باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟ - سنی شیعہ…

باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 30 از 47

شیعہ مناظر: امام بخاری نے کب کہا فضیل منکر الحدیث ہے؟   فضول میں اسکین بھیج رہے ہیں! نہ کوئی لینا  نہ کوئی دینا ۔ عجیب جہالت ہے ۔  ناصبی عبد السلام چیلنج ہے ثابت کر بخاری نے   فضیل  بن مرزوق کو منکر الحدیث کہا   ہو۔ لہذا فضیل پر کوئی جرح مفسر ثابت ہی نہیں اسی وجہ سے امام مسلم نے اس سے روایت نقل کی ہیں۔ اس جاہل کو یہ بھی نہیں پتا  میزان الاعتدال  میں ذہبی  نے سب کے اقوال جمع کردئے   ہیں۔ ذہبی نے بھی دیکھا تھا  ابن حبان نے کیا کہا ہے۔ پھر بھی   فائنل حکم ثقہ   کا  لگایا۔ کہہ دو امام ذہبی جاہل  تھا۔

 

فضیل کی  روایات پر محققین کی طرف سے صحت کا حکم لگانا

 

امام مسلم نے 2جگہ فضیل سے روایت لی ہے۔

 

حدثنا حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي ، اخبرنا يحيى ابن آدم ، حدثنا  الفضيل بن مرزوق ، عن شقيق بن عقبة ، عن البراء بن عازب ، قال: نزلت هذه الآية: حافظوا على الصلوات وصلاة العصر، فقراناها ما شاء الله، ثم نسخها الله، فنزلت " حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى سورة البقرة آية 238 "، فقال رجل، كان جالسا عند شقيق له: هي إذا صلاة العصر؟ فقال البراء: قد اخبرتك كيف نزلت، وكيف نسخها الله، والله اعلم

 

 اسکو شرم آنی چائیے مسلم کے راوی پر جرح کرتے ہوئے۔ شاہ ولی وللہ کے نزدیک صحیحین کی صحت میں شک کرنے والا بدعتی ہے ۔  مبارک ہو فضیل بدعتی ثابت نہیں ہوا  بلکہ عبد السلام بدعتی ثابت ہوگیا۔



 

شعیب الارنووط کے نزدیک فضیل کی روایات حسن ہیں











 

  لہذا واضح ہوا فضیل بالکل ثقہ راوی ہے۔میں نے فضیل کو سنی المذہب ثابت کیا  اور یہ بھی  ثابت کیا کہ اُس میں کوئی بدعت نہیں تھی۔ اس نے جواب تک نہ دیا اُسکا ، سب کھا گیا ۔ لے آجا پھر موڈ میں ہوں احناف کی کتاب سے دلیل دیتا ہوں۔ راوی بدعتی بھی ہو   تو روایت قبول ہوتی ہے۔

 

امام سخاوی فتح المغیث میں لکھتے ہیں

 

" خطیب نے کہا ؛ یہ مذہب ہے کہ بدعتی کی روایت ہے وہ بھلے داعی ہو یا غیر داعی ہو بس جھوٹ نہ بولتا ہے (ثقہ ہو) امام ابئ لیلی ، سفیان ثوری ، امام ابو حنیفہ  ، امام حکم نے مدخل میں فرمایا اکثر ائمہ کا یہی عقیدہ تھا، امام فخر الدین رازی نے محصول میں کہا یہی حق ہے"

 

(فتح المغیت ج2 ص 66)

 

 راوی فقط ثقہ ہو باقی جو بھی ہو روایت قبول ہوگی۔   

 

گفتگو کا خلاصہ

 

1۔ہم نے ثابت کیا فدک ملکیت رسول ص تھا۔(اسپر حدیث پیش کی ، تقی عثمان پیش کیا ، بدائع صنائع پیش کی ، امام نووی کی شرح پیش کی)

 

2۔ فدک رسول ص نے ہبہ کردیا۔ (حسن درجے کی روایت دی)

 

3۔ شہزادی س سے گواہ  مانگے اُنکو رد کردیا،  حق نہیں دیا۔

 

4۔ فضیل بن مرزوق کی مکمل تعدیل کی، اس پر کی گئی  جرح  کا  رد کیا۔

 

5۔ فضیل کو سنی المذہب ثابت کیا۔

 

6۔ بدعتی کی روایت کا بھی رد کیا۔

 

  سنی مناظر کسی بھی چیز کا جواب نہیں دے سکا ۔ بری طرح  ذلیل ہوا ہے۔

















 

سنی مناظر: آپ نے اپنے آخری ٹرم میں نئے  حوالے پیش کر کے اصول مناظرہ  کی واضح   خلاف ورزی کی ہے۔



 

ایک تو اصول کی خلاف ورزی کی  ، اور پھر بغیر پوچھے گروپ کھولنے کی بات بھی کر  رہے ہو۔

 

آپ نے الزمی جواب دیکر  ایک اور غلطی کی ہے ۔ دوران مناظرہ  پہلے تحقیقی جواب دینا ہوتا ہے ، اس کے  بعد میں الزامی جواب دیا جاتا ہے۔



 

شرط نمبر 10 بھی پہلے سے طئے کی گئی تھی کہ جب تک زیربحث دلیل کا  رد نہ کیا جائے الزامی جواب نہیں دیا جائے گا۔



 

آپ نے موضوع سے ہٹ  کر دلائل کیوں دئے ہیں؟   میں دوبارہ محدثین کا طریقہ کار سمجھاتا ہوں۔

 

امام بخاری رح نے حبیب بن سالم کے بارے میں کہا ہے کہ فیه نظر









 

اسی راوی  حبیب بن سالم سے امام مسلم نے روایت لی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں





 

 ان دو حوالوں سے ثابت ہوا کہ ہر محدث کے حدیث لینے کہ شرائط وضوابط الگ ہیں ۔ ایک ہی راوی  دو محدثین کو قبول اور ناقابل قبول ہوسکتا، یہی نکتہ  شیعہ مناظر کی عقل میں باربار بتانے کہ باوجود گھس نہیں رہا۔ غور فرمائیں امام بخاری رح حبیب بن سالم پر جرح کررہے ہیں اور اسی راوی حبیب بن سالم سے امام مسلم روایت نقل کررہے ہیں۔ ضروری نہیں کہ سب محدث جب منکر الحدیث کو جرح مفسر کہیں تب وہ جرح مفسر ہوگی مناظر صاحب۔  اب شاید بات سمجھ آگئی ہو ۔

 

شیعہ مناظر کو ویسے ہی سمجھانا پڑ رہا ہے جیسے چھوٹے بچے کو قائدہ نورانی اور بغدادی پڑھایا جاتا ہے۔









 

کیا منکر الحدیث ہونا جرح مفسر نہیں؟



 

وذھب القاضی ابوبکر باقلائی وجماعة الي ان جرح مطلق مقبول۔

 

ترجمہ: قاضی ابوبکر الباقلائی اور جماعت اس کی طرف گئی ہے کہہ جرح مطلق قبول ہے۔

 

اس حوالے نے تو قصہ ہی ختم کردیا۔ آپ نے خود  اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماردی !



 

جو بھی روایت منکر کو ذکر کرے اسکے نام کو ضعیف راویوں میں ذکر کیا جائے تو اس صورت میں محدثین میں سے کوئی بھی سالم و صحیح نہیں بچے گا۔ (لسان المیزان)



 

 سنی مناظر: یہ ان کی اپنی تحقیق ہے ۔ پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ سب کا جرح پر  یا  تعدیل پر متفق ہونا ضروری نہیں ہے جس کی مثال میں نے ایک راوی  حبیب بن سالم کی پیش کی ہے۔

 

 شیعہ مناظر: مام بخاری کا منکر الحدیث راویوں سے نقل کرنا  دلیل ہے کہ منکر الحدیث مفسر کلام نہیں۔

 

 سنی مناظر: میں اس کا رد بھی کر چکا ہوں۔ امام بخاری رح کا منکر الحدیث کو حجت نہ سمجھنا یہ بات  ہمارے لئے حجت  ہے؟

 

  میں ثابت کرچکا ہوں کہہ امام بخاری رح منکر الحدیث کو قابل حجت نہیں مانتے بلکہ اس کو مردود کہتے ہیں۔  کیا  احمد بن شہیب کو خود امام بخاری رح نے بھی منکر الحدیث کہا ہے؟میں نے جو حوالہ پیش کیا ہے وہ خود امام بخاری سے دیا ہے آپ بھی مہربانی کرکے اس راوی کو امام بخاری سے منکر الحدیث ثابت کریں۔

 

آپ  دوران مناظرہ مسلسل  بداخلاقی اور بدگوئی کے مرتکب ہوتے رہے ہیں۔  میں نے کوشش کی  بدزبانی کی مگر غلط الفاظ پتہ نہیں کیوں میری زبان سے نہیں نکل سکے،  اور ویسے بھی ایک عالم اور جاہل کہ درمیان فرق ہونا ضروری ہے۔  

 

 آپ نے ایک راوی  عکرمہ کی بات کی ہے۔ کیا عکرمہ کو  خود امام بخاری رح نے  بھی  کذاب کہا ہے؟

 

ابن ابان کا تساہل اور متشدد  رویہ

 

صفحہ 30 از 47