چوتھا باب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علمی مقام و مرتبہ -…

چوتھا باب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علمی مقام و مرتبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

6۔ ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن (یہ ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف زہری رحمہ اللہ ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کا نام عبداللہ یا اسماعیل ہے اور یہ قول بھی ہے کہ ان کا نام ہی ان کی کنیت ہے۔ یہ بکثرت احادیث کو روایت کرنے والے اور اپنے وقت کے امام مجتہد اور علم کے متلاشی تھے۔ 94 ہجری یا 104 ہجری میں فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 5 صفحہ 88۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 6 صفحہ 369۔) رحمہ اللہ (ت: 104 ہجری) فرماتے ہیں:

’’میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑا سنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عالم نہیں دیکھا اور ان سے بڑا کوئی فقیہ نہیں دیکھا کہ جس کے لوگ محتاج ہوں اور آیات کے اسباب نزول اور فرائض کے جاننے میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑا کوئی عالم نہیں دیکھا۔‘‘

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد: جلد 2 صفحہ 276۔)

7۔ امام زہری (یہ محمد بن مسلم بن عبیداللہ بن شہاب ابوبکر زہری رحمہ اللہ ہیں۔ اپنے زمانے میں علم کے امام، اپنے وقت کے حافظ حدیث ہیں۔ 50 ہجری یا اس کے بعد پیدا ہوئے۔ احادیث صحاح ستہ کے علماء میں سب سے بڑے حافظ و عالم الحدیث تھے۔ سخاوت کی وجہ سے لوگوں میں مشہور ہیں۔ 125 ہجری کے لگ بھگ وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 5 صفحہ 326۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 5 صفحہ 284۔) رحمہ اللہ (ت 125 ہجری) فرماتے ہیں:

’’اگر تمام جہانوں کی عورتوں کے علوم کو جمع کیا جائے اور اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علم کے سامنے لایا جائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم سب سے افضل ہو گا۔‘‘

اور ایک روایت میں امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’اگر اس امت کی سب عورتوں کا علم جمع کیا جائے جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات علیہ السلام کے علوم بھی ہوں تو بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم ان سب کے علم سے زیادہ ہو گا۔‘‘

(السنۃ للخلال: صفحہ 753۔ المعجم الکبیر للطبرانی: صفحہ 299۔ مستدرک حاکم: جلد 4 صفحہ 12، حدیث نمبر: 6734۔)

8۔ ابن عبدالبر (یہ یوسف بن عبداللہ بن محمد ابو عمر قرطبی مالکی رحمہ اللہ ہیں۔ دیار اندلس میں شیخ الاسلام کے لقب سے مشہور تھے۔ 368 ہجری میں پیدا ہوئے۔ علم حدیث کی تلاش میں نکلے اور اس میں مہارت تامہ حاصل کی۔ یہ دین پر شدت سے ثابت قدم، ثقہ، حجت اور تمام لوگوں میں ان کی شہرت بطور علامہ، متبحر، صاحب السنۃ و الاتباع معروف تھی۔ یہ شبونہ شہر کے قاضی مقرر ہوئے۔ ان کی مشہور تصنیف ’’التمھید‘‘ ہے۔ 463 ہجری میں فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد18 صفحہ 153۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 3 صفحہ 313۔) رحمہ اللہ (ت: 463 ہجری) فرماتے ہیں:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے زمانے میں تین علوم میں بے مثال تھیں: علم فقہ، علم طب اور علم الشعر۔‘‘

(الاجابۃ للزرکشی: صفحہ 31)

9۔ امام ذہبی رحمہ اللہ (ت: 748 ہجری) فرماتے ہیں:

’’مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ہی نہیں بلکہ تمام عورتوں میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑی عالمہ دکھائی نہیں دیتی۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 140)

10۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ (ت: 774ہجری) فرماتے ہیں:

’’صرف اس امت کی عورتوں میں ہی نہیں بلکہ تمام امتوں کی عورتوں میں ان سے زیادہ نہ کوئی عالمہ اور نہ ان سے زیادہ کوئی سمجھ دار عورت ہے۔‘‘

(البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 2 صفحہ 431)

نیز وہ فرماتے ہیں:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا صحابہ رضی اللہ عنہم سے متفرد ہیں۔ ان کے علاوہ وہ مسائل کسی اور کے پاس نہ تھے بلکہ وہ مختلف مسائل میں راہ حق اختیار کرنے میں بھی منفرد ہیں اور ان کے خلاف جو روایات ہوتیں تو تاویل و تفسیر کے ذریعے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کو رد کر دیتی تھیں۔‘‘

(البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 11 صفحہ 339)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحابہ و تابعین کی بہت بڑی تعداد نے زانوئے تلمذ طے کیا۔ لوگ عراق، شام اور جزیرۃ العرب کے بیشتر علاقوں سے ان کے پاس علوم قرآن و حدیث وغیرہ سیکھنے کے لیے آتے رہتے تھے۔ ان کے مشہور شاگردوں میں سے محمد ابن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما کے دونوں بیٹے قاسم اور عبداللہ جو دونوں ان کے بھتیجے بھی تھے اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے دونوں بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ اور عروہ رحمہ اللہ ہیں یہ دونوں ان کے بھانجے تھے اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پوتے عباد بن حمزہ رحمہ اللہ ہیں۔

صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے سیدنا عمرو بن عاص، سیدنا ابو موسیٰ اشعری، سیدنا زید بن خالد جہنی، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس، ربیعہ بن عمرو جرشی، سائب بن یزید اور حارث بن عبداللہ بن نوفل وغیرہم رضی اللہ عنہم ہیں۔

کبار تابعین میں سے سعید بن مسیب ( یہ سعید بن مسیب بن حزن ابو محمد مخزومی مدنی رحمہ اللہ ہیں۔ امام، عالم، مدینہ منورہ کے فقہاء سبعہ میں سے ایک ہیں۔ انھیں سید التابعین کہا جاتا ہے۔ یہ علوم حدیث و فقہ میں مہارت کے ساتھ ساتھ زہد، عبادت اور ورع میں اپنی مثال آپ تھے۔ 93 ہجری یا اس کے بعد فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 4 صفحہ 217۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 3 صفحہ 335) اور عبداللہ بن عامر بن ربیعہ، علقمہ بن قیس (یہ علقمہ بن قیس بن عبداللہ رحمہ اللہ ہیں۔ ابو شبل کنیت ہے۔ کوفہ میں پیدا ہوئے اور وہیں تعلیم و تربیت حاصل کی۔ کوفہ کے فقیہ عالم اور قاری کے طور پر مشہور ہوئے۔ یہ اپنے وقت کے امام، حافظ اور مجتہد کبیر تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں پیدا ہوئے۔ سیرت و کردار میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مشابہ تھے۔ جنگ صفین میں موجود تھے۔ خراسان میں جہاد کیا۔ 60 ہجری یا 70 ہجری کے بعد فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 4 صفحہ 53۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 4 صفحہ 174۔) عمرو بن میمون، مطرف بن عبداللہ بن شخیر، مسروق بن اجدع اور عطاء بن ابی رباح سمیت بے شمار تابعین رحمہم اللہ شامل ہیں۔

صفحہ 2 از 3