سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر…

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ضمن میں کردار

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی صفات میں سے ایک اہم صفت یہ بھی تھی کہ وہ ہر وقت لوگوں کے ہر طبقہ میں نیکی کا حکم کرنے اور برائی سے روکنے کے لیے مستعد رہیں۔ ام المؤمنینؓ اپنی حیات طیبہ میں ہمیشہ علماء، حکمرانوں اور عام مسلمانوں کا محاسبہ کرتی رہتیں۔

حکمرانوں کے محاسبے کی مثال صحیح بخاری کی روایت میں واضح ہے۔ یوسف بن ماہک بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مروان حجاز کا والی مقرر ہوا تو وہ خطبے میں یزید (یہ یزید بن معاویہ بن ابی سفیان بن حرب ہے۔ کنیت ابو خالد ہے۔ خاندان بنو امیہ اور قبیلہ قریش ہے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سے اپنی خلافت کا افتتاح کیا اور مدینہ منورہ پر یلغار کر کے ’’واقعہ حرۃ‘‘ پر اس کی سلطنت کا اختتام ہوا۔ غزوہ قسطنطنیہ میں یہ شامل ہوا۔ خلافت عثمان رضی اللہ عنہ میں پیدا ہوا اور 64ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 7 صفحہ 36۔ ومواقف المعارضۃ فی عہد یزید بن معاویۃ لمحمد بن عبدالہادی۔) بن معاویہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لوگوں کو قائل کرنے کے لیے کہنے لگا: اس کے باپ کے بعد تم اس کی خلافت کی بیعت کر لو۔ یہ سن کر عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا تو اس نے اپنے دربانوں کو حکم دیا کہ اسے پکڑ لو۔ انھوں نے بھاگ کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں پناہ لے لی، تو دربان وہاں تک جانے کی جرأت نہ کر سکے۔ تب مروان نے کہا: یہی شخص ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان نازل کیا:

وَالَّذِىۡ قَالَ لِـوَالِدَيۡهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِىۡۤ ۞ (سورۃ الأحقاف آیت 17)

ترجمہ: اور ایک وہ شخص ہے جس نے اپنے والدین سے کہا ہے کہ: تف ہے تم پر۔ کیا تم مجھ سے یہ وعدہ کرتے ہو 

چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پردے کے پیچھے سے فی البدیہ جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں میرے عذر کے علاوہ ہمارے بارے میں کچھ نازل نہیں کیا (یعنی تمہاری بات غلط ہے)۔ 

(صحیح بخاری: 4827)

روایات میں ذکر ہے کہ یحییٰ (یہ ابو ایوب یحییٰ بن سعید بن عاص اموی قریشی ہیں۔ ثقہ ہیں، خلیفہ عبدالملک بن مروان ان کی تکریم کرتا تھا۔ 80ہجری میں فوت ہوئے۔ بن سعید بن عاص نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی جو عبدالرحمٰن بن حکم کی بیٹی تھی، تو مروان جو کہ مدینہ منورہ کا گورنر تھا، نے اسے اس کے باپ عبدالرحمٰن کے پاس بھیج دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے کہلا بھیجا کہ تم اللہ سے ڈر جاؤ اور اسے اپنے گھر لے جاؤ۔ سلیمان کی روایت میں ہے کہ مروان نے کہا: عبدالرحمٰن بن حکم مجھ پر غالب آ گیا ہے۔ قاسم بن محمد بن ابی بکر نے کہا: کیا تم تک سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا معاملہ نہیں پہنچا؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر تمہیں فاطمہ بنت قیس کا معاملہ معلوم نہیں تو تم پر کوئی عیب نہیں۔ (یعنی اس واقعہ میں مطلقہ کو بلا سبب اس کے گھر سے منتقل کرنے کی کوئی دلیل نہیں۔) تو مروان کہنے لگا: اگر تیرے پاس یہ خبر ہے کہ فاطمہ بنت قیس اور اس کے خاوند کے رشتہ داروں کے درمیان کچھ اختلاف تھا تو وہ سبب یہاں بھی موجود ہے۔ گویا اس نے یہ بات کہہ کر فاطمہ بنت قیس کے واقعہ کو بطورِ دلیل ماننے سے انکار کر دیا۔

(فتح الباری لابن حجر: جلد 9 صفحہ 478۔ صحیح بخاری: 5321، 5322۔ صحیح مسلم: 1481)

جیسا کہ گزر چکا ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا معاویہؓ کے بعض اُمور پر ان کی گرفت بھی کی۔

(سنن الترمذی، حدیث: 2414۔ و سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 182 تا 187)

اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب دیکھتیں کہ کسی مسئلہ میں کبار صحابہ رضی اللہ عنہم سے غلطی ہوئی ہے تو ان کا بھی محاسبہ کرتیں۔ جیسا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

’’جس نے بیت اللہ کی طرف ہدی (قربانی کا جانور) بھیجی، اس پر وہ سب کچھ حرام ہو جاتا ہے جو حاجی و معتمر پر حرام ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی ہدی نحر ہو جائے۔ حدیث کی راویہ عمرہ کہتی ہیں کہ اس موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جو کہا وہ صحیح نہیں ہے۔ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے پٹے ہاتھ سے بنائے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے انہیں پہنایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جانور میرے ابا جان کے سپرد کر دئیے۔ (تاکہ وہ مکہ لے جائیں  ان کی قربانی تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر کچھ حرام نہیں ہوا جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کے لیے حلال کیا تھا۔‘‘

(صحیح بخاری: 1700۔ صحیح مسلم: 1321۔)

نوٹ: چند کبار صحابہ پر اس کے استدراکات کا تذکرہ اسی باب کی فصل دوم میں آئے گا۔ ان شاء اللہ۔

جہاں تک عام مسلمانوں کے محاسبے کی مثالیں ہیں تو ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

1۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی پوری زندگی نیکی کا حکم دیتی اور برائی سے روکتی رہیں۔ ایک بار سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے صفا مروہ کے درمیان ایک عورت کو دیکھا جس نے ایسی چادر لی ہوئی تھی جس پر صلیب کی شکل کی دھاریاں تھیں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے فرمایا:

’’اپنے کپڑے سے یہ نشانات مٹا دو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ایسے نشانات دیکھتے تو انھیں مٹا ڈالتے۔‘‘

(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 225، رقم: 25923)

صفحہ 1 از 3