باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟ - سنی شیعہ…

باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 28 از 47

قال بخاری منکر الحدیث ونقل ابن قطان ان البخاری قال کل من قلت فیه منکر الحدیث فلاتحل روایة منه.

 

ترجمہ۔ ابن قطان نے نقل کیا ہے کہ امام بخاری رح نے فرمایا ہر روایت یا  راوی جس کہ بارے میں منکرالحدیث کہوں اس سے روایت لینا حلال (جائز) نہیں ہے۔

 

چلیں امام بخاری رح والا روش بھی ختم ہوگیا ۔الحمدلللہ۔ 



 

شیعہ اشکال کا رد: منکر الحدیث ہونا کوئی جرح مفسر نہیں ہے۔

 

سُنی مناظر:  اس کا رد امام بخاری رح کہ قول سے ثابت ہے۔ آپ جرح کہہ رہے ہو امام بخاری تو اس کو قابل حجت ہی نہیں مانتے۔

 

شیعہ اشکال: ابن حبان کی وہ جرح جس میں منفرد ہوں قبول نہیں ہوتی۔

 

سُنی مناظر: منفرد نہیں ہے آپ اوپر اقرار کرچکے ہو صبر اسکرین شاٹ لگاتا ہوں۔



 

یہ لیں آپ نے جرح قبول کی ہے چاہے مبھم ہی کیوں نہ ہو۔ باقی مفسر تو الحمدلللہ میں ثابت کرچکا ہوں اور منفرد کا رد بھی آپ نے خود امام نسائی رح کہ قول سے کردیا ہے۔

 

اور یہ جھوٹ بولتے ہوئے آپ کو شرم نہیں آئی؟ کہاں میں نے کہا ہے کہ جرح مبھم پر ایک بھی تعدیل مقدم ہوتی ہے۔ اب یہ بچ گیا ہے آپ کے  پاس؟ اس میں تفصیل ہے جو میں باربار بیان کرچکا ہوں۔













 

تساھل ابن حبان رح کا رد ملاحظہ فرمائیں









 

امام حاکم رح کہ بارے میں لکھ رہے ہیں مصنف کہ وہ متساھل(سست) تھے ۔ جس کو وہ صحیح کہیں او  اس راوی کہ بارے میں کسی معتمد شخصیت کی تصحیح موجود نہ ہ  اور  نہ کسی نے اس راوی کو ضعیف کہا ہو  تب ہم اس پر حسن کا حکم لگائیں گے مگر یہ کہ کوئی علت اس میں ایسی ظاہر ہو جو اس کہ ضعف کو واجب کرے۔

 

اور صفحہ ٥١ میں لکھا ہے کہ

 

اور قریب ہے اس کہ (یعنی امام حاکم کہ) اس کہ صحیح ہونے کہ حکم میں ابی حاتم اور  ابن حبان۔

 

*



 

استدلال*

 

ابن حبان رح پر مطلق حکم جاری کیا شیعہ مناظر نے بلکہ اس میں تاویل اور قید ہے۔ متساھل/متشدد  کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہر جرح ان کی مردود ہے جو شیعہ صاحب نے مفہوم نکالا  بلکہ اگر کوئی علت ہے جو اس کہ ضعف کو  واجب کرتی ہے تو اس کو ضعیف کہا جائے گا اور علت موجود ہے ضعف کی منکر الحدیث۔





 

بلکل یہ بھی میری تائید میں ہے متشدد کی جرح دوسرے محدثین کے اقوال دیکھے بغیر نہیں لینی چاہیے۔ ہم نے دوسرے محدثین کی جرح دیکھ کر  ہی  فضیل بن مرزوق  کو ضعیف راوی کہا   ہے۔

 

خلاصہ

 

1۔ امام مسلم رح کا اس سے روایت لینا اس کہ ہرگز منافی نہیں کہ اس پر جرح مفسر ہے اور وہ شیعہ ہے اور وہ اپنے مذھب کی تائید میں روایت کررہا ہے۔۔ اگر بات روایت لینے کی ہے تو امام بخاری رح نے بھی شیعہ راویوں سے روایت لی ہے کتنی بار کہہ چکا ہوں آپ کی کھوپڑی میں یہ بات نہیں گھس رہی۔

 

2۔ توثیق کی جرح کہ سامنے کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ پھر بھی جرح تعدیل پر مقدم ہوگی۔



 

شیعہ مناظر: فضیل بن مرزوق کی بدعت کا جواب ابھی تک نہیں دیا۔

 

سُنی مناظر: بدعت کی معنی کیا ہے ؟ کچھ سمجھ  بھی رہے ہو یا فضول میں وقت ضایع کررہے ہو۔ بدعت یعنی نئی چیز اور نیا مسئلہ ایجاد کرنا اور اس نے یہ مسئلہ اپنی طرف سے نیا ایجاد کیا ہے ،  جو شیعہ مذہب کی تائید کرتا ہے اور سنی مذہب کے بلکل ہی خلاف ہے۔





 

