باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟ - سنی شیعہ…

باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 14 از 47

سنی مناظر: ایک جارح (محدث) کے نزدیک اپنے اصول و ضوابط کے تحت  وہ راوی مکمل مردود ہوگا۔اس محدث کی تحقیق اور اصول و ضوابط کےمطابق اگر وہ جرح  مفسر ہے۔   جس محدث نے اس راوی کو ضعیف کہا ہے اس نے اپنے اصول و ضوابط کے تحت،  اس  محدث کے اصول وضوابط  دوسرے محدثین پر لاگو نہیں ہونگے۔کیونکہ ضروری نہیں کہ ایک راوی کو سب محدث ضعیف کہیں یا سب ہی  ثقہ کہیں۔ جتنا راوی کے متعلق زیادہ تفصیل ہوگی اتنا کوئی  محدث اس کے متعلق اپنی رائے قائم کرے گا،   اصول حدیث میں جرح کی اہمیت زیادہ ہے کیونکہ جارح  اس  راوی کی ایسی باتیں بھی جانتا ہے جو دوسرے  تعدیل کرنے والے نہیں جانتے۔

شیعہ مناظر:  پھر کیسے پتا چلا گا راوی ثقہ یا ضعیف؟جب جرح مفسر رائج ہوگی تو مطلقا  راوی ضعیف ہو جائے گا اور تمام مرویات ضعیف ہوں گی ۔  جرح مفسر اور جرح مبھم سے کیا مراد ہے؟ جرح مفسر سے مراد وہ وجوہات ہیں جسکی بنیاد پر کسی راوی کو ضعیف کہا جائے۔ جرح مبھم وہ جرح ہے جس میں کوئی وجہ نہ بتائی جائی جائے فقط تضعیف منقول ہو متروک منکر الحدیث جیسی چیزیں کہہ دی ہو۔  میں اس پر دلیل دیتا ہوں۔

یہ آپ نے ہی پیش کیا ہے۔جرح مفسر کے لئے یہ الفاظ ہوتے ہیں۔

الزامی جواب

اگر یہ جرح مفسر پر دلالت کرتے ہیں تو امام مسلم نے  نعمان بن ثابت ابو حنیفہ   پر جرح کرتے ہوئے   مضطرب الحدیث کہا ہے۔ لہذا تیرا امام گیا۔

   امام مسلم ؒکہتے ہیں یہ مضطرب الحدیث تھا اور اسکی احادیث صحیح نہیں ہیں، عمرو بن  علی نے بھی اسکو مضطرب الحدیث کہا ہے۔اگر یہ جرح مفسر ہے تو گیا تیرا  امام

منکر الحدیث کہنا جرح مفسر نہیں۔

  امام علاء الدین الحنفی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں "ائمہ حدیث جو طعن کرتے ہیں رایوں پر اُن میں جرح مبھم کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ آگے الفاظ بیان کرتے ہیں  جیسے "اگر کوئی کہے حدیث غیر ثابت ہے ، منکر ہے ، متروک ہے ، ذاھب الحدیث ، یا مجروح ہے" یہ سب جرح مبھم ہے۔

  منکر الحدیث ہونا جرح مفسر نہیں یہ سب جرح مبھم ہے۔

" جو بھی روایت منکر کو ذکر کرے اسکے نام کو ضعیف راویوں میں ذکر کیا جائے تو اس صورت میں محدثین میں سے کوئی بھی سالم و صحیح نہیں بچے گا"

امام بخاری کا منکر الحدیث راویوں سے نقل کرنا  دلیل ہے کہ منکر الحدیث مفسر کلام نہیں۔

احمد بن شہیب منکر الحدیث ہے لیکن امام بخاری نے اس سے صحیح میں روایت لی جوکہ واضح دلیل ہے یہ مفسر کلام نہیں ہے۔

 شیعہ مناظر:  تم جیسے جاہلوں کا کیا تعلق جرح و تعدیل سے ۔  علماء کا عمل کچھ اور ہوتا ہے اور دلیل عمل سے پکڑتے ہیں ، اس طرح تو عکرمہ بخاری کا راوی ہے اور اس پر کذاب کی جرح ہے ،  اب کیا کروگے؟

قارئین!  یہ بندہ اتنا جاہل ہے کہ  ابن حبان کے تساہل پر حوالے دے رہا ہے۔ ابن حبان پر توثیق کرنے پر تساہل کا الزام ہے۔ اور ہمارا کلام   ابن حبان کی جرح   پر ہے اُسکی توثیق میں تساہل تھا  یا نہیں اس سے ہمارا کیا  واسطہ؟؟؟؟؟  اس بیوقوف کو خود نہیں معلوم یہ کیا بھیجتا ہے۔ بس  جو پیچھے سے آتا ہے، یہاں  بھیج دیتا ہے جاہل۔

