باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟ - سنی شیعہ…

باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 22 از 47

شیعہ مناظر کی خباثت: شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رح کو موصوف نے جاہل اور جھوٹا لکھا ہے۔



 

اور یہاں شاہ صاحب رح  پر شیعہ مناظرنے لعنت کی ہے۔

 

سنی مناظر: الحمدلللہ شرط ١٥ کو موصوف نے توڑ کر خود اپنی شرط سے اپنی شکست کا اعلان کیا ہےمجھے معلوم ہے یہ گالیاں کس درد سے نکل رہی ہیں اور چوٹ کہاں لگی ہے۔ مجھے معلوم ہے آپ نے صرف ہبہ پر رٹہ لگایا ہوا ہے اسی لئے ہبہ والی روایت پر بات کرنا چاہتے ہو مگر وہاں تک پہنچنے کی آپ اوقات ہی نہیں رکھتے۔

 

خاص سے مراد ملکیت ہے یا بطور سنبھالنے کہ؟ میں بطور سنبھالنے پر تین اسکین دے چکا ہوں۔اب آپ بھی ہمت کریں ایک صحیح روایت فدک کے ذاتی ملکیت پر  پیش کریں۔

 

آپ نے دوبارہ ایک مولوی پیش کردیا ہے۔ کہہ بھی رہے ہو مولوی حجت نہیں اور بار بار مولوی پیش بھی کررہے ہو اب ہم آپ کی جہالت پر کیا لکھیں؟ سورة حشر کی آیت 6 کے بعد آیت نمبر 7 بھی ہے، اسے کون پڑ ہے گا؟ 

 

فتوی دارالعلوم کس نے لکھی ہے؟ انعام الباری کس نے لکھی ہے؟ کیا یہ حدیثیں ہیں تمہاری نظر میں؟ یہ ہے رٹے کا نقصان! جب رٹہ ختم ہوتا ہے تو پھر بار بار وہی پیش کرنا پڑتا ہے۔ شاہ عبدالعزیز صاحب رح نے بلکل صحیح لکھا ہے اور میں ثابت کررہا ہوں بے فکر ہوجاؤ۔



 

اس روایت میں ایک راوی فضیل بن مرزوق ہے جو آپ کی جماعت  کا ہے۔

 

  



 

قال عبدالخالق بن منصور عن ابن معین صالح الحدیث الا انه شدید التشیع۔

 

وکان فیه تشیع۔

 

ترجمہ۔فضیل بن مرزوق شدید شیعہ تھا اور اس میں شیعت تھی۔

 

 

 

فضیل بن مرزوق صادق ع کہ اصحاب میں سے تھا۔

 

  استدلال

 

ان دو حوالوں سے ثابت ہوا کہ فضیل شیعہ تھا اور سخت شیعہ تھا اور اصحاب صادق رح میں سے تھا۔ مطلب پکہ شیعہ تھا۔ اب جناب کہے گا کہ شیعت کوئی جرح نہیں ، بخاری میں بھی شیعہ راوی ہیں وغیرہ۔۔ اس پر بھی روشنی ڈالتا جارہا ہوں تاکہ جناب کو پیش کرنے کی تکلیف نہ ہو کیونکہ چھوٹوں پر شفقت کرنا نبی ص کی سنت ہے۔

 

 

 

الا ان یروی ما یقوی بدعته فترد علی المذھب المختار۔

 

جب راوی روایت کرے جو اس کی بدعت اور مذہب کو قوت دے وہ روایت رد کی جائے گی۔



 

ان کان داعیة لمذھبه لم یقبل

 

ترجمہ۔ اگر راوی اپنے مذہب کی طرف داعی ہو اس کی روایت قبول نہیں کی جائے گی۔

 

ان حوالوں سے چند باتیں ثابت ہوئیں۔

 

1۔ فضیل شیعہ راوی ہے۔

 

2۔اصحاب صادق رح میں سے تھا۔

 

3۔ جب بدعتی اپنے مذہب کی تائید میں روایت نقل کرے اس کی روایت قابل قبول نہیں ہوگی۔

 

4۔یہ روایت شیعت کو قوت دیتی ہے اور یہ شیعہ مذہب ہے نا کہ سنی مذہب کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے گواہ پیش کیے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے رد کیا وغیرہ۔



 

اہل سنت مناظر کی طرف سے ایک الزامی حوالہ

 

 

 

 

 

لاتقبل روایاتھم فیما یوافق مذھبھم۔

 

ترجمہ: وہ روایت جو راوی کہ مذہب کہ موافق ہو وہ قابل قبول نہیں ہوگی۔

 

الحمدللہ میں نے شیعہ و سُنی  دونو ں   کی کتب سے حجت تمام کردی ہے کہ جو راوی اپنے مذہب کی تائید میں روایت کرے اس کی روایت قابل قبول نہیں ہوگی اور یہ روایت دعوی ہبہ فدک  شیعہ مذہب کی تائید میں ہے اور سنی مذہب  بھی میں نے پیش کردیا ہے۔ پہلی ٹرن میں شاہ صاحب رح کی کتاب تحفہ اثناعشریہ سے۔

