چوتھا باب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علمی مقام و مرتبہ -…

چوتھا باب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علمی مقام و مرتبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بے شمار خواتین نے علوم حاصل کیے۔ مثلاً ان کی بھتیجی اسماء بنت عبدالرحمٰن بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہم، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی آزاد شدہ خادمہ بُہَیَّہ اور ان کی بھتیجی حفصہ بنت عبدالرحمٰن بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہم، حسن بصری کی والدہ خیرہ صلی اللہ علیہ وسلم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی پہلے خاوند ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے بیٹی زینب اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی بیوی صفیہ بنت ابی عبید، عائشہ بنت طلحہ بن عبیداللہ، عمرہ بنت عبدالرحمٰن (یہ عمرہ بنت عبدالرحمٰن بن سعد انصاریہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس علم فقہ میں مہارت حاصل کی اور ان کے ہاں پرورش پائی۔ اپنے عہد میں عالمہ، فقیہہ، حجت اور کثرت علم کی وجہ سے مشہور تھیں۔ 98 ہجری یا 106 ہجری میں فوت ہوئیں۔ (سیر اعلام النبلاء: للذہبی: جلد 4 صفحہ 507۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 6 صفحہ 606۔) ، مسروق بن اجدع کی بیوی قَمِیْر، یوسف بن ماہک کی والدہ مُسیکہ مکیہ اور معاذہ عدویہ سمیت لاتعداد تابعی خواتین نے ان سے علم حاصل کیا۔

(تہذیب الکمال للمزی: جلد 35 صفحہ 232 حدیث نمبر: 7885۔ سیر اعلام النبلا للذہبی: جلد 2 صفحہ 135۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 12 صفحہ 306)


صفحہ 3 از 3