مختلف اہل تشیع علماء سے ابن سبا پر نامکمل گفتگو (اسکرین…

مختلف اہل تشیع علماء سے ابن سبا پر نامکمل گفتگو (اسکرین شاٹس)

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 3

ظاہر ہے یہ مطالبہ نہ صرف نامناسب تھا بلکہ ان شرائط کے صریح خلاف تھا جو علی میلانی شیعہ نے اس موضوع پر گفتگو کی دعوت دیتے وقت پہلی نشست میں پیش کی تھیں۔ (اسکرین شاٹ)

2:شیعہ عالم دلشاد کا شرائط کی روشنی میں ابن سبا  پر گفتگوسے صاف انکار!

 مشہور کاپی پیسٹر عالم دلشاد  شیعہ  مختلف واٹس گروپس میں ابن سبا کے حوالے سے ایک تحریر کاپی پیسٹ کر کے اہل سنت کا للکارتا رہا کہ اس کا جواب دیا جائے۔

انہیں باقائدہ شرائط طئے کر کے گفتگو کا چیلنج کئی بار   کیا گیا لیکن وہ أصول مناظرہ کے اندر رہ کر شیعیت کا دفاع کرنے پر تیار نہ ہوئے۔ 

 

3:ملک أعوان شیعہ نے آتے ہی دعویٰ پیش کردیا!

ایک اور شیعہ ملک مجاہد أعوان نے آتے ہی دعویٰ رکھ  کر گفتگو شروع کی، اہل سنت جواب دعویٰ کے بعد ٹُھس ہوگئے!


4:علی حیدری شیعہ سے گفتگو کی شروعات

عبدالحمید بلوچ  : عبداللہ بن سبا کے موضوع پر ایک شیعہ عالم دین نے آپ کا چیلنج قبول کیا  ہے، شرائط وضوابط کے ساتھ آپ سے گفتگو کرنے کے لیے تیار ہیں۔

علی حیدری: بھائی مجھے علامہ نہ لکھیں  میں بس عام انسان ہوں ۔۔

جعفر صادق: ٹھیک ہوگیا۔  دن اور وقت طئے کروائیں۔میں نے  اوپر ایک اہل سنت مؤقف  لکھا ہے۔۔ اسے ہی میرا دعوی سمجھا جائے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔  شرائط فائنل کرنے کے بعد میں باقائدہ دعوی پیش کروں گا۔ اس وقت شوق سے تنقیحات پیش کیجئے گا۔ yes

ابھی دن اور وقت بتائیں۔میں شرائط گفتگو کے آغاز کے وقت بھیجوں گا۔ آپ بھی اپنی شرائط لکھ کر رکھ لیں۔ اس کے بعد میرا دعوی،پھر تنقیحات وغیرہ، پھر  آپ کی طرف سے جواب دعوی،پھر میری طرف سے دلائل اور آپ کی طرف سے ان کا علمی رد۔

علی حیدری: سب سے پہلے ٹائم کی قید نہیں مناظرہ  ہی نہیں ،آپکے ساتھ بات ہے عام اور اسی میں آپ کی کئے ہوئے دعوے پر گفتگو کا آغاز کردیا اگر آپ سمجھتے ہیں مناظرہ ہو تو شیعہ گروپ میں کسی مناظر سے آپکی بات کروا دونگا ۔۔اگر یہاں ممکن ہوا تو یہاں بھی کروا دیں گے۔باقی ایسے بات کرو تو بندہ نا چیز حاضر ہے ۔

جعفر صادق: جب سنی و  شیعہ کے مابین متنازعہ موضوعات پر گفتگو کی جائے تو پہلے شرائط طئے کرنا لازمی ہوتا ہے تاکہ دونوں فریق ان متفقہ شرائط کے مطابق ہی گفتگو کریں ، اور سب کے سامنے ہو کہ کس فریق نے اپنے مؤقف کا دفاع شرائط کے مطابق کیا یا نہیں۔ دوسری بات اس موضوع پر پہلے سے دونوں فریق اپنا واضح مؤقف بھی سامنے رکھ دیں گے تو عوام جان سکتی ہے کہ کسے کیا ثابت کرنا ہے۔مثال کے طور پر اس تنقیح میں نمبر 2 سے واضح ہوتا ہے کہ آپ بھی ابن سبا کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اسے شیعہ کے بنیادی عقائد کا بانی نہیں سمجھتے۔

ہوسکتا ہے میں نے سمجھنے میں غلطی کی ہو کیونکہ آپ نے دوٹوک بتایا ہی نہیں کہ ابن سبا حقیقت ہے یا افسانہ

یہی وجہ ہے کہ گفتگو سے پہلے اس موضوع پر *فریقین کی رائے/مؤقف/عقیدہ/نظریہ* سب کے سامنے موجود ہو۔ اس کے بعد جن نکات پر اختلاف ہے بس انہی نکات کو زیر بحث لایا جائے۔

علی حیدری: پھر مناظرہ والی بات ؟  ممتاز صاحب میں نے  بتایا ہے ، کیا  میرے میسج کی سمجھ نہیں آئی ؟

جعفر صادق: جس طرح ایک ملک بغیر آئین کے نہیں چل سکتا۔۔۔اسی طرح سنی و شیعہ مباحث بھی بغیر شرئط کے نہیں ہوسکتے۔میں آپ کی بات سمجھ چکا ہوں۔آپ کسی عالم سے بات کریں۔ میں نے وضاحت کردی ہے۔

علی حیدری شیعہ  نے بھی باقائدہ شرائط طئے کر کے گفتگو کرنے سے انکار کردیا۔۔۔!!

علی حیدری: کل بات کرتے ہیں بھر حال ۔ آپ کی کیا شرائط ہیں؟  لکھ دیں۔  آپ کی طرف سے اسی پر ہو سکتا ہے اكتفا کر لوں ۔پر میرے کیے گئے سوال کے جواب دینے کے بعد ہی بات آگے بڑھے گی چاہے تو آپ مناظرہ سمجھیں یا شرائط کے بنا وضاحت دینے سے قاصر رہیں ۔

مناظرہ کے لئے مناظر کو ہی کہیں گے  باقی اگر مجھ سے اس طرح اور حسب وقت بات کریں تو کر سکتے ہیں ۔۔لیکن یہ اصول بلکل مناظرہ والے نہیں ہونگے ۔۔اس لیے آپ بھی صحیح فیصلہ کریں ممتاز صاحب

علی میلانی  شیعہ کی اہل سنت گروپ میں آمد

عبدالحمید بلوچ  : آج گفتگو شروع کرنے سےقبل کچھ منٹ پہلے مجھے بتائیں۔میں کوشش کروں گا علی میلانی کو ایڈ کرنے کی تاکہ سب باتیں اس