باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟ - سنی شیعہ…

باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 47

آپ سب سے پہلے فدک کو نبیﷺ کی ذاتی ملکیت ثابت کریں۔ آپ کی یہ پریشانی بھی دور ہو جائے گی، پھر ہم دیکھیں گے کہ رسول اللہﷺ نے فدک سیدہؓ کو دیا یا نہیں دیا۔ آخر میں سیدہ فاطمہؓ کی ناراضگی پر الگ سے گفتگو ہوگی۔ ان شاء اللہ

شیعہ مناظر: کیا ہبہ کرنا ملکیت کی دلیل نہیں ہے؟ ذرا اس پر روشنی ڈالیں نبی کی طرف سے فدک کا ہبہ کرنا اگر ثابت ہو جائے تو ملکیت خود بخود ثابت کیوں نہیں ہوتی؟

سُنی مناظر: ٹھیک ہے آپ کسی بھی طرح فدک کو ذاتی ملکیت ثابت کریں۔ 

شیعہ مناظر: میں پھر فدک کو ہبہ کے ذریعے نبی(ﷺ) کی ملکیت ثابت کرنا پسند کروں گا کیونکہ شہزادی سیدہ کو دینا ہی دلیل ہے کہ فدک نبی کی ملکیت تھا۔ آپ ہبہ ہونا ردّ کر دیں سب ردّ ہو جائے گا۔

 سُنی مناظر: مطلب یہ ضروری نہیں کہ فدک نبیﷺ کی ملکیت تھا یا نہیں بس ہبہ ثابت ہونا ضروری ہے؟

شیعہ مناظر: مجھے ایک بات کا جواب دیں۔ ذات رسولﷺ کی ہے۔ فدک اگر رسولﷺ کی ملکیت نہیں تھا بلکہ کسی اور کی چیز تھی تو کسی اور کی چیز رسولﷺ  کیسے ہبہ کر سکتے ہیں؟ اس لئے اگر ہبہ ثابت ہو گیا تو ملکیت بھی ثابت ہو جائے گی۔ آپکا اعتراض باطل ہے بالکل۔ ورنہ معاذ اللہ کسی غیر کی چیز کسی اور کو دے کر رسولﷺ  خیانت نہیں کر سکتے۔ معاذ اللہ

سُنی مناظر: فدک کا نبیﷺ کی ذاتی ملکیت کیسے ثابت ہوگا۔ اگر آپ کسی کو چیز دیتے ہو تو سب سے پہلے وہ آپ کی ملکیت میں ہونا شرط ہے یا جس کو دے رہے ہو اس کی ملکیت ہونا ضروری ہے؟

شیعہ مناظر: رسول ﷺ نے فرمایا

لَا اِیمانَ لِمَنْ لا أمانةَ لَہ، وَلَا دِینَ لِمَنْ لَا عَہْدَ لَہ

آپ کی بات درست نہیں، یہاں معاملہ خالص رسولﷺ کا ہے۔اس پر آپ کو دلیل دیتا ہوں۔

سُنی مناظر: ملکیت رسولﷺ پر دلیل دے رہے ہیں؟

شیعہ مناظر: کچھ چیزیں اللہ و رسولﷺ کے ساتھ مخصوص ہوتی ہیں عام بندے پر اطلاق ہونا لازم نہیں۔

سُنی مناظر: مطلب دوسروں کا مال کسی اور کو دینا رسول اللہﷺ کہ لیے خاص تھا نعوذباللہ؟

شیعہ مناظر: یہ تو آپکی سوچ ہے جس کو میں کب سے غلط کہہ رہا ہوں۔ آپ توہینِ رسول کر رہے ہیں، جبکہ رسولﷺ نے فرمایا لَا اِیمانَ لِمَنْ لا أمانةَ لَہ، وَلَا دِینَ لِمَنْ لَا عَہْدَ لَہ

سُنی مناظر: سب سے پہلے فدک کو ذاتی ملکیت ثابت کریں تو بات کو آگے لے چلے؟

شیعہ مناظر: فدک ہبہ ثابت ہونا ہی دلیل ہے۔ رسولﷺ نے جب شہزادی سیدہ کو عطا کیا تو اسی وجہ سے عطا کیا کہ اُن کی ملکیت تھا ورنہ غیر کی چیز دینا تو معاذ اللہ امانت میں خیانت ہے۔

سُنی مناظر: فدک نبی کی ملکیت ہی نہیں تو کیسے دے سکتے ہیں؟

شیعہ مناظر: یہی سمجھا رہا ہوں اگر ثابت ہو گیا تو واضح ہو جائے گا کہ نبی کی ہی ملکیت تھا۔

سُنی مناظر: ثابت کریں فدک کو ذاتی ملکیت۔ بسم اللہ کریں پہلے خاص خاص کا رٹہ لگا رہے تھے وہ ختم ہو گیا؟