 

اگر میں نے کوئی ضعیف روایت پیش کی ہے تو آپ اس کی نفی صحیح سند کہ ساتھ پیش کردیں۔صحیح سند دکھانا صرف مجھ پر لازم نہیں ہے۔

 

آپ نے شیعہ تفسیر قمی کی روایت کیوں پیش کی ہے؟ شیعہ کتب مجھ پر کب سے حجت بن گئیں؟ خیر یہ آپ کی مجبوری ہے۔ آپ مخالف کہ مذہب پر ہو  یا  اپنے مذہب پر؟ آپ مجھے مال غنیمت دکھانے کا بھی کہہ رہے ہیں۔ کیا ہماری بحث مال غنیمت پر ہورہی ہے؟ اور دلیل دینا مدعی کا ذمہ ہوتا ہے  میرے ننھے منھے مناظر۔

 

آپ بار بار اہلسنت کتب سے فدک کے خاص ہونے کو ثابت کر رہے ہیں، جبکہ میں نے اس کا انکار ہی نہیں کیا کیونکہ خاص سے مراد    ذاتی ملکیت آپ نے ثابت کرنا ہے۔ میں نے لفظ خاص کو بطور سنبھالنے پر تین حوالے پیش کئے ہیں۔ 



























 

شیعہ مناظر کا اعتراض: فدک کی آمدنی نبی کی طرح خرچ نہیں کی جاتی تھی۔





 

حضرت ابوبکر نے  بنو ہاشم اور بنو مطلب کو خمس کا حصہ کیوں  نہیں دیا تھا؟

 

ان سب کا اصل خاندان ایک تھا عبدمناف کے چار بیٹے تھے ایک ہاشم جن کی اولاد میں رسول اللہ ﷺ تھے، دوسرے مطلب، تیسرے عبدشمس جن کی اولاد میں عثمان ؓ تھے، اور چو تھے نوفل جن کی اولاد میں جبیر بن مطعم ؓ تھے۔ : ہمیشہ ایک دوسرے کی مدد کرتے رہے اسی لئے کفار نے جب مقاطعہ کا عہد نامہ لکھا تو انہوں نے اس میں بنو ہاشم اور بنو مطلب دونوں کو شریک کیا۔  ابوبکر ؓ نے اس وجہ سے خمس نہیں دیا کہ وہ اس وقت غنی اور مالدار رہے ہوں گے، اور دوسرے لوگ ان سے زیادہ ضرورت مند رہے ہوں گے، جیسا کہ دوسری روایت میں علی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایک حصہ خمس میں سے دے دیا تھا، جب حضرت عمر ؓ نے انہیں حصہ دینے کے لئے بلایا تو انہوں نے نہیں لیا اور کہا کہ ہم غنی ہیں۔

 

آپ  گالیاں دینے سے بہتر ہے ملکیت ثابت کریں ۔ آپ کی جہالت سب کہ سامنے لاؤں گا۔ ان شاء اللہ۔

 

 

 

ترجمہ:عمر بن عبدالعزیز جب خلیفہ مقرر ہوئے تو فرمایا تحقیق رسول اللہ ص کہ پاس فدک تھا  ان میں سے خرچ کرتے تھے اور لوٹاتے تھے اس میں سے بنوھاشم کہ صغیر (یعنی چھوٹے بچوں پر) اور شادیاں کرواتے تھے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ص سے سوال کیا کہ یہ مجھے دیں تب رسول اللہ ص نے انکار کردیا اور ویسے ہی سیدنا ابوبکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما کہ دور میں تھا الخ.....

 

اس کو کہتے ہیں صحیح سند روایت۔امید کرتا ہوں موصوف کو افاقہ ہوگیا ہوگا۔ برائے مہربانی گالیاں نہ دیں میں بھی دے سکتا ہوں مگر نہیں دے رہا کیونکہ اس سے تربیت اور نسل کا پتہ چلتا ہے۔

 

 شیعہ مناظر:   میں نے ذاتی بات کہی یا  روایات اور کتب سے ثابت کیا؟  شاہ عبدالعزیز نے اپنی تحفہ میں لکھا کہ اہلسنت میں اس عنوان کی کوئی روایت موجود ہی نہیں۔ شاہ عبد العزیز نے یہاں یہ نہیں کہا کہ ضعیف ہیں۔ اُس نے بالکل انکار دیا ایسی کوئی روایت سرے سے نہیں ہے۔ میں نے جب روایات پیش کیں تو تم کو ثابت کرنا چائیے تھا کہ سنی کتاب نہیں ہے ورنہ حکم اور جھوٹ واضح ہے۔ 



 

صفحہ 22 از 47