باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟ - سنی شیعہ…

باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 19 از 47

اسکے علاوہ تیسرا کوئی آپشن نہیں۔ مزید اہلسنت مناظر نے شرائط کی خلاف ورزی کی ہے میرے حوالہ جات سے فرار ہوگیا جواب تک نہ دیا۔



 

جبکہ انہوں نے کلام تک نہ کیا جس سے فدک کا ہبہ ثابت ہے الحمد لللہ

 

سُنی مناظر: آپ کا استدلال پہلے سے طئے شدہ نکتہ اوّل  کے بلکل ہی خلاف ہے۔ اس لیے اس کو ہاتھ لگانے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوئی اور میں  سورت الحشر کے طرف جاکر آپ کو نہیں پھنسا رہا، آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ آپ کو  فدک کا نبی کی ملکیت میں ہونا ثابت کرنا ہے کہ یہ کونسی ملکیت تھی اور کہاں سے ملی تھی؟ اگر آپ ملکیت ثابت کرتے ہیں مسئلہ ہی ختم ہوجائے گا کیونکہ باغ فدک کا ملکیت رسول ﷺ  میں ہونا ثابت ہونے سے سیدہ فاطمہ  کا حق بھی ثابت ہوجائے گا۔

 

شرائط کی خلاف ورزی کا الزام: درحقیقت شرائط کی خلاف ورزی آپ نے کی ہے۔ یہ شرط تھی کہ دعویٰ اور دلیل میں مناسبت اور موافقت ہونا ضروری ہے مگر کوئی موافقت نہیں سب دیکھ رہے ہیں، چلیں اب میں نکتہ اوّل کو ثابت کرتا ہوں کہ فدک ذاتی ملکیت رسول ﷺ  نہیں تھا بلکہ فدک مال فئے تھا، جو بطور سنبھالنے کہ رسول اللہ ﷺ  کو عطا کیا گیا تھا۔





 

وھی انھا فھمت من قوله ماترکنا صدقة *الوقف*ورأت ان حق النظرعلی الوقف۔

 

ترجمہ: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا نے ان کے قول  ماترکنا صدقة  سے وقف سمجھا۔

 

 





 

قد خص رسول ص الخ ای بولایة دون تملک۔

 

ترجمہ۔یعنی رسول اللہ ص نے اس کو خاص کیا تھا بطور سنبھالنے کہ نہ کہ بحیثیت ملکیت کے















 

الزامی حوالہ





 

فدک مال فئے میں سے تھا ۔ مال فئے یعنی جو بغیر جنگ کئے مال حاصل ہوا ہو۔امام صادق رحمتہ اللہ علیہ کی طرف منسوب ہے یہ روایت۔ "وھی لله ورسوله ولمن قام مقامه بعدہ"  یعنی مال فئے اللہ اور اس کہ رسول ﷺ  اور اس کہ لیے ہے جو ان کا قائم مقام ہو۔

 

استدلال:

 

ان حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ باغ فدک ذاتی ملکیت رسول ﷺ  نہیں تھا۔



 

شیعہ مناظر:  میرا استدلال بالکل واضح ہے عزیز دعوی اور دلائل  کا آپس میں ربط ہے۔

 

استدلال:

 

1۔ فدک رسول ﷺ  کی ملکیت تھا ، اسی وجہ سے رسول ص نے جناب زھرا  س کو ہبہ کردیا۔

 

2۔رسول صادق و امین ہیں اگر فدک کسی غیر کا ہوتا تو کبھی بھی کسی غیر کا حق شہزادی س کو ہبہ نہ کرتے۔

 

عجیب  بات تو یہ ہے کہ آپ ایک عام بندے کی مثال کو رسول ﷺ  سے ملا رہے ہیں۔ عام بندہ غیر معصوم بھی ہے اور گنہگار بھی جبکہ رسول معصوم ہے ۔ یہ بات آپکی سمجھ میں ایسے نہیں آئے گی دلیل دیتا ہوں۔



 

وأجاب المانعون عن ذلك كله بأن ذلك صدر من الله ورسوله وما أن يخصا من شاءا بما شاءا وليس ذلك خير غيرهما

 

فتح الباری ج ۱۱ ص۱۷۰

 

"اور صلوت پڑھنے سے منع کرنے والے علماء ان دلائل کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ  کا کسی چیز کو کرنا ان کی مرضی ہے کہ وہ کسے مختص کریں اور جس طرح کریں اور کسی غیر خدا اور غیر نبی کو یہ حق نہیں کہ وہ کرے"

 

استدلال:

 

1۔ یہ عقلی بات ہے کہ رسول ﷺ  کا ہبہ کرنا اس بات کی قوی دلیل ہے کہ فدک نبی کی ملکیت تھا ورنہ نبی   کسی غیر کا حق مار کر (معاذ اللہ) اپنی بیٹی کو نہیں دے سکتے۔

 

2۔ آپکی عام انسان پر دینے والی مثال کا رد بھی خوب ہوگیا کہ کچھ چیزیں  خدا اور نبی کے لیے مخصوص ہوتی ہیں غیر نبی کو حق نہیں ہوتا۔

 

دعوی اور دلیل بالکل ایک ہے اور جو استدلال قائم کیا ہے وہ بھی واضح ہے چونکہ معاملہ رسول امین کا ہے تو ہبہ کے ثابت ہونے سے فدک کا نبی کی ملکیت ہونا  اپنے آپ ثابت  ہوجاتا ہے ، بصورت دیگر  رسول ﷺ  پر خائن کا الزام عائد ہوگا (نقل کفر کفر نباشد) اسے منطق کی زبان میں بیان کروں تو یہ  قضیہ  شرطیہ متصلہ لزومیہ ہے ۔



 

شیعہ مناظر کی طرف سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ



 

اہلسنت مناظر کی دلیل



 

شیعہ مناظر کا رد:  آپ کا یہ استدلال مبہم ہے ۔ یہ ایک عالم کا اجتہاد ہے اور اجتہاد اُس صورت میں ہے جب حدیث اور قرآن نہ ہو جبکہ یہاں قرآنی آیت بھی ہے اور حدیث بھی ہے۔ جناب زھرا س کا عمل اسکے بالکل بر خلاف ہے ۔ جناب زھرا س نے خود دعوی کیا تھا کہ فدک مجھے نبی ﷺ  نے ہبہ کردیا تھا۔اسی کتاب سے جواب لیں۔





 

اہلسنت مناظر کی دلیل





 

شیعہ مناظرکا  رد:  یہ بات بھی بالکل غلط ہے۔اگر خاصہ سے مراد سنبھالنے کے معنی میں ہے تو مال غنیمت کا سنبھالنا بھی رسول ﷺ کے ذمے ہی تھا کہ کس کو کتنا دینا ہے۔اگر ایسا ہے تو ثابت کریں کسی عالم نے غنیمت کو بھی رسول ﷺ  کا خاصہ لکھا ہو ۔آپکی تمام باتوں میں احتمال ہے۔

 

1۔پہلی دلیل میں ایک عالم کا اجتہاد ہے وہ بھی جناب زھرا  س کے عمل کے خلاف۔

 

2۔ دوسرے حوالے میں خاصہ بالکل غلط تاویل کی ہے ، اگر اسے مان لیا جائے   تو غنیمت بھی خاصہ ہوجائے گا۔

 

لہذا “اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال”

 

 مطالبہ:

 

میں نے حدیث رسول ص سے استدلال کیا کہ فدک نبی کی ملکیت ہے۔ آپ کو چائیے کہ حدیث رسول ص پیش کریں کہ مال و دولت ملکیت رسول ص نہیں ہوتی۔

 

دوسری دلیل: فدک رسول ص کی ملکیت تھا۔میں تم پر حوالہ جات ضائع نہیں کرنا چاہتا قسم سے۔

 

ایک حوالہ دے کر آگے جا رہا ہوں اور تمہارے رونے دھونے کو ختم کر رہا ہوں۔اب ہبہ والی روایت پر کلام کرنا۔





 

جناب تقی عثمانی صاحب  انعام الباری میں لکھتے ہیں۔

 

فدک مال فئے میں داخل ہو گیا ، جس کے بارے میں نبی ص کو مکمل اختیار حاصل تھا۔ وہ آپ ص کی ملکیت تھا۔

 

آگے جناب نے عجیب و غریب حرکت کی ہے۔شرائط میں لکھا ہے جب تک رد نہیں کردیتے الزامی جواب نہیں دے سکتے۔ہر باری میں سنی مناظر شرائط کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے ۔

 

اہلسنت مناظر کی دلیل  



 

شیعہ مناظر کا اقرار کہ فدک بعد از نبی قائم مقام کا ہے۔

 

 شیعہ مناظر: 

 

1۔اول اس روایت میں کچھ ہے ہی نہیں الُٹا میرے حق میں ہی ہے کہ مال فئے اللہ اور رسول ص کا ہے اور اس کے بعد قائم مقام کا ہوگا جو ہمارے نزدیک ائمہ اہلبیت ع ہیں۔

 

2۔ دوم شرائط میں لکھا ہے ایک دوسرے کے اصولوں حدیث پر بات ہوگی۔

 

3۔ پیش کردہ روایت ضعیف ہے سند ہی نہیں۔

 

 خلاصہ

 

1۔فدک رسول ص کی ملکیت تھا ۔

 

2۔ملکیت ہونے کی وجہ سے ہی رسول ص نے فدک شہزادی س کو ہبہ کردیا تھا۔

 

3۔اہلسنت کی حسن درجے کی روایت سے فدک کا ہبہ کرنا بھی ثابت کردیا۔ الحمد لللہ



 

صفحہ 19 از 47