باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟ - سنی شیعہ…

باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 24 از 47

سنی مناظر کی حالت دیکھ سکتے ہیں سب قارئین۔ اب کہتا ہے شیعہ کتب مجھ پر حجت کیسے۔ جاہل انسان تم نے جو الزامی جواب دیا  اُسکا رد کیا ہے کہ ہمارے پاس صحیح السند روایات میں یہ واقعہ موجود ہے۔ جاہل انسان ہو تم،   بالکل چولیاں ماری ہوئی ہیں ساری جاہل نے۔ کیا جواب دے بندہ.

 

میں نے احادیث اور علماء کے اقرار پیش کیے ہیں ملکیت ہونے پر۔ تم بھی ایک حدیث لاؤ کہ باغ فدک نبی کی ملکیت نہیں تھی ۔

 

جہالت کی حد ہے ویسے بے تکی  تاویلات ۔ جناب ابوبکر نے کہا جیسا رسول ص کرتے تھے میں اُس سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹوں گا۔  یہ بوگس دلیل ہے وہ غنی تھے ۔ غنی ہونے سے کیا آپکو آپکے حق سے جدا کیا جا سکتا ہے؟ موصوف کو لگتا تھا کوئی عام بندہ ہوگا کام چل جائے گا دو نمبری کرنا تو سنیوں کی عادت ہے۔ سنی مناظر اصول درائیہ سے بالکل پیدل اور جاھل ہے۔

 

 

 

  

 

شیعہ مناظر: یہ روایت پیش کرکے سُنی مناظر کہتا ہے  کہ اسکو صحیح روایت کہتے ہیں۔



 

حدیث صحیح کا متصل ہونا  لازم ہے۔







 

شیعہ مناظر: حضرت عمر بن عبدالعزیز والی روایت   منقطع ہے۔

 

روایت کے ضعف کی وجہ

 

جناب صاحب رسول ص کی  وفات   632 عیسوی میں ہوئی جبکہ جناب عمر بن عبد العزیز کی  پیدائش   682  عیسوی میں ہوئی ۔ جناب صاحب عمر بن عبد العزیز اور رسول ص میں ۵۰ سال کا فرق ہے۔ منقطع اجماعی طور پر ضعیف ہوتی ہے۔





 

 

 

  شیعہ مناظر:  پس واضح ہوا پیش کردہ روایت مردود ہے

 

 حاشیہ

 

سنی مناظرہ اس قدر جاہل ہے کہ رجال الثقات سے دلیل پکڑ رہا ہے ،بیوقوف انسان ، رجال رجل سے نکلا ہے، رجل کی جمع رجال ہے۔ یعنی اسے راوی ثقہ ہیں یہ کہاں کہا ہے حدیث کی سند صحیح ہے ؟ آجا میرا  بیٹا اصول درائیہ پڑھو تمکو جاہل ہو بالکل، سنی مناظر کی جہالت آشکار ہو چکی ہے۔ اب میں بتاتا ہوں مقبول روایت کس کو کہتے ہیں۔میری  پیش کردہ روایت متصل ہے اسکے روات حسن الحدیث ہیں۔ الحمد للہ





 

 



 

 

 

خلاصہ

 

1۔فدک رسول ص کی ملکیت ہے۔

 

2۔ رسول ص نے جناب زھرا س کو فدک ہبہ کردیا۔

 

3۔ جناب زھرا  س نے گواہ پیش کیے اُن کو رد کردیا گیا اور آپ کو حق نہ دیا گیا۔(بسند حسن)

 

 مطالبہ

 

1۔ صریح صحیح حدیث لاؤ فئے ملکیت رسول ص نہیں ہے۔

 

2۔فضیل بن مرزوق کی بدعت بیان کرو۔ چولیا مار کر وقت ضائع نہ کرنا۔

 

 





 

سُنی مناظر: آپ کا قصور نہیں ہے ، جو آپ کی میموری میں فیڈ حوالے ہیں وہ آپ نے پیش کرنے ہیں چاہے بے تکے کیوں نہ ہوں۔ صرف شاہ عبدالعزیر محدث دہلوی رح نے نہیں کہا بلکہ آپ کے مصنفین نے بھی کہا ہے کہ اس کا کوئی اصل نہیں ہے۔ ان  پر فتویٰ لگاؤ۔

 

میرے خیال میں آپ سے آپ کے لہجے میں بات کرنی ہوگی۔

 

 



 

 

 

اب اس حدیث مبارکہ میں دیکھیں مال فئے بطور میراث تقسیم نہیں ہوا بلکہ بطور متولی حضرت علی رضی اللہ کہ قبضہ میں رہا انہوں نے حضرت عباس رض کو دینے سے منع کیا اس کہ بعد حضرت حسن بن علی اور حسین بن علی رضی اللہ عنہا کہ قبضہ میں رہا اور ان کے افراد بطور متولی سنبھالتے تھے۔ اب بتائیں فدک ملکیت رسول ص تھا؟

 

اگر ملکیت رسول ص تھا اور رسول اللہ ص نے سیدہ رض کو دیا تو ان تمام حضرات کہ پاس بحیثیت متولی کے کیوں پھرتا رہا؟