اللہ اکبر ‍! جو اپنے مذھب کی تائید میں ہو ٹائم پاس بندے بات سمجھ نہیں آرہی کیا۔

 

اس روایت میں کونسی تائید کی ہے شیعہ مذھب کی بتاؤ ذرہ؟







 

اس سے معلوم ہوا کہ موجودہ شیعہ اور ان   شیعہ راویوں میں فرق تھا۔ اس دور میں سب خود کو شیعہ کہلاتے تھے،اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اثناعشریہ شیعہ تھے،  جب آپ جیسے شیعہ  پیدا ہوئے تو سب نے شیعہ کہلوانا چھوڑ دیا۔ 



 

فضیل  بن مرزوق کے نزدیک افضل ابوبکر و عمر

 

کریں میموری صاف آپ نے اپنا وقت پورا جو کرنا ہے اور رٹہ بھی ختم کرنا ہے چاہے بات بنے یا  نہ بنے۔



 

اس دور میں شیعہ مذہب باقائدہ  گھڑا نہیں گیا تھا۔  اس لئے شیعہ  اثناعشریہ کے موجودہ عقائد کے خد وخال کسی کو معلوم ہی نہیں تھے۔



 

شیعہ مناظر کا مطالبہ : فضیل بن مرزوق کو شیعہ اثنا عشریہ ثابت کیا جائے۔

 

سنی مناظر: مطلب آپ کہ نظریہ کے مطابق امام جعفر صادق رح شیعہ اثناعشریہ اور رافضی نہیں تھے؟



 

شیعہ مناظر کی طرف سے مقالات (زبیر علی زئی) سے بدعتی راوی کی روایت کو قبول کرنے  کا بچگانہ ضد

 

سنی مناظر: پتہ بھی ہے میں دیوبندی ہوں اور دلیل ایک غیر مقلد کی دیرہے ہو یہ آپ کی پریشانی کا حال ہے



 

اس اسکین پر مینے ایک شیعہ کو اچھا خاصہ رگڑا دیا تھا اب آپ بھی تیار ہوجاؤ۔ اگر یہ اسکین صاف ہے تو پرسنل میں بھیج دیں اگر نہیں تب بھی کوئی مسئلہ نہیں؟





 

اس میں تین حق مذکور ہیں رسول اللہ ص کہہ

 

1۔ ہبہ 

 

2۔ مال فئے

 

3۔خمس خیبر

 

میں نے آسانی کے لئے highlight کردیا ہے۔

 

1۔ احدھا ماوھب له صلی اللہ علیہ وسلم وذٰلک وصیة......الخ وکان ھٰذا لمکا له صلی اللہ علیہ وسلم۔

 

ترجمہ۔ ان میں سے پہلا وہ ہے جو رسول اللہ ص کو ہبہ کیا گیا، وہ ہبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملک ہوا۔

 

2۔  الثانی حقه من الفئی من ارض بنی النضیر حین اجلاھم الخ...کان خالصا له 

 

ترجمہ۔ دوسرا حق مال فئے میں سے تھا جو بنو نضیر سے بغیر قتال کہ رسول اللہ ص کو ملا وہ خالص رسول اللہ ص کا تھا۔

 

3۔  الثالث سہمه من خمس خیبر وماافتتح فیھا الخ.....فکانت ھذہ کلھا ملکا لرسول اللہ ص خاص

 

ترجمہ۔تیسرا خمس خیبر میں سے حصہ اور وہ جس کو فتح کیا ، یہ سب رسول اللہ ص کی ملکیت تھی۔

 

اس میں تین باتیں مذکور ہیں۔

 

پہلا : ہبہ جو رسول اللہ ص کی ملکیت ہے ،۔

 

دوسرا : مال فئے جو رسول اللہ ص کہ لیے خاص تھا۔

 

تیسرا : خمس خیبر میں سے رسول اللہ ص کا حصہ بھی  خاص  نبی کی ذاتی ملکیت ہے۔

 

یہ ہے اس حوالے کی حقیقت جس کو شیعہ مناظر نے توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ جناب جن سے آپ حوالے پرسنل میں لے رہے ہو ان سے پہلے پوچھ لیا کریں کہ اس میں لکھا کیا ہے۔

 

اس میں نبی کی  ملکیت دو چیزوں کو کہا گیا ہے۔ ایک ہبہ، دوسرا خمس خیبر، باقی جو مال فئے ہے۔ جس پر ہماری بحث چل رہی ہے، اس کے لیے صرف لفظ خاص آیا ہے نہ کہ ملکیت جس کو اب تک جناب ثابت نہیں کرسکا۔اب میری موصوف سے گزارش ہے کہ آپ کی آخری ٹرن ہے کوئی نیا حوالہ پیش نہ کیجئے گا۔آپ نے پہلے بھی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ اب آپ نے صرف میرے استدلال کا جواب دینا ہے اور میرے پیش کیے ہوئے حوالوں پر تبصرہ کرنا ہے۔

 

صفحہ 28 از 47