باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟ - سنی شیعہ…

باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 26 از 47

5۔ یہ بات غلط ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق احادیث میں مروی ہے کہ آپ لیتے بھی تھے دائیں ہاتھ سے اور دیتے بھی تھے دائیں ہاتھ سے، اخرج النسائی فی سننہ (کتبا الزینة، التیامن فی الترجل: ۲/۲۷۵) بسندہ عن عائشة قالت: ”کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یحب التیامن یأخذ بیمینہ ویعطي بیمینہ ویحب التیمن في جمیع أمورہ“۔

 

واللہ تعالیٰ اعلم

 

دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند



 

سُنی مناظر: حضرت جعفر صادق رح کیا شیعوں کی ملکیت ہے جو کہتے ہو تمہارے ابوحنیفہ رح ان کہ شاگرد تھے۔ الحمدلللہ دونوں ہمارے ہیں اور دونوں ہمارے امام ہیں شیعوں والے امام نہیں۔

 

پہلی بات امام جعفر صادق رح شیعہ نہیں تھے بلکہ اگر ان کو موجودہ شیعہ عقائد کا علم ہوتا تو ان پر لعنت کرتے۔ دوسری بات اگر شیعہ ہو بھی اور امام ابوحنیفہ ان کے شاگرد بھی ہوں تب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اس دور کے شیعہ ہونے پر کوئی جرح نہیں ہے، کئی بار کہہ چکا ہوں۔ ایسے تو امام بخاری کہ استاد بھی شیعہ تھا۔ وہ بحث الگ ہے کہ موجودہ شیعہ اور ان راوی شیعوں کا عقیدہ ایک تھا یا الگ تھا۔ فی الحال ہماری بحث اس نکتہ پر ہورہی ہے کہ بدعتی راوی کی اپنے مذہب کی تائید میں روایت قبول کی جاتی ہے کہ نہیں۔

 

میں سُنی و شیعہ دونوں کی کتب سے متفقہ اصول پیش کر کے ثابت کرچکا ہوں کہ ثقہ راوی کی اپنے مذہب کی تائید والی روایت سُنی و شیعہ کے ہاں قابل حجت نہیں ہوتی۔ اس اصول کو کو ہاتھ لگانے میں موصوف کو موت نظر آرہی ہے۔ دوسری بات آپ کی کتاب  (تفسیر قمی کی صحیح روایت)آپ پر حجت ہے  ناکہ مجھ پر۔

 

میں نے آپ کی کتاب سے حوالہ دیا وہ الزامی تھا اس سے پہلے میں نے اپنی کتاب سے حوالہ پیش کیا تھا مگر افسوس کہ آپ نے صرف اپنی کتاب تفسیر قمی سے حوالہ پیش کیا جو کہ شرائط کے بلکل ہی خلاف ہے۔ اس لئے کچھ خیال کریں۔

 

جو بات کرنی ہے کریں لیکن الفاظ کا چناؤ درست رکھیں یا میں آپ کی تربیت ایسی سمجھوں کہ باربار کہنے سے بھی آپ نہیں سمجھ رہے ہو۔

 

شیعہ مناظر: میں نے تفسیر القمی سے صحیح السند روایت کے ساتھ گواہ والی بات ثابت کی تھی۔

 

سُنی مناظر: وہ الزامی حوالہ تھا وہ بھی آپ کی اپنی کتب سے جو مجھ پر بلکل بھی حجت نہیں تھا۔ اگر آپ تحقیقی حوالہ اپنی کتب سے پیش کرنے کے بعد الزامی حوالہ میری کتب سے پیش کرتے تب مان لیتا۔ 

 

شیعہ مناظر: حضرت عمر بن عبدالعزیز والی روایت صحیح نہیں بلکہ ضعیف منقطع ہے۔ 

 

سُنی مناظر: ضعیف منقطع والی روش صرف مجھ پر کیوں اگر میں نے روایت منقطع  پیش کی ہے تو آپ ہی ہماری کتب سے صحیح سند  پیش کردیں۔  میں نے جو روایت پیش کی اس کے سب راوی ثقہ ہیں۔دوسری طرف آپ نے بطور دلیل جو روایت پیش کر کے فدک کا ہبہ ہونا ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ، اس میں تو صرف اور صرف ضعیف اور اپنے جماعتی (شیعہ راوی) کا سہارا لیا ہے۔ اب آپ کا آخری ٹرن ہے اس کہ بعد یہ نکتہ مکمل ہوگا۔میری موصوف سے گزارش ہے کہ باغ فدک کو ملکیت رسول ص ثابت کریں اور اس پر کوئی ڈھنگ کی دلیل لائیں۔ آپ پوری گفتگو میں لاچار نظر آئے ہو۔

 

شیعہ مناظر:  ناظرین میں نے کئی لوگوں سے مناظرہ کیا ہے لیکن سب سے زیادہ  جاہل یہ بندہ ٹکرایا ہے۔ آج  تک کسی نے یہ دعوی نہیں کیا کہ فضیل بن مرزوق ضعیف ہے۔ اب یہ بہت برا ذلیل ہوگا۔ فضول کی کہانیاں۔ سارا وقت ضائع کیا ہے ۔

 

اب تم کو جاہل نہ کہوں تو کیا کہوں؟   خاک جواب دیا ہے تم نے!



