باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟ - سنی شیعہ…

باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 10 از 47

سُنی مناظر: اچھا جی بدعتی نہیں تھا تو کیا گواہی والہ قصہ سنی مذہب میں ہے؟ یہ پورا قصہ شیعہ مذہب کا ہے اور وہ میں نے  شیعہ سنی کتب سے ثابت کیا ہے۔

شیعہ مناظر: فضیل بن مرزوق میں بدعت ثابت کی جائے؟

سُنی مناظر: بدعت ثابت کردی ہے، کیونکہ گواہی والا قصہ شیعہ مذہب میں ہے نہ کہ سنی مذہب میں اور اس کی یہی بدعت تھی کہ نئی بات سنی مذھب میں ڈال رہا تھا کیا یہ کافی نہیں ہے۔

شیعہ مناظر کا شکوہ: شیعہ کتب سے فضول اسکینز بھیج رہے ہیں۔

سُنی مناظر: الزامی حوالے ہیں۔ الزامی حوالے کا تو پتہ ہے نا یا میں بتاؤں؟ میں نے پہلے سنی کتب سے فضیل بن مرزوق کو شیعہ ثابت کیا اور اس کہ بعد الزامی حوالہ شیعہ کتب سے بھی دیا اس پر حیران ہونے کی وجہ؟

شیعہ مناظر کی بوکھلاہٹ: سید خوئی رض کی کتاب سے اسکین پیش کیا کہ عطیہ اصحاب صادق ع میں سے تھا۔

سُنی مناظر: عطیہ نہیں فضیل، دیوار سے بات کر رہا ہوں کیا؟ بات فضیل پر ہو رہی ہے اور آپ نام عطیہ کا لے رہے ہو اصل میں میموری فل ہے نا اس لیے۔

شیعہ مناظر: ابوحنیفہ بھی اصحاب صادق میں سے تھا تو کیا وہ بھی شیعہ تھا؟

سُنی مناظر: اس کا جواب فتوی دارالعلوم سے دیتا ہوں۔ قبول کرنا۔

https://darulifta-deoband.com/home/ur/History--Biography/40667

سوال نمبر: 40667

عنوان: كیا امام ابوحنیفہؒ اور دیگر ائمہ نے جعفر صادقؒ سے علم حاصل كیا ہے؟

سوال: 1) کیا یہ صحیح ہے کہ امام ابو حنیفہ اور باقی تینوں آئمہ نے امام جعفر صادق سے علم حاصل کیا ہے؟

2) اور ہمیں جعفر صادق کے بارے میں کیا گمان رکھنا چاہیے؟ 3)کیا ان کے نام کے ساتھ امام کا لفظ استعال کر سکتے ہیں؟ 4)شیعہ کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ امام جعفر کے شاگرد رہے ہیں آپ لوگ شاگرد کو مانتے ہو استاد کو نہیں تو اس کا کیا جواب دینا چاہیے؟

5)کیا یہ بات صحیح ہے کہ کسی کو پیسے دیتے وقت بائیں ہاتھ سے دیں اور اور لیتے وقت دائیں ہاتھ سے لیں۔ اگر صحیح ہے تو صدقے یا کسی اور اچھے مقصد کے لیئے جو پیسے دئیے جائیں تو کیا وہ بھی بائیں ہاتھ سے دینے چاہیے ؟

جواب نمبر: 40667

بسم الله الرحمن الرحيم

 فتویٰ: 1015-100/N=11/1433 (۱)

1۔ امام ابوحنیفہؒ اور امام مالکؒ کے متعلق تو یہ بات صحیح ہے، لیکن امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے متعلق صحیح نہیں، بلکہ صریح جھوٹ اور غلط ہے کیونکہ جعفر صادقؒ کی وفات کے بعد دونوں کی ولادت ہوئی ہے، جعفر صادقؒ کی وفات 149ھ میں ہوئی اور امام شافعیؒ کی ولادت 150ھ میں اور امام احمدؒ کی 164ھ میں کذا فی کتب الرجال والتراجم۔

2۔ اکثر ائمہ جرح و تعدیل اور محدثین نے انھیں ثقہ قرار دیا ہے اور یہ نہایت نیک وصالح اور زاہد تھے، اور ان کے بے شمار مناقب ہیں، البتہ ان کے بہت سے شیعہ شاگردوں نے ان کی طرف سے بہت سی گھڑی ہوئی بےبنیاد باتیں منسوب کردی ہیں اس لیے شیعوں کی روایات ان کے متعلق صحیح نہیں۔

