌‌‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ الزُّهْرِيِّ،‌‌‌‏أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ‌‌‌‌‌‏أَخْبَرَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ، ‌‌‌‌‌‏أَنَّهُ جَاءَ هُوَ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يُكَلِّمَانِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا قَسَمَ مِنَ الْخُمُسِ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، ‌‌‌‌‌‏فَقُلْتُ:‌‌‌‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَسَمْتَ لِإِخْوَانِنَا بَنِي الْمُطَّلِبِ، ‌‌‌‌‌‏وَلَمْ تُعْطِنَا شَيْئًا وَقَرَابَتُنَا وَقَرَابَتُهُمْ مِنْكَ وَاحِدَةٌ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‌‌‌‏ إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ جُبَيْرٌ:‌‌‌‏ وَلَمْ يَقْسِمْ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَلَا لِبَنِي نَوْفَلٍ مِنْ ذَلِكَ الْخُمُسِ كَمَا قَسَمَ لِبَنِي هَاشِمٍ وَ بَنِي الْمُطَّلِبِ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَقْسِمُ الْخُمُسَ نَحْوَ قَسْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُعْطِي قُرْبَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِيهِمْ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُعْطِيهِمْ مِنْهُ وَعُثْمَانُ بَعْدَهُ.

 

سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ مجھے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ   وہ اور عثمان بن عفان دونوں اس خمس کی تقسیم کے سلسلے میں گفتگو کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ۱؎ جو آپ نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کے درمیان تقسیم فرمایا تھا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے ہمارے بھائیوں بنو مطلب کو حصہ دلایا اور ہم کو کچھ نہ دلایا جب کہ ہمارا اور ان کا آپ سے تعلق و رشتہ یکساں ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنو ہاشم اور بنو مطلب دونوں ایک ہی ہیں ۲؎ جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عبد شمس اور بنی نوفل کو اس خمس میں سے کچھ نہیں دیا جیسے بنو ہاشم اور بنو مطلب کو دیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ ۳؎ بھی اپنی خلافت میں خمس کو اسی طرح تقسیم کرتے تھے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تقسیم فرماتے تھے * مگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عزیزوں کو نہ دیتے تھے جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو دیتے تھے، * عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس میں سے ان کو دیتے تھے اور ان کے بعد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بھی ان کو دیتے تھے۔

 

البانی نے اسکو صحیح کہا ہے۔ 

 

شیعہ مناظر کا مزید گستاخانہ انداز

 

بیوقوف انسان۔ میں نے حدیث رسول ص سے بھی حوالہ دیا ہے کہ یہ ملکیت تھا رسول ص کی اسی وجہ سے ہبہ کیا۔ پھر تقی عثمانی صاحب کا حوالہ دیا ۔ جہالت کی حدیں ختم ہوگئیں۔

 

بیوقوف انسان قائم مقام کے معنی معلوم ہیں؟ رسول ص نے اپنی حیات میں ہی فدک ہبہ کردیا تھا۔ قائم مقام تک بات ہی نہیں آئی۔ دوسری بات تفسیر صافی والی روایت ضعیف ہے! تم کو چیلنج ہے ہبہ والی روایت پر کلام کرکے دکھاؤ، تم صرف بھاگو گے ۔ میں نے بسند حسن روایت پیش کی کہ فدک ہبہ ہوا جوکہ ملکیت رسول ہونے کی دلیل ہے۔ تم کو چیلنج ہے ایک روایت ہی دو کہ مال فئے ملکیت رسول ص نہیں ہے۔

 

خلاصہ

 

1۔ فدک ملکیت رسول ص ہے

 

2۔فدک رسول ص نے جناب زھرا س کو ہبہ کر دیا۔

 

3۔ جناب زھرا س نے دعوی کیا تو گواہ مانگے گئے سب کو رد کردیا اور حق نہ دیا۔

 

(روایت بسند حسن دیکھا چکا ہوں)

 

سُنی مناظر: 