 

 شیعہ مناظر: اس میں کہاں لکھا ہے ملکیت نہیں تھا فدک؟ تمہارا دماغ چکرا چکا ہے! یہ الُٹا میرے حق میں ہے!

 

یہاں موجود ہے کے حضور ص کی ازواج نے عثمان کو ابوبکر کے پاس بھیجا اور ان سے کہا کہ اللہ نے جو فئے اپنے رسول ص کو دیا تھا ، اس میں سے حصے دیں۔

 

1۔ یہاں واضح لکھا ہے مال فئے اللہ نے رسول ص کو دیا تھا کسی اور کو نہیں۔

 

2۔ ازواج رسول وفات کے بعد حصے مانگنے آئیں۔

 

3۔ اُنھوں نے اس دعوی کو لا نورث والی  حدیث سے رد کیا جو موضوع سے خارج ہے فی الحال۔

 

4۔نبی کی بیویاں اور جناب عثمان باغ فدک کو نبی کی ملکیت ہی مانتے تھے اسی وجہ سے وراثت کا مطالبہ کرنے آئے۔

 

صریح روایت پیش کرو فدک ملکیت رسول ص نہیں۔ ڈرامے بازیاں نہ کرو۔ یہ انسان نہایت ہی بیوقوف جرح و تعدیل سے جاہل ہے ۔



 

فضیل بن مرزوق کی توثیق

 

1۔ فضیل بن مرزوق وہ ثقہ راوی ہے جس سے امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت لی ہے۔

 

حدثنا حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي ، اخبرنا يحيى ابن آدم ، حدثنا  الفضيل بن مرزوق  ، عن شقيق بن عقبة ، عن البراء بن عازب ، قال: نزلت هذه الآية: حافظوا على الصلوات وصلاة العصر، فقراناها ما شاء الله، ثم نسخها الله، فنزلت " حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى سورة البقرة آية 238 "، فقال رجل، كان جالسا عند شقيق له: هي إذا صلاة العصر؟ فقال البراء: قد اخبرتك كيف نزلت، وكيف نسخها الله، والله اعلم،

 

سب سے پہلے یہ بیان کردوں سنی مناظر اپنے علماء کے منہج سے بالکل جاہل ہے کہ کونسی کتاب کس بنیاد پر لکھی گئی ہے۔

 

میزان العتدال لکھی ذھبی نے جس میں سب کے اقوال جمع کیے۔ فائنل کمنٹ اور روات پر حکم الکاشف میں لگایا۔اسی طرح ابن حجر نے تہذیب التہذیب لکھی، جس میں سب کے اقوال نقل کیے پھر  فائنل کمنٹ تقریب میں دیا۔











 

2۔  امام زھبی نے فضیل کو ثقہ کہا ہے۔





 

 



 

 

 

3۔احافظ ابن حجر نے فضیل کو  صدوق  کہا ہے۔





 

 اتنی توثیقات کافی ہیں سب سے اہم دلیل امام مسلم کا روایت لینا ہے۔

 

فضیل بن مرزوق  پر جرح  کا  جواب

 

اس جاہل انسان کو یہ بھی معلوم نہیں جرح مفسر کہتے کس کو ہیں بس پاگلوں کی طرح اسکین پھینکنا شروع کردیتا ہے۔امام نسائی کی جرح نقل کی جو کہ مبھم ہے۔ خود اصول بیان کر چکا ہے کہ مبھم جرح پر ایک تعدیل بھی مقدم ہوتی ہے۔





 

 ابن حبان کا منکر الحدیث کہنا: ناظرین کسی کو منکر الحدیث کہنا یہ کوئی جرح مفسر نہیں ہے ۔

 

ملاحظہ کریں۔



 

"جو بھی منکر روایت کو نقل کرے اُسکو ضعیف نہیں کہا جا سکتا"



 

امام بخاری نے منکر الحدیث روات سے احادیث لیں ہیں۔



 

 



 

لہذا منکر الحدیث ہونا کوئی جرح مفسر نہیں ہے۔

 

ابن حبان کی وہ جرح جس میں منفرد ہوں قبول نہیں ہوتی۔

 

ابن حبان جرح کے معاملے میں *متشدد * تھے۔

 

ملاحظہ ہوں





 

صفحہ 26 از 47