شیعہ مناظر کا ادب و اخلاق ملاحظہ فرمائیں

ابن حبان متشدد ہیں۔  ابن حبان جرح کرنے میں متشدد  ہیں ثقہ راویوں پر بھی جرح کر دیتے ہیں ۔

شیعہ مناظر:  ابن حبان کی جرح اُس صورت میں قبول ہوگی جب کوئی اور متقدمن ایک راوی پر   وہی جرح کرے گا جو ابن حبان نے کی۔ یعنی ابن حبان اُس جرح میں انفرادی حیثیت نہ رکھتا ہو۔ لہذا سنی مناظر کو چیلنج ہے دکھائے کسی اور بندے نے فضیل بن مرزق  کو منکر الحدیث کہا  ہو

 امام نسائی کی جرح : امام نسائی کی جرح مبھم ہے۔ 

 فقط  ضعیف  کہاہے کوئی وجہ  بیان نہیں  کی ہے 

 احناف کے ہاں جرح مبھم مطلقا  مقبول نہیں ہوتی ۔ یہ دیکھیں

  لہذا امام نسائی کی جرح ردی کی ٹوکری میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ مجھے افسوس ہو رہا ہے یہ کتنا جاہل انسان ہے اسکو خود پتہ نہیں  ہوتا  کہ یہ کیا بھیج رہا ہے ،اس میں لکھا کیا ہے۔ یقین نہیں آتا تو  خود دیکھیں۔

شیعہ مناظر: امام بخاری نے کب کہا فضیل منکر الحدیث ہے؟   فضول میں اسکین بھیج رہے ہیں! نہ کوئی لینا  نہ کوئی دینا۔ عجیب جہالت ہے ۔  ناصبی عبد السلام چیلنج ہے ثابت کر بخاری نے   فضیل  بن مرزوق کو منکر الحدیث کہا   ہو۔ لہذا فضیل پر کوئی جرح مفسر ثابت ہی نہیں اسی وجہ سے امام مسلم نے اس سے روایت نقل کی ہیں۔ اس جاہل کو یہ بھی نہیں پتا  میزان الاعتدال  میں ذہبی  نے سب کے اقوال جمع کردئے   ہیں۔ ذہبی نے بھی دیکھا تھا  ابن حبان نے کیا کہا ہے۔ پھر بھی   فائنل حکم ثقہ   کا  لگایا۔ کہہ دو امام ذہبی جاہل  تھا۔

فضیل کی  روایات پر محققین کی طرف سے صحت کا حکم لگانا

امام مسلم نے 2جگہ فضیل سے روایت لی ہے

حدثنا حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي ، اخبرنا يحيى ابن آدم ، حدثنا  الفضيل بن مرزوق ، عن شقيق بن عقبة ، عن البراء بن عازب ، قال: نزلت هذه الآية: حافظوا على الصلوات وصلاة العصر، فقراناها ما شاء الله، ثم نسخها الله، فنزلت " حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى سورة البقرة آية 238 "، فقال رجل، كان جالسا عند شقيق له: هي إذا صلاة العصر؟ فقال البراء: قد اخبرتك كيف نزلت، وكيف نسخها الله، والله اعلم

 اسکو شرم آنی چائیے مسلم کے راوی پر جرح کرتے ہوئے۔ شاہ ولی وللہ کے نزدیک صحیحین کی صحت میں شک کرنے والا بدعتی ہے ۔  مبارک ہو فضیل بدعتی ثابت نہیں ہوا  بلکہ عبد السلام بدعتی ثابت ہوگیا

شعیب الارنووط کے نزدیک فضیل کی روایات  حسن

 لہٰذا واضح ہوا فضیل بالکل ثقہ راوی ہے۔میں نے فضیل کو سنی المذہب ثابت کیا  اور یہ بھی  ثابت کیا کہ اُس میں کوئی بدعت نہیں تھی۔ اس نے جواب تک نہ دیا اُسکا ، سب کھا گیا ۔ لے آجا پھر موڈ میں ہوں احناف کی کتاب سے دلیل دیتا ہوں۔ راوی بدعتی بھی ہو   تو روایت قبول ہوتی ہے۔

امام سخاوی فتح المغیث میں لکھتے ہیں

" خطیب نے کہا ؛ یہ مذہب ہے کہ بدعتی کی روایت ہے وہ بھلے داعی ہو یا غیر داعی ہو بس جھوٹ نہ بولتا ہے (ثقہ ہو) امام ابئ لیلی ، سفیان ثوری ، امام ابو حنیفہ  ، امام حکم نے مدخل میں فرمایا اکثر ائمہ کا یہی عقیدہ تھا، امام فخر الدین رازی نے محصول میں کہا یہی حق ہے"

(فتح المغیت ج2 ص 66)

  راوی فقط ثقہ ہو باقی جو بھی ہو روایت قبول ہوگی۔   

گفتگو کا خلاصہ

صفحہ 14 از 47