باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟ - سنی شیعہ…

باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 47

11۔ اہل سنت مناظر ایسا کوئی حوالہ پیش کرنے کا مجاز نہ ہوگا جس کا تعلق فی الوقت زیرِ بحث نکتے کے ساتھ نہ ہو۔ 

12۔ اہل سنت مناظر جواب دعویٰ کے طور پر جس دلیل کو اپنائے گا تمام تر ثبوت و شواہد محض اسی کی موافقت میں پیش کرنے کا پابند ہوگا نیز ایسا کوئی حوالہ قابل قبول نہیں ہوگا جس کا تعلق اہل سنت کے جواب دعویٰ میں پیش کی گئی دلیل سے نہ ہو۔  

13۔ ہر مناظر اپنی ٹرن مکمل کر کے ختم یا END لکھے گا جس کے بعد دوسرا مناظر اپنی ٹرن شروع کرے گا۔

14۔ مناظرہ تحریری شکل میں کیا جائے گا.

15۔ دونوں مناظر ایک دوسرے کے اصول درائیہ و جرح تعدیل کے پابند ہونگے۔

16۔ مقدسات کی توہین پر شکست ہوگی۔

نوٹ: تمام تر شرائط پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا اور شرائط کی خلاف ورزی کرنے والی کی شکست تسلیم کی جائے گی۔

دعویٰ اہل تشیع

بسم اللہ

اللھم صلی علی محمد و آل محمد 

1: فدک رسول(ﷺ) نے اپنی حیات طیبہ میں ہی شہزادی (سیدہ) کو ہبہ کر دیا تھا جو کہ دلیل ہے کہ فدک رسول (اللہﷺ )کی ذاتی ملکیت تھا اسی بنا پر ہبہ کیا۔

2: جب شہزادی س نے مطالبہ کیا تو اُنکو نہ دیا گیا۔

3: شہزادی سیدہ ناراض ہو گئیں اور ناراضگی زھرا سیدہ ناراضگی محمد مصطفی (ﷺ) ہے اور جس سے محمد مصطفی ص ناراض ہوں خدا بھی اُس سے راضی نہیں ہوتا۔

سُنی مناظر: پھر وہی روش؟

شیعہ مناظر: جواب دعویٰ لکھو۔ میری بات سچی ہے تم ردّ کرو! خود اقرار کیا تمہارے عقیدہ میں رسول(ﷺ) ایماندار ہیں۔

پھر وہ کسی غیر کا حق ہبہ کیسے کر سکتے ہیں جناب؟؟ یا کہہ دو سنی عقیدہ میں رسول(ﷺ) صادق و امین نہیں میں بدل دیتا ہوں۔

ورنہ بات شروع کرو۔ آپ نے خود کہا ہبہ ثابت ہی نہیں۔  جس کا مطلب یہی ہے ملکیت بھی ثابت نہیں۔ میں ہبہ ثابت کروں گا۔ اگر ثابت ہوگیا تو فدک نبی کی ملکیت خود بخود ثابت ہو جائے گا کیونکہ رسول صادق و امین تھے۔

اللہ پاک قرآن مجید سورہ اسراء آیت نمبر 26 میں فرماتا ہے۔

"وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ" (سورۃ الاسراء آیت 26)

 جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسولﷺ شہزادی سلام علیہا کو باغ فدک ہبہ کر دیا۔

مسند ابو یعلی

سند حسن لذاتہ

استدلال:

1۔ فدک رسولﷺ  کی ملکیت تھا اسی وجہ سے رسولﷺ نے جناب زھرا سیدہ کو ہبہ کردیا۔

2۔رسول صادق و امین ہیں اگر فدک کسی غیر کا ہوتا تو کبھی بھی کسی غیر کا حق شہزادی سیدہ کو ہبہ نہ کرتے۔

مخالف سے مطالبہ:

1۔ اس روایت کو ضعیف کہہ کر جان چھڑوائے۔

2۔ اقرار کرے کے معاذ اللہ رسولﷺ  صادق و امین نہ تھے اُنکی ملکیت نہ تھی ایسے ہی کسی کا حق کھا لیا اور اپنی اولاد کو دے دیا (معاذ اللہ)۔

سُنی مناظر: میں پہلے ہی واضح بیان کر چکا ہوں کہ ہماری گفتگو کہ تین جز ہیں۔

1۔ فدک خالص رسول اللہﷺ کی ملکیت تھی۔ 

2۔  رسول اللہﷺ نے سیدہ فاطمہؓ کو ہبہ کیا۔

3۔ رسول اللہﷺ کہ بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ضبط کر لیا جس پر سیدہ فاطمہؓ ان سے ناراض ہوئیں۔

قارئین شیعہ مناظر کی چالاکی اور چال بازی ملاحظہ فرمائیں۔ ہمارا نکتہ اول فدک کے ملکیت رسولﷺ ہونے پر تھا۔ اور شیعہ مناظر کو ثابت کرنا تھا کہ فدک خالص رسول اللہﷺ  کی ملکیت تھا، اپنے دعویٰ میں ہبہ ہونے پر دلیل دینے سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ اہل تشیع کے پاس فدک کے ذاتی ملکیت ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے، پہلے نکتے پر شیعہ مناظر  ناکام ہو گیا ہے۔ الحمدللہ۔

اگر شیعہ مناظر نکتہ اول سے واقعی ہاتھ اٹھاتا ہے تو پھر ہم نکتہ دوم یعنی فدک کے ہبہ ہونے پر بات شروع کریں گے۔

شیعہ مناظر: جی قارئین! انھوں نے اول تو میرے  استدلال   اور مطالبے کو ہاتھ ہی نہیں لگایا۔ یہ اصل میں چاہتے تھے مجھے پھنسا سکیں اور بات کو سورہ حشر پر موڑ دیں۔ لیکن آپکے بھائی نے اُلٹا انکو پھنسا دیا ہے۔ ناظرین ملکیت رسول اللہﷺ ہونے پر ہمارا استدلال واضح ہے۔

استدلال:

 1۔فدک رسول (اللہﷺ) کی ملکیت تھا اسی وجہ سے رسول (اللہﷺ) نے جناب زھرا س کو ہبہ کر دیا۔

2۔ رسول صادق و امین ہیں اگر فدک کسی غیر کا ہوتا تو کبھی بھی کسی غیر کا حق شہزادی سیدہ کو ہبہ نہ کرتے۔

مطالبہ:

1۔ اہلنست مناظر کہہ دے معاذ اللہ رسولﷺ صادق و امین نہ تھے کسی غیر کا حق بیٹی کو دے دیا۔

2۔ اس حدیث کا ہی انکار کر دے۔

اسکے علاوہ تیسرا کوئی آپشن نہیں۔ مزید اہلسنت مناظر نے شرائط کی خلاف ورزی کی ہے میرے حوالہ جات سے فرار ہو گیا جواب تک نہ دیا۔

جبکہ انہوں نے کلام تک نہ کیا جس سے فدک کا ہبہ ثابت ہے الحمدللہ 

سُنی مناظر: آپ کا استدلال پہلے سے طئے شدہ نکتہ اوّل کے بلکل ہی خلاف ہے۔ اس لیے اس کو ہاتھ لگانے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوئی اور میں سورت الحشر کے طرف جا کر آپ کو نہیں پھنسا رہا، آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ آپ کو  فدک کا نبی کی ملکیت میں ہونا ثابت کرنا ہے کہ یہ کونسی ملکیت تھی اور کہاں سے ملی تھی؟ اگر آپ ملکیت ثابت کرتے ہیں مسئلہ ہی ختم ہو جائے گا کیونکہ باغ فدک کا ملکیت رسولﷺ میں ہونا ثابت ہونے سے سیدہ فاطمہ کا حق بھی ثابت ہو جائے گا۔

شرائط کی خلاف ورزی کا الزام: درحقیقت شرائط کی خلاف ورزی آپ نے کی ہے۔ یہ شرط تھی کہ دعویٰ اور دلیل میں مناسبت اور موافقت ہونا ضروری ہے مگر کوئی موافقت نہیں سب دیکھ رہے ہیں، چلیں اب میں نکتہ اوّل کو ثابت کرتا ہوں کہ فدک ذاتی ملکیت رسولﷺ  نہیں تھا بلکہ فدک مال فئے تھا، جو بطورِ سنبھالنے کہ رسول اللہﷺ  کو عطا کیا گیا تھا۔

وھی انھا فھمت من قوله ماترکنا صدقة الوقفورأت ان حق النظرعلی الوقف۔

ترجمہ: سیدہ فاطمہؓ نے ان کے قول ماترکنا صدقة سے وقف سمجھا۔

قد خص رسول ص الخ ای بولایة دون تملک۔

ترجمہ: یعنی رسول اللہ ص نے اس کو خاص کیا تھا بطور سنبھالنے کہ نہ کہ بحیثیت ملکیت سمجھا

الزامی حوال: فدک مال فئے میں سے تھا۔ مال فئے یعنی جو بغیر جنگ کئے مال حاصل ہوا ہو۔ امام صادق رحمۃاللہ علیہ کی طرف منسوب ہے یہ روایت۔ "وھی لله ورسوله ولمن قام مقامه بعدہ"  یعنی مال فئے اللہ اور اس کے رسولﷺ اور اس کے لیے ہے جو ان کا قائم مقام ہو۔

استدلال: ان حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ باغ فدک ذاتی ملکیت رسولﷺ نہیں تھا۔

شیعہ مناظر: میرا استدلال بالکل واضح ہے عزیز دعویٰ اور دلائل کا آپس میں ربط ہے۔

استدلال:

صفحہ 3 از 47