 

عقل کو تکلیف دیں تھوڑی۔ اب تیار ہوجاؤ ایک دارالعلوم کی فتویٰ آرہی ہے پھر کہوگے مجھ پر یہ حجت نہیں۔ ثقہ کا روش ختم کرتا ہوں پہلے





 

 

 

 سُنی مناظر:

 

1۔ وقال نسائی ضعیف وکذا ضعفه عثمان بن سعید۔

 

ترجمہ۔امام نسائی رح نے فضیل بن مرزوق کو ضعیف کہا ہے اور اس طرح عثمان بن سعید نے بھی اس کو ضعیف کہا ہے۔

 

2۔ وقال ابوعبدالله الحاکم فضیل بن مرزوق لیس من شرط صحیح۔

 

ترجمہ۔ابوعبداللہ حاکم نے کہا کہہ فضیل بن مرزوق صحیح کہ شرائط میں سے نہیں ہے۔

 

3۔قال ابن حبان منکر الحدیث جداً وکان یخطی  علی الثقات۔

 

ترجمہ۔ابن حبان رح نے کہا کہہ فضیل بن مرزوق سخت منکر الحدیث ہے اور ثقات پر خطا کرتا تھا۔

 

4۔ وروی احمد بن ابی خیثمة عن ابن معین ضعیف۔

 

ترجمہ۔ احمد بن ابی خیثمة نے ابن معین رح نے نقل کیا ہے کہہ فضیل بن مرزوق راوی ضعیف ہے۔

 

استدلال

 

ان تمام محدثین کی جرح سے ثابت ہوا کہ فضیل بن مرزوق راوی ضعیف تھا.

 

اور میں نے اس راوی پر جرح مفسر پیش کی ہے۔ مسلمہ اصول ہے کہ جب جرح مفسر تعدیل مفسر یامبہم کے مقابلے میں آئے تب جرح مفسر مقدم ہوگی۔کیوں مناظر صاحب؟

 

اس پر میں سنی شیعہ دونوں کتب سے حوالے پیش کررہا ہوں

 

 https://shamilaurdu.com/book/jarah-wa-tadeel/25/





 

سنی مناظر: اسبابِ جرح و تعدیل سے بخوبی واقف ہو۔عربی زبان کا ماہر ہو،تاکہ علماء کے اقوال کو اچھی طرح سمجھ سکے۔

 

جرح و تعدیل میں تعارض اور اس کا حل

 

1۔ جس راوی کی توثیق پر تمام محدثین کا اتفاق ہو وہ ثقہ ہے۔

 

2۔جس راوی کے ضعیف ہونے پر تمام محدثین کااتفاق ہو وہ ضعیف ہے۔

 

3۔ جس راوی کو بعض نے ثقہ کہا اور بعض نے ضعیف کہا، وہ مختلف فیہ راوی ہے اس میں راجح معلوم کرنے کے لیے ہمیں درج ذیل باتوں کو مد نظر رکھنا ہو گا:

 

۱:جرح مفسر ہمیشہ تعدیل مبہم پر مقدم ہوگی،کیونکہ جرح کرنے والے کے پاس دلیل موجود ہے۔جرح مفسر کے الفاظ درج ذیل ہیں:صدوق یھم، سیء الحفظ،فاحش الغلط، منکر الحدیث، مضطرب الحدیث، متروک۔ 

 

۲:تعدیل مفسر ہمیشہ جرح مبہم پر مقدم ہوگی۔

 

۳:اگرجرح مفسر اور تعدیل بھی مفسر یا جرح مبہم اور تعدیل بھی مبہم ہو تو ان دونوں صورتوں میں جرح مقدم ہوگی۔

 

۴:ائمہ جرح وتعدیل دیکھے جائیں گے کہ جرح کرنے والے متشدد تو نہیں اور توثیق کرنے والے متساہل ہیں یا معتدل۔متشدد کی توثیق بہت اہمیت رکھتی ہے اور متشدد کی جرح دوسرے محدثین کے اقوال دیکھے بغیر نہیں لینی چاہیے۔متساہل کی توثیق سے دور رہنا چاہیے۔

 

تنبیہ: بعض لوگوں کا قول جس پر اختلاف ہو اور تطبیق و توفیق ممکن نہ ہو تو ہمیشہ محدثین کی اکثریت کو ترجیح دی جاتی ہے   یہ بات درست نہیں ہے۔

 

اگر کسی راوی پر ایک ہی امام کے اقوال میں تعارض ہو مثلا ایک ہی راوی کو ایک محدث نے ثقہ کہا اور اسی محدث نے انھیں ضعیف بھی کہا تو اس صورت میں بعد والا قول لیا جائے گا۔اگر تاریخ کے ذریعے بعد والے قول کا تعین ہو جائے توپہلے قول کو منسوخ اور دوسرے کو ناسخ سمجھا جائے گا۔[1]

 

[1]  مثلا دیکھیے :تاریخ ابن معین۔روایۃ الدوری:۴-۲۷۲رقم:۴۳۳۳.



 

 



 

ولو اجتمع فی واحد جرح وتعدیل فالجرح مقدم علی التعدیل۔

 

صفحہ 24 از 47