اسرائیلی یہودیوں اور دروزیوں کے روابط اور ان کے مقامات -…

اسرائیلی یہودیوں اور دروزیوں کے روابط اور ان کے مقامات

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 2
  1. دروزی شیعوں کا خفیہ رابطہ یہودیوں کے ساتھ تھا۔ ان میں سے ایک ان کا شیخ لبیب ابو رکن ہے۔ یہ یہودی ہم وطنوں کے ساتھ گہرے روابط اور ملاپ رکھتا تھا۔ فلسطینیوں کا مخالف تھا۔ 1948ء میں جنگ سے پہلے یا دورانِ جنگ اس نے یہودیوں کی ہمایت کی تھی، اس نے یہودیوں کی بہبود و صلاح کے لیے اراضی خریدنے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا، اس نے دروزی فوجیوں کی رجمنٹ ملا کر یہودیوں کی ہافانا فوجی قوت میں اضافہ کیا تھا۔ یہ عوسفیا بستی کا رہنے والا تھا اس کی عمر 74 سال تھی۔ یہ خبیث اسرائیلی فوجوں تک ہتھیار سپلائی کرنے میں اور اناج ذخیرہ کر کے ان کی طاقت میں مضبوطی پیدا کرتا رہا۔ یہی وہ خبیث تھا جس نے بیت المقدس تک جانے کے لیے راستہ بنانے میں تعاون کیا۔ علاوہ ازیں اس نے خفیہ راز بھی اس تک پہنچائے اور اسرائیلیوں کے خلاف عرب تحریکوں کے اہم راز بھی اس خبیث نے ان تک پہنچائے۔
  2.  شیخ صالح خنیفس ہے یہ شفارعان بستی کا رہنے والا تھا۔ یہ بستی یہودیوں کی خدمات میں بدنام ترین تھی یہ دوسرے دروزی لیڈروں کی مانند ہی سرگرم عمل ہوا۔ اس نے دروزی شیعوں اور یہودیوں کے درمیان تعلقات مضبوط طور پر استوار کرائے۔ پھر یہ اپنی سرگرمیوں میں اور تیز ہو گیا اس نے جلیل کے مغرب میں واقع دو فلسطینی بستیوں عربہ اور سخنین کے گرانے پر اسرائیل کو پورا تعاون پیش کیا۔ یہ شیخ ایک مصیبت تھا اس نے یہودی منصوبہ بندی کو کامیاب کرانے کی خاطر آزاد فلسطینیوں کو غلام بنا دیا ان کی زمینیں فروخت کر دی انہیں پتہ بھی نہ چلنے دیا۔
  3. شیخ جبر معدی ہے۔ اس نے 1937ء سے لے کر 1948ء تک دروزیوں کا اکٹھا کیا اور اس نے اپنی پوری کوشش سے دروزیوں کو اسرائیلی فوج میں شامل کروایا، دروزیوں کے نزدیک اس کا اہم ترین کارنامہ یہ ہے کہ خبیث یہودیوں کے محاصرہ میں آنے کی صورت میں جب وہ یحیٰ عام کے علاقے میں محصور ہو گئے تھے یہ خوراک پہنچاتا تھا یہ خبیث اسرائیلی کابینہ کا اہم رکن تھا اور اٹھائیس برس تک رہا ہے۔ اس کے رامی اور ترشیحا کے علاقے میں فوجی تنظیموں کے ساتھ قوی رابطے تھے جو عربوں کو نجات دلانے کے لیے بنائی گئی تھی۔ ان عرب لوگوں کو علم نہ تھا کہ اس دروزی شیعہ شیخ کا اسرائیلی تنظیم الہافانا سے رابطہ ہے۔ اس وجہ سے اسے مکمل آزادی سے کام کرنے کا اور سازش کرنے کا موقع ملا اور اسے وہ اہم ترین معلومات تک رسائی حاصل رہی جن کی مدد سے جلیل مغرب کو گرانے کا آسان طریقہ یہودیوں کے ہاتھ آ گیا اور عرب قوتوں اور تنظیموں کو بہت سخت نقصان اٹھانا پڑا۔
  4. للشیخ مزید عباس ہیں، یہ جلیل علاقہ کے شہر حات کا رہنا والا ہے۔ یہ دس سال کی عمر میں ہی اسرائیلیوں کے ساتھ تعاون کرنے کی مہارت رکھتا ہے۔ اس کا باپ اسے اکثر یہودیوں کی منصوبہ بندی پوری کرنے کے لیے اسے بھیجتا رہا ہے۔ یہ ان یہودیوں کے لیے جو یحیٰی عام کے علاقہ میں محصور ہو گئے تھے ان کو کھانا دے کر بھیجا کرتا تھا۔ مزید عباس نے یہودی فوج میں 29 برس کام کیا ہے یہاں تک کہ یہ کلیدی عہدوں تک رسائی پا گیا۔ اسرائیل کے بہت اہم عہدوں پر فائز رہا ہے۔ اس نے کچھ عرصہ فلسطین میں دروزیوں کے معمولات کی وزارتِ عظمٰی کے نائب کی حیثیت سے بھی کام کیا ہے۔ یہ شخص فلسطینی سنی مسلمانوں کے خلاف سخت کینہ رکھتا ہے۔ اللہ اس سے اس کے ظلم کے مطابق فیصلہ کرے۔