 

شرط ١٥ ملاحظہ فرمائیں



 

شیعہ مناظر کی خباثت: شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رح کو موصوف نے جاہل اور جھوٹا لکھا ہے۔



 

اور یہاں شاہ صاحب رح  پر شیعہ مناظرنے لعنت کی ہے۔

 

سنی مناظر: الحمدلللہ شرط ١٥ کو موصوف نے توڑ کر خود اپنی شرط سے اپنی شکست کا اعلان کیا ہےمجھے معلوم ہے یہ گالیاں کس درد سے نکل رہی ہیں اور چوٹ کہاں لگی ہے۔ مجھے معلوم ہے آپ نے صرف ہبہ پر رٹہ لگایا ہوا ہے اسی لئے ہبہ والی روایت پر بات کرنا چاہتے ہو مگر وہاں تک پہنچنے کی آپ اوقات ہی نہیں رکھتے۔

 

خاص سے مراد ملکیت ہے یا بطور سنبھالنے کہ؟ میں بطور سنبھالنے پر تین اسکین دے چکا ہوں۔اب آپ بھی ہمت کریں ایک صحیح روایت فدک کے ذاتی ملکیت پر  پیش کریں۔

 

آپ نے دوبارہ ایک مولوی پیش کردیا ہے۔ کہہ بھی رہے ہو مولوی حجت نہیں اور بار بار مولوی پیش بھی کررہے ہو اب ہم آپ کی جہالت پر کیا لکھیں؟ سورة حشر کی آیت 6 کے بعد آیت نمبر 7 بھی ہے، اسے کون پڑ ہے گا؟ 

 

فتوی دارالعلوم کس نے لکھی ہے؟ انعام الباری کس نے لکھی ہے؟ کیا یہ حدیثیں ہیں تمہاری نظر میں؟ یہ ہے رٹے کا نقصان! جب رٹہ ختم ہوتا ہے تو پھر بار بار وہی پیش کرنا پڑتا ہے۔ شاہ عبدالعزیز صاحب رح نے بلکل صحیح لکھا ہے اور میں ثابت کررہا ہوں بے فکر ہوجاؤ۔



 

اس روایت میں ایک راوی فضیل بن مرزوق ہے جو آپ کی جماعت  کا ہے۔

 

  



 

قال عبدالخالق بن منصور عن ابن معین صالح الحدیث الا انه شدید التشیع۔

 

وکان فیه تشیع۔

 

ترجمہ۔فضیل بن مرزوق شدید شیعہ تھا اور اس میں شیعت تھی۔

 

 

 

فضیل بن مرزوق صادق ع کہ اصحاب میں سے تھا۔

 

  استدلال

 

ان دو حوالوں سے ثابت ہوا کہ فضیل شیعہ تھا اور سخت شیعہ تھا اور اصحاب صادق رح میں سے تھا۔ مطلب پکہ شیعہ تھا۔ اب جناب کہے گا کہ شیعت کوئی جرح نہیں ، بخاری میں بھی شیعہ راوی ہیں وغیرہ۔۔ اس پر بھی روشنی ڈالتا جارہا ہوں تاکہ جناب کو پیش کرنے کی تکلیف نہ ہو کیونکہ چھوٹوں پر شفقت کرنا نبی ص کی سنت ہے۔

 

 

 

الا ان یروی ما یقوی بدعته فترد علی المذھب المختار۔

 

جب راوی روایت کرے جو اس کی بدعت اور مذہب کو قوت دے وہ روایت رد کی جائے گی۔



 

ان کان داعیة لمذھبه لم یقبل

 

ترجمہ۔ اگر راوی اپنے مذہب کی طرف داعی ہو اس کی روایت قبول نہیں کی جائے گی۔

 

ان حوالوں سے چند باتیں ثابت ہوئیں۔

 

1۔ فضیل شیعہ راوی ہے۔

 

2۔اصحاب صادق رح میں سے تھا۔

 

صفحہ 37 از 47