دوسرا نکتہ علمی مقام و مرتبہ کے اسباب - دفاعِ اہلِ سنت |…

دوسرا نکتہ علمی مقام و مرتبہ کے اسباب

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

’’ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکلے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے آپﷺ پر غیرت آ گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور آپﷺ نے دیکھا کہ میں کیا کر رہی ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ’’اے عائشہ! تمھیں کیا ہوا ہے؟ کیا تمھیں غیرت آ گئی ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، میں نے کہا: کیا ہے کہ مجھ جیسی آپﷺ جیسے پر غیرت نہ کرے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تمہارے پاس تمہارا شیطان آیا ہے؟‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے رسول اللہ! کیا میرے ساتھ شیطان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جی ہاں!‘‘ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے پوچھا: کیا ہر انسان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘ میں نے کہا: اور اے رسول اللہ! کیا آپ کے ساتھ بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں، (میرے ساتھ بھی ہے) لیکن میرے رب نے اس کے خلاف میری مدد کی ہے، چنانچہ وہ تابع ہو گیا۔‘‘ یا فرمایا: ’’میں اس سے محفوظ ہو گیا ہوں۔‘‘

(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2815۔ عائشۃ ام المومنین افقہ نساء الامۃ علی الاطلاق لفیصل اخفش: صفحہ 230)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار استفسارات سے امت مسلمہ کو جو فائدہ ہوا اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دوشیزہ کے بارے میں استفسار کیا، جس کے گھر والے اس کی شادی کرنا چاہتے ہوں، کیا اس سے مشورہ کیا جائے گا یا نہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ’’ہاں! اس سے مشورہ کیا جائے گا۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: وہ تو شرمائے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’شرم سے اس کا خاموش رہنا ہی اس کی رضامندی ہے۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 6946۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1420)

سوال کرنے سے علم میں اضافہ ہوتا ہے جب کہ شرمیلے پن میں علم کی بڑھوتری بہت کم ممکن ہے۔ جیسا کہ مجاہد (یہ مجاہد بن جبر ابو الحجاج قریشی بنو مخزوم کے آزاد کردہ غلام ہیں۔ امام حدیث، شیخ القراء و المفسرین ہیں۔ 101 ہجری کے لگ بھگ وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 4 صفحہ 449۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 5 صفحہ 373۔) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’شرمیلا اور متکبر انسان علم حاصل نہیں کر سکتے۔‘‘

اس خوبی کی وجہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بے شمار صحیح احادیث نبویہ کی راویہ ہیں جو اور کسی صحابہ کے پاس نہ تھیں کیونکہ بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت و جلالت سے مرعوب رہتے اور سوال کرنے کی جرات نہ کرتے اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے بقول:

’’صحابہ رضی اللہ عنہم پسند کرتے تھے کہ کوئی دیہاتی آئے جو سمجھ دار اور معاملہ فہم ہو اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال پوچھے اور ہم آپ کے جوابات سنتے رہیں۔‘‘

(السیدۃ عائشۃ: ام المومنین و عالمۃ نساء العالمین لعبد الحمید طہماز: صفحہ 17)


صفحہ 2 از 2