ان کے مقامات:

آج کل یہ دروزی شیعہ سوریا، لبنان اور فلسطین میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی زیادہ اکثریت لبنان اور سوریا میں ہے۔ اور مقبوضہ فلسطین میں بھی یہ کافی تعداد میں ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی شہریت اختیار کر رکھی ہے۔ اسرائیلی فوج میں رضاکارانہ کام کر رہے ہیں۔ برازیل، آسٹریلیا سے بھی ان کا رابطہ ہے۔ ولید جنبلاط کی وجہ سے لبنان میں ان کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے لبنانی جنگ میں ان کا بہت زیادہ کردار رہا ہے۔ مسلمان سنّیوں سے بے حد عداوت رکھتے ہیں۔ ان کی تعداد تقریباً 250 ملین ہے۔ سوریا میں تقریباً 120 ہزار نفوس ہیں۔ قریہ میں تقریباً 73 ہزار نفوس ہیں۔ اور لبنان میں تقریباً 90 ہزار نفوس ہیں۔ باقی مقبوضہ فلسطین اور مہجر کے علاقوں میں ہیں۔ سوریا کے بالائی جنوبی علاقوں میں جولان وغیرہ میں بھی رہتے ہیں۔ لبنان میں ایک پہاڑ کا نام ہی دروزی ہے۔ ان کے مشہور ترین شہر درج ذیل ہیں: 

عیبہ شویفات بعقلین شحار جرد عرقوب باروک مقبوضہ فلسطین میں جبل کرمل عکا کبریا صفد میں بھی یہ پائے جاتے ہیں۔ اسرائیل میں تقریباً 30 ہزار دروزی شیعہ ہیں، جو کہ اس کا معاشرتی جزو بن چکے ہیں۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے دروزی شیعہ اسرائیل کی فوج، سیاست، وزارت ہر شعبے میں با اثر ہو چکے ہیں۔ مغرب کے شہروں میں تلمسان کے قریب ایک قبیلہ ہے، یہ بنو عبس کے نام سے مشہور ہے یہ بھی دروزی عقیدہ رکھتا ہے۔

(مزید معلومات کے لیے عقیدہ دروز عرج و نقد محمد احمد الخطیب کی اور اضواء علی العقیدہ الدرزیہ احمد فوزان کی اصل الموحدین الدروز امین طلع کی اور کتاب الدروز والشوره السوريہ امین راشد کی اور طائفہ الدروز محمد کامل حسن کی اور الحرکات فی لبنان الی عہد المتصرفہ یوسف ابو شقر کی کتاب الدروز مؤمرات و تاریخ و حقائق فؤاد اطرش کی ملاحظہ فرمائیں)۔


صفحہ 2 از 2