شیعہ مناظر: بس پھر وہ کسی غیر کا حق شہزادی سیدہ کو ہبہ کیسے کر سکتے ہیں؟؟

سُنی مناظر: ہبہ بعد کا مرحلہ ہے پہلے ملکیت ثابت کریں۔

شیعہ مناظر: آپ نے کہا ملکیت کسی بھی طریقے سے ثابت کروں۔ اگر فدک کا ہبہ ثابت ہو گیا تو لازم ہے وہ نبی کی ملکیت تھی اسی وجہ سے ہبہ کیا کیونکہ رسولﷺ  کسی غیر کی چیز کسی اور کو نہیں دے سکتے۔ اگر ہبہ ثابت نہ ہوا تو واضح ہے ملکیت نہیں تھا۔

سُنی مناظر: مجھے معلوم ہے آپ کو کیا تکلیف ہے۔ اس لیے میں نے آپ کو کہا تھا صرف دو تین اسکینز جمع کرنے سے کوئی مناظر نہیں بن جاتا۔

شیعہ مناظر: فدک کو نبی کی ملکیت ہبہ کے ذریعہ ثابت کروں گا۔ خود آپ نے کہا جیسے مرضی ثابت کرو اب فرار ہو رہے ہیں۔

سُنی مناظر: جیسے مرضی لفظ ملکیت ثابت کرو، اب بھی میں قائم ہوں آپ تھوڑی تکلیف کرو۔

شیعہ مناظر: ہبہ کے ذریعہ ملکیت ثابت کروں گا۔

سُنی مناظر: مطلب فدک کو نبی کی ذاتی ملکیت ثابت نہیں کرسکتے؟

شیعہ مناظر:  اگر نبی کی طرف سے سیدہ کو باغ فدک ہبہ کرنا ثابت ہوگیا تو ملکیت خود بخود ثابت ہو جائے گا۔

رسولﷺ صادق و امین ہیں، کسی غیر کا حق کسی اور کو دے ہی نہیں سکتے۔ شہزادی سیدہ کو ہبہ کرنا ہی دلیل ہے کہ وہ ملکیت رسولﷺ تھا۔

سُنی مناظر:  ٹھیک ہے جس طرح چاہیں، فدک کا نبی کی ملکیت ہونا ثابت کریں۔  

شیعہ مناظر: فدک کا ہبہ کرنا اسکی پختہ دلیل ہے کہ فدک خالص رسول ﷺ کا تھا۔ ہمارا عقیدہ ہے رسولﷺ صادق و امین ہیں کسی غیر کی چیز شہزادی سیدہ کو نہیں دے سکتے۔ کیا آپ کے عقیدہ میں رسول امانت دار نہیں؟ اگر امانت دار ہیں آپکے نزدیک پھر کسی غیر کی چیز اُسکا حق مار کر شہزادی سیدہ کو کیسے دے سکتے ہیں؟

شرائط مناظرہ

 مناظرہ بعنوان فدک 

 شرائط مناظرہ منجانب اہل تشیع مناظر

1۔ دعویٰ اور جوابِ دعویٰ میں مطابقت اور موافقت ہونا ضروری ہے۔

2۔ تمام تر گفتگو موضوع کی مناسبت سے ہوگی اور موضوع گفتگو اہل تشیع مناظر کا دعویٰ ہوگا۔موضوع سے ہٹ کر بات نہیں کی جائے گی اور اہل سنت مناظر دعویٰ سے ہٹ کر اپنی مرضی کی گفتگو کی فرمائش نہیں کرے گا۔

3۔ مناظرہ میں اہل تشیع مناظر مدعی جبکہ اہل سنت مناظر مدافع ہوگا۔ اہل سنت مناظر اہل تشیع مناظر کی پیش کردہ دلیل پر بحث کرنے کا پابند ہوگا اور کسی صورت اس دلیل سے فرار اختیار نہیں کرے گا۔ 

4۔ اہل تشیع مناظر دعویٰ پیش کر کے مناظرے کا آغاز کرے گا جس کے جواب میں اہل سنت مناظر جوابِ دعویٰ پیش کرے گا اس کے بعد دلائل کا سلسلہ شروع ہوگا۔

5۔ فریقین دعویٰ/جواب دعویٰ پر وضاحت صرف اسی صورت طلب کریں گے جب وضاحت ناگزیر ہوگی 

6۔ گفتگو مسلمات خصم سے ہو گی اور جو اصول و ضوابط اور کتب اہل سنت کے لیے معتبر ہیں ان سے ثابت شدہ بات اہل سنت مناظر قبول کرنے کا پابند ہو گا انکار کی صورت میں ان کتب سے بیزاری اختیار کرے گا اور صاحبِ کتاب پر لعنت بھیجے گا۔ 

7۔ اہل سنت مناظر کسی بھی راوی یا متن پر جو اشکال پیش کرے گا اس کو صراحتاً ثابت کرنے کا پابند ہوگا نیز حدیث اور راوی پر حکم واضح کرے گا۔

8۔ کسی بھی شے کی تاویل اس وقت تک قبول نہیں ہوگی جب تک اس کی حمایت میں صریح دلیل نہ پیش کی جائے۔

9۔ ایک وقت میں ایک ہی نکتے پر بات ہوگی اور جب تک بات مکمل نہ ہو بات آگے نہیں بڑھے گی۔

10۔ اہل سنت مناظر جب تک ردّ نہیں کرتا الزامی جواب پیش کرنے کا مجاز نہ ہوگا۔

صفحہ 2 از 47