سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر…

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ضمن میں کردار

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

2۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک بار اپنے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو سعد (یہ جلیل القدر صحابی سعد بن مالک بن اہیب ابو اسحاق قریشی ہیں، اسلام لانے والے ساتویں صحابی ہیں اور عشرہ مبشرہ بالجنۃ میں سے ایک ہیں اور ان چھ میں سے بھی ایک ہیں جن کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی شہادت سے پہلے خلافت کے لیے منتخب کر دیا تھا۔ فاتح عراق اور مدائن کسریٰ ہیں، اپنے وقت کے مستجاب الدعوات تھے۔ 55 ہجری میں فوت ہوئے۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 182۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 3 صفحہ 13) بن ابی وقاص کے جنازہ کے موقع پر جلدی جلدی وضو کرتے ہوئے دیکھا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اے عبدالرحمٰن! اپنا وضو مکمل کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: 

وَیْلٌ لِّلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ 

(صحیح مسلم: 240)

’’(خشک رہ جانے والی) ایڑیوں کے لیے آگ کی وادی ہے۔‘‘

3۔ ایک مرتبہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حفصہ بنت عبدالرحمٰن پر باریک اوڑھنی دیکھی تو اسے خوب ڈانٹا اور فوراً اسے پھاڑ ڈالا اور اس کے بدلے اسے ایک موٹی چادر اوڑھا دی۔

(الطبقات الکبری لابن سعد: جلد 8 صفحہ 71۔ البانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب (جلباب المرأۃ: صفحہ 126) میں لکھا کہ اس کی سند کے راوی شیخین کی شرط کے مطابق ہیں۔ البتہ اس کی سند میں ایک راویہ ام علقمہ کی طرح ہے جسے حجت نہیں بنایا جا سکتا لیکن اس کی روایت کو بطور شاہد لیا جا سکتا ہے۔ (السیدہ عائشۃ ام المومنین و عالمۃ نساء العالمین لعبد الحمید طہماز: صفحہ 172) 

4۔ حمص یا شام کی کچھ عورتیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں تو آپ رضی اللہ عنہا فوراً کہہ اٹھیں: کیا تمھی وہ عورتیں ہو جو اپنی عورتوں کو حمامات (اجتماعی غسل خانے) میں لے جاتی ہو۔ بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

مَا مِنْ اِمْرَاَۃٍ تَضَعُ ثِیَابَہَا فِیْ غَیْرِ بَیْتِ زَوْجِہَا اِلَّا ہَتَکَتِ السَّتْرُ بَیْنَہَا وَ بَیْنَ رَبِّہَا

(سنن ترمذی: 2803۔ سنن ابن ماجہ: 3036۔ امام ترمذی نے اسے حسن کہا ہے اور ابن مفلح نے (الآداب الشرعیۃ: جلد 3 صفحہ 325۔) میں اس کی سند کو عمدہ کہا ہے اور ہیثمی مکی نے اسے (الزواجر: جلد 1 صفحہ 129) پر کہا کہ اس کے رواۃ صحیح کے رواۃ کی طرح ہیں اور البانی رحمہ اللہ نے (صحیح سنن ترمذی: 2803) میں اسے صحیح کہا ہے ۔

’’جو بھی عورت اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ اپنے کپڑے اتارتی ہے وہ اپنے اور رب کے درمیان پردہ (حیا) چاک کر دیتی ہے۔‘‘

5۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اطلاع ملی کہ ان کے ایک گھر میں کرایہ داروں کے پاس نرد (شطرنج کی طرح) نامی کھیل کے پانسے ہیں تو انھوں نے ان کی طرف فوراً پیغام بھیجا کہ اگر تم نے اپنے پاس یہ کھیل بند نہ کیا اور اس کے آلات کو ضائع نہ کیا تو فوراً میرا گھر خالی کر دو۔ گویا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے برائی پر انھیں فوراً سرزنش کیا۔

(الادب المفرد للبخاری: 1274۔ الموطأ للامام مالک: جلد 5 صفحہ 1396۔ سنن کبری للبیہقی: جلد 10 صفحہ 216، رقم: 21488)

6۔ مدینہ منورہ میں ایک مرتبہ ام مسطح (یہ جلیل القدر صحابی مسطح بن اثاثہ بن عباد ابو عباد قریشی ہیں۔ غزوات بدر و احد سمیت تمام مواقف و مشاہد میں شامل رہے۔ تاہم وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان تراشی کے واقعہ میں منافقوں کے پروپیگنڈے کا شکار ہو گئے اور اپنی زبان پر قابو نہ رکھ سکے جس کی پاداش میں انھیں حد قذف (اسّی کوڑے) سے دو چار ہونا پڑا۔ یہ 34 ہجری میں فوت ہوئے۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 463۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 6 صفحہ 93) رضی اللہ عنہا کا پاؤں ان کی اپنی چادر میں الجھا تو انھوں نے کہا: مسطح ہلاک ہو گیا۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: تم نے اچھی بات نہیں کی، کیا تم ایسے آدمی کو بددعا دے رہی ہو جو غزوہ بدر میں شامل ہوا؟

(اس حدیث (واقعہ افک) کی تخریج آگے آ رہی ہے۔)

7۔ عبداللہ بن شہاب خولانی (یہ عبداللہ بن شہاب خولانی ابو جزل کوفی ہیں۔ کبار تابعین میں سے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا۔ سیدنا عمر اور عائشہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔ صحیح مسلم میں ان سے ایک حدیث بھی مروی ہے۔ (تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 5 صفحہ 254۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 5 صفحہ 72۔) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بطور مہمان ٹھہرا ہوا تھا کہ اس رات مجھے احتلام ہو گیا۔ میں نے اپنی دونوں چادروں کو پانی میں ڈبو دیا اس دوران مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی کسی خادمہ نے دیکھ لیا اور جا کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو خبر دی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی خادمہ کو میری طرف بھیجا، انھوں نے پوچھا: تم نے اپنے دونوں کپڑوں کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ 

راوی بیان کرتا ہے کہ ابن شہاب نے جواب دیا: میں نے خواب میں وہی کچھ دیکھا جو کوئی بھی سونے والا دیکھتا ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کیا تجھے ان دونوں چادروں میں کچھ (نشان) دکھائی دیا؟

میں نے جواب دیا: نہیں، کچھ بھی نہیں۔

انھوں نے کہا: اگر تمھیں کچھ نظر آتا تو تم اُتنا حصہ دھو لیتے۔ بلاشبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں میں لگے خشک داغ اپنے ناخن سے کھرچتی تھی۔

(صحیح مسلم: 290)

8۔ کچھ قریشی نوجوان ہنستے ہوئے مقام منٰی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: تم کیوں ہنس رہے ہو؟ انھوں نے کہا: ایک شخص خیمے کی رسی سے الجھ کر منہ کے بل گر پڑا اور ایسا گرا کہ اس کی گردن ٹوٹنے یا آنکھ ضائع ہونے کے قریب تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انھیں کہا: تم مت ہنسو! کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

مَا مِنْ مُسْلِمٍ یُشَاکُ شَوْکَۃٌ فَمَا فَوْقَہَا، اِلَّا کُتِبَتْ لَہٗ بِہَا دَرَجَۃٌ وَ مُحِیَتْ عَنْہُ خَطِیْئَۃٌ

(صحیح مسلم: 2572)

صفحہ 2 از 3