باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟ - سنی شیعہ…

باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 36 از 47

میں نے کونسے اصول کو توڑا ہے نشاندہی کریں۔

 

 تفسیر صافی میں موجود یہ قول امام ضعیف ہے تو آپ صحیح سند کہ ساتھ اس کی نفی ثابت کریں۔ ابھی تو فدک کے ہبہ پر بات شروع ہی نہیں ہوئی ہے۔کوئی ایک روایت صحیح السند ملکیت رسول ص پر پیش کریں تاکہ پتہ چلے کہ سامنے والا مناظر ہے ورنہ روتے رہیں گے۔

 

شیعہ مناظر کی طرف سے غیر علمی گفتگو اور بازاری الفاظ کی شروعات

 

 شیعہ مناظر:  ناظرین اس جاھل انسان کی حالت دیکھی ہے آپ نے؟ ابھی دیکھئے گا اسکو جوتے کیسے پڑتے ہیں۔ بالکل ہی جاہل اور علم سے پیدل انسان ہے یہ۔ جب تم سب جانتے ہوئے جان بوجھ کر ایک ہی بات بار بار کہو گے تو پھر میں جواب تو دوں گا۔ تم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا مخالف ایسا استدلال کرسکتا ہے ہوش اُڑ گئے ہیں تمہارے۔ تمہاری حالت دیکھ کر ترس آتا ہے تم پر۔



 

جھوٹے پر خدا کی لعنت

 

پہلے خود عام انسان کی مثالوں کو رسول ص پر فٹ کر رہے تھے ۔

 

میں نے دلیل دی ابن حجر سے کہ کچھ چیزیں رسول ص اور خدا کے ساتھ مخصوس ہوتی ہیں لہذا دلیل باطل ہے۔اب جھوٹ بک رہے ہو تم۔بالکل جہالت۔ دیکھو اپنے دار العلوم دیوبند کی ویب سائیٹ اجتہاد فقط تب جائز ہے جب کوئی حکم قرآن و حدیث میں نہ ہو۔

 

 

 

جبکہ سورہ حشر آیت ۶ اور جناب عمر کے قول سے فدک رسول ص کا خاصہ ہے جہاں چاہیں خرچ کریں جیسے چاہیں خرچ کریں بھلے سارا مال فئے اپنے پاس رکھ لیں نبی کو اختیار ہے لہذا اس معاملے میں اجتہاد کسی کام کا نہیں ۔اوئے جاھل مطلق انسان ۔اس جاھل انسان کی حالت دیکھو میں نے قول عالم پیش نہیں کیا تھا  بلکہ  روایت  پیش کی تھی دیوبندی ہو یا بریلوی سب ہی پیدل ہوتے ہیں۔



 

یہ اوپر روایت کی پوری سند ہے بیوقوف انسان (شیعہ مناظر کا اخلاق ملاحظہ فرمائیں)







 

شیعہ مناظر کی طرف سے اہلسنت مقدسات کی واضح توہین اور ذاتیات پر حملے

 

شیعہ مناظر: شکریہ بہت بہت یہ اسکین    لگا دیا آپ نے۔ اس سے واضح ہو جائے گا سنیوں کا سب بڑا مناظر شاہ عبد العزیز بھی جاھل اور جھوٹا تھا۔سنیوں کا سب سے چھوٹا مناظر عبد السلام بھی جھوٹا اور جاھل ہے۔ گواہ طلب کرنے والی روایت سنی کتب میں بسند حسن موجود ہے۔ جی ناظرین شاہ عبد العزیز نے دعوی کیا ایسی کوئی روایت سنی کتاب میں ہے ہی نہیں ۔ میں بسند حسن روایت پیش کرتا ہوں۔



 

 

 

پہلی کتاب تو یہی ہے جس میں یہ روایت موجود ہے۔ یہ سند بھی حسن ہے ویسے۔ مزید حوالہ لو



 

 

 

 

 

اسناد حسن

 

اللہ ج قرآن میں فرماتا ہے لَّعْنَتَ اللہِ عَلَی الْکٰذِبِیۡنَ

 

مفتے میں شاہ عبد العیز تے لعنت پوائے۔ (شیعہ مناظر کی ذہنیت نوٹ کریں)

 

اہلسنت مناظر کی الزامی دلیل

 

 

 

شیعہ مناظر کا رد: اسکے تمام روات شیعہ رجال میں مجھول الحال ہیں  معلوم ہی نہیں کون تھے۔



 

جبکہ محمد بن زکریا  نام کے روات سنی رجال میں موجود ہیں لہذا یہ سنی روایت ہے ۔بالکل ضعیف ہے، حجت نہیں ہے۔

 

*شیعہ کتب میں بسند صحیح گواہ والی روایت*

 

 





 

اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے۔ بیٹا جاھل تو تم ہو سنی لائبریری کے سکین اُٹھا کر لے آئے ہو آتا جاتا کچھ ہے نہیں، بھائی دلیل تم دو کسی نے عنیمت کو خاصہ کہا ہو۔

 

اگر خاصہ کے معنی سنبھالنے کے معنی میں ہے تو مال غنیمت بھی رسول ص ہی سنبھالتے تھے کوئی غیر نہیں سنبھالتا تھا۔

 

دکھاؤ کسی عالم نے مال غنیمت کو بھی خاصہ کہا ہو۔ بیٹا کیوں ذلیل ہونا چاہتے ہو مزید؟ فئے وہ مال ہے جو بغیر جنگ کے حاصل ہو ، وہ رسول ص کا خاصہ ہے انکے لیے مخصوص ہے۔ غنیمت سے مراد وہ مال جو جنگ سے حاصل ہو ، جس کے مصارف انفال میں موجود ہیں۔

 

جہالت کی حد۔ جھوٹ کی حد

 

میں نے حدیث لگائی رسول ص نے فدک ہبہ کیا جو اُن کی ذاتی ملکیت ہونے کی قوی دلیل ہے۔ تم میں ہمت ہے تو حدیث لگاؤ کہ فدک رسول ص کی ملکیت نہیں تھا۔ باقی خیانت کرنا تو تمہارا کام ہے ابھی شاہ عبد العزیز سے مثال دے چکا ہوں۔ ناظرین اسکی حالت دیکھیں ۔ ایک گھنٹے سے شور ڈال رہا ہے فدک کو ملکیت رسول ص ثابت کرو ۔ اسکرین شاٹ دیکھیں۔

 

 



 

اہل سنت مناظر کی دلیل



 

شیعہ مناظر کا رد: اس میں واضح لکھا ہے فدک رسول ص کی ملکیت ہے۔ آگے جو تم نے highlight کیا ہے اُس سے اسکی ہرگز نفی نہیں ہوتی ۔ بیوقوف انسان۔ مال فئے سب کو دینا کیا رسول ص پر لازم تھا؟ ہر گز نہیں یہ مال رسول ص کا خاصہ تھا جیسے مرضی خرچ کرتے، چاہے خود رکھتے یا کسی اور کو دے دیتے۔ رسول ص کا اہل و عیال پر خرچ کرنا ان کی خوشی تھی ناکہ واجب تھا۔

 

ملاحظہ ہوں۔

 

 

 

 

 

ترجمہ:   (مال فئی ) خاص ہے رسول ص کے ساتھ وہ اس میں تصرف کر سکتے ہیں جیسے چاہیں۔ اپنی ذات کے لئے رسول ص مختص کریں یا کسی اور جگہ استعمال کریں۔

 

 تیسرا نکتہ: کیا جس طرح  زمانہ نبی ص میں حصہ جاتا تھا ویسے ہی جناب اول کے دور میں دیا جاتا تھا؟ ہر گز نہیں۔ ملاحظہ ہوصحیح السند روایت۔

 

صفحہ 36 از 47