3۔ جس معنیٰ میں شیعہ فرقہ ان کے ساتھ امام کا لفظ استعمال کر سکتا ہے اس معنیٰ میں ان کے ساتھ لفظ امام کا استعمال حرام اور گمراہی ہے، اور اگر کوئی جائز معنیٰ مراد ہوں تب بھی ان کے ساتھ لفظ امام کا استعمال درست نہیں کیونکہ یہ لوگوں کے لیے اشتباہ کا باعث بنے گا اور نیز شیعہ فرقہ کے ساتھ تشبہ لازم آئے گا اور باعث اشتباہ امر اور تشبہ باہل البدع دونوں ہی سے بچنا واجب و ضروری ہے۔

4۔حضرت جعفر صادقؒ کے متعلق جو باتیں صحیح اور معتبر اسانید سے مروی ہیں وہ ہم اہل السنہ والجماعت بھی قبول و تسلیم کرتے ہیں بلکہ امام بخاریؒ (الادب المفرد میں) امام مسلمؒ، امام ترمذیؒ، امام ابو داؤدؒ، امام نسائیؒ اور امام ابن ماجہؒ وغیرہ جلیل القدر محدثین نے تو ان کی بہت سی روایات بھی نقل کی ہیں، ہاں البتہ شیعوں نے اپنی طرف سے ان کی طرف جو غلط باتیں منسوب کردی ہیں وہ ہم نہیں مانتے ہیں بلکہ شدت سے ان کا انکار کرتے ہیں۔

5۔ یہ بات غلط ہے، حضور اکرمﷺ کے متعلق احادیث میں مروی ہے کہ آپ لیتے بھی تھے دائیں ہاتھ سے اور دیتے بھی تھے دائیں ہاتھ سے، اخرج النسائی فی سننہ (کتبا الزینة، التیامن فی الترجل: جلد 2 صفحہ 275)

بسندہ عن عائشة قالت: ”کان رسول اللہﷺ یحب التیامن یأخذ بیمینہ ویعطي بیمینہ ویحب التیمن في جمیع أمورہ۔

واللہ تعالیٰ اعلم 

دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند 

سُنی مناظر: حضرت جعفر صادقؒ کیا شیعوں کی ملکیت ہے جو کہتے ہو تمہارے ابوحنیفہؒ ان کہ شاگرد تھے۔ الحمدلللہ دونوں ہمارے ہیں اور دونوں ہمارے امام ہیں شیعوں والے امام نہیں۔

پہلی بات امام جعفر صادقؒ شیعہ نہیں تھے بلکہ اگر ان کو موجودہ شیعہ عقائد کا علم ہوتا تو ان پر لعنت کرتے۔ دوسری بات اگر شیعہ ہو بھی اور امام ابوحنیفہؒ ان کے شاگرد بھی ہوں تب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اس دور کے شیعہ ہونے پر کوئی جرح نہیں ہے، کئی بار کہہ چکا ہوں۔ ایسے تو امام بخاریؒ کہ استاد بھی شیعہ تھا۔ وہ بحث الگ ہے کہ موجودہ شیعہ اور ان راوی شیعوں کا عقیدہ ایک تھا یا الگ تھا۔ فی الحال ہماری بحث اس نکتہ پر ہورہی ہے کہ بدعتی راوی کی اپنے مذہب کی تائید میں روایت قبول کی جاتی ہے کہ نہیں۔

میں سُنی و شیعہ دونوں کی کتب سے متفقہ اصول پیش کر کے ثابت کر چکا ہوں کہ ثقہ راوی کی اپنے مذہب کی تائید والی روایت سُنی و شیعہ کے ہاں قابل حجت نہیں ہوتی۔ اس اصول کو کو ہاتھ لگانے میں موصوف کو موت نظر آرہی ہے۔ دوسری بات آپ کی کتاب  (تفسیر قمی کی صحیح روایت)آپ پر حجت ہے  ناکہ مجھ پر۔

میں نے آپ کی کتاب سے حوالہ دیا وہ الزامی تھا اس سے پہلے میں نے اپنی کتاب سے حوالہ پیش کیا تھا مگر افسوس کہ آپ نے صرف اپنی کتاب تفسیر قمی سے حوالہ پیش کیا جو کہ شرائط کے بلکل ہی خلاف ہے۔ اس لئے کچھ خیال کریں۔

جو بات کرنی ہے کریں لیکن الفاظ کا چناؤ درست رکھیں یا میں آپ کی تربیت ایسی سمجھوں کہ بار بار کہنے سے بھی آپ نہیں سمجھ رہے ہو۔

شیعہ مناظر: میں نے تفسیر القمی سے صحیح السند روایت کے ساتھ گواہ والی بات ثابت کی تھی۔

صفحہ 10 از 47