باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟ - سنی شیعہ…

باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 34 از 47

ورنہ بات شروع کرو۔ آپ نے خود کہا ہبہ ثابت ہی نہیں۔  جس کا مطلب یہی ہے ملکیت بھی ثابت نہیں۔ میں ہبہ ثابت کروں گا۔ اگر ثابت ہوگیا تو فدک نبی کی ملکیت خود بخود ثابت ہو جائے گا کیونکہ رسول صادق و امین تھے۔

 

  اللہ ج پاک قرآن مجید سورہ اسراء آیت نمبر ۲۶ میں فرماتا ہے۔



 

"وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٝ" (سورت الاسراء 26)

 

 جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول ﷺشہزادی سلام علیہا  کو باغ فدک ہبہ کردیا۔

 

مسند ابو یعلی

 

 سند حسن لذاتہ



 

 

 

 

 

استدلال:

 

1۔ فدک رسول ﷺ  کی ملکیت تھا اسی وجہ سے رسول ﷺ نے جناب زھرا س کو ہبہ کردیا۔

 

2۔رسول صادق و امین ہیں اگر فدک کسی غیر کا ہوتا تو کبھی بھی کسی غیر کا حق شہزادی س کو ہبہ نہ کرتے۔

 

 مخالف سے مطالبہ:

 

1۔ اس روایت کو ضعیف کہہ کر جان چھڑوائے۔

 

2۔اقرار کرے کے معاذ اللہ رسول ﷺ  صادق و امین نہ تھے اُنکی ملکیت نہ تھی ایسے ہی کسی کا حق کھا لیا اور اپنی اولاد کو دے دیا (معاذ اللہ)۔



 

سُنی مناظر: میں پہلے ہی واضح بیان کرچکا ہوں کہ ہماری گفتگو کہ تین جز ہیں۔

 

1۔ فدک خالص رسول اللہ ص کی ملکیت تھی۔

 

2۔  رسول اللہ ص نے سیدہ فاطمہ رض کو ہبہ کیا۔

 

3۔ رسول اللہ ص کہ بعد حضرت ابوبکر صدیق   نے ضبط کرلیا جس پر سیدہ فاطمہ  ان سے ناراض ہوئیں۔

 

قارئین شیعہ مناظر کی چالاکی اور چال بازی ملاحظہ فرمائیں۔ ہمارا نکتہ اوّل فدک کے ملکیت رسول ﷺ ہونے پر تھا۔ اور شیعہ مناظر کو ثابت کرنا تھا کہ فدک خالص رسول اللہ ﷺ  کی ملکیت تھا، اپنے دعوی میں ہبہ ہونے پر دلیل دینے سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ اہل تشیع کے پاس فدک کے ذاتی ملکیت ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے، پہلے نکتے پر شیعہ مناظر  ناکام ہوگیا ہے۔ الحمد لللہ۔

 

اگر شیعہ مناظر نکتہ اول سے واقعی ہاتھ اٹھاتا ہے تو پھر ہم نکتہ دوم یعنی فدک کے ہبہ ہونے پر بات شروع کریں گے۔

 

شیعہ مناظر: جی قارئین انھوں نے اول تو میرے  استدلال   اور  مطالبے   کو ہاتھ ہی نہیں لگایا۔ یہ اصل میں چاہتے تھے مجھ پھنسا سکیں اور بات کو سورہ حشر پر موڑ دیں۔لیکن آپکے بھائی نے اُلٹا  انکو پھنسا دیا ہے۔  ناظرین  ملکیت رسول ﷺ ہونے پر ہمارا استدلال واضح ہے۔

 

استدلال:

 

1۔فدک رسول ص کی ملکیت تھا اسی وجہ سے رسول ص نے جناب زھرا س کو ہبہ کردیا۔

 

2۔  رسول صادق و امین ہیں اگر فدک کسی غیر کا ہوتا تو کبھی بھی کسی غیر کا حق شہزادی س کو ہبہ نہ کرتے۔

 

مطالبہ:

 

1۔ اہلنست مناظر کہہ دے معاذ اللہ رسول ﷺ  صادق و امین نہ تھے کسی غیر کا حق بیٹی کو دے دیا۔

 

2۔اس حدیث کا ہی انکار کر دے۔

 

اسکے علاوہ تیسرا کوئی آپشن نہیں۔ مزید اہلسنت مناظر نے شرائط کی خلاف ورزی کی ہے میرے حوالہ جات سے فرار ہوگیا جواب تک نہ دیا۔



 

جبکہ انہوں نے کلام تک نہ کیا جس سے فدک کا ہبہ ثابت ہے الحمد لللہ

 

سُنی مناظر: آپ کا استدلال پہلے سے طئے شدہ نکتہ اوّل  کے بلکل ہی خلاف ہے۔ اس لیے اس کو ہاتھ لگانے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوئی اور میں  سورت الحشر کے طرف جاکر آپ کو نہیں پھنسا رہا، آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ آپ کو  فدک کا نبی کی ملکیت میں ہونا ثابت کرنا ہے کہ یہ کونسی ملکیت تھی اور کہاں سے ملی تھی؟ اگر آپ ملکیت ثابت کرتے ہیں مسئلہ ہی ختم ہوجائے گا کیونکہ باغ فدک کا ملکیت رسول ﷺ  میں ہونا ثابت ہونے سے سیدہ فاطمہ  کا حق بھی ثابت ہوجائے گا۔

 

شرائط کی خلاف ورزی کا الزام: درحقیقت شرائط کی خلاف ورزی آپ نے کی ہے۔ یہ شرط تھی کہ دعویٰ اور دلیل میں مناسبت اور موافقت ہونا ضروری ہے مگر کوئی موافقت نہیں سب دیکھ رہے ہیں، چلیں اب میں نکتہ اوّل کو ثابت کرتا ہوں کہ فدک ذاتی ملکیت رسول ﷺ  نہیں تھا بلکہ فدک مال فئے تھا، جو بطور سنبھالنے کہ رسول اللہ ﷺ  کو عطا کیا گیا تھا۔





 

وھی انھا فھمت من قوله ماترکنا صدقة *الوقف*ورأت ان حق النظرعلی الوقف۔

 

ترجمہ: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا نے ان کے قول  ماترکنا صدقة  سے وقف سمجھا۔

 

 





 

قد خص رسول ص الخ ای بولایة دون تملک۔

 

ترجمہ۔یعنی رسول اللہ ص نے اس کو خاص کیا تھا بطور سنبھالنے کہ نہ کہ بحیثیت ملکیت کے















 

الزامی حوالہ





 

فدک مال فئے میں سے تھا ۔ مال فئے یعنی جو بغیر جنگ کئے مال حاصل ہوا ہو۔امام صادق رحمتہ اللہ علیہ کی طرف منسوب ہے یہ روایت۔ "وھی لله ورسوله ولمن قام مقامه بعدہ"  یعنی مال فئے اللہ اور اس کہ رسول ﷺ  اور اس کہ لیے ہے جو ان کا قائم مقام ہو۔

 

استدلال:

 

ان حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ باغ فدک ذاتی ملکیت رسول ﷺ  نہیں تھا۔



 

شیعہ مناظر:  میرا استدلال بالکل واضح ہے عزیز دعوی اور دلائل  کا آپس میں ربط ہے۔

 

استدلال:

 

1۔ فدک رسول ﷺ  کی ملکیت تھا ، اسی وجہ سے رسول ص نے جناب زھرا  س کو ہبہ کردیا۔

 

2۔رسول صادق و امین ہیں اگر فدک کسی غیر کا ہوتا تو کبھی بھی کسی غیر کا حق شہزادی س کو ہبہ نہ کرتے۔

 

عجیب  بات تو یہ ہے کہ آپ ایک عام بندے کی مثال کو رسول ﷺ  سے ملا رہے ہیں۔ عام بندہ غیر معصوم بھی ہے اور گنہگار بھی جبکہ رسول معصوم ہے ۔ یہ بات آپکی سمجھ میں ایسے نہیں آئے گی دلیل دیتا ہوں۔



 

وأجاب المانعون عن ذلك كله بأن ذلك صدر من الله ورسوله وما أن يخصا من شاءا بما شاءا وليس ذلك خير غيرهما

 

فتح الباری ج ۱۱ ص۱۷۰

 

"اور صلوت پڑھنے سے منع کرنے والے علماء ان دلائل کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ  کا کسی چیز کو کرنا ان کی مرضی ہے کہ وہ کسے مختص کریں اور جس طرح کریں اور کسی غیر خدا اور غیر نبی کو یہ حق نہیں کہ وہ کرے"

 

استدلال:

 

1۔ یہ عقلی بات ہے کہ رسول ﷺ  کا ہبہ کرنا اس بات کی قوی دلیل ہے کہ فدک نبی کی ملکیت تھا ورنہ نبی   کسی غیر کا حق مار کر (معاذ اللہ) اپنی بیٹی کو نہیں دے سکتے۔

 

2۔ آپکی عام انسان پر دینے والی مثال کا رد بھی خوب ہوگیا کہ کچھ چیزیں  خدا اور نبی کے لیے مخصوص ہوتی ہیں غیر نبی کو حق نہیں ہوتا۔

 

دعوی اور دلیل بالکل ایک ہے اور جو استدلال قائم کیا ہے وہ بھی واضح ہے چونکہ معاملہ رسول امین کا ہے تو ہبہ کے ثابت ہونے سے فدک کا نبی کی ملکیت ہونا  اپنے آپ ثابت  ہوجاتا ہے ، بصورت دیگر  رسول ﷺ  پر خائن کا الزام عائد ہوگا (نقل کفر کفر نباشد) اسے منطق کی زبان میں بیان کروں تو یہ  قضیہ  شرطیہ متصلہ لزومیہ ہے ۔



 

شیعہ مناظر کی طرف سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ



 

اہلسنت مناظر کی دلیل



 

صفحہ 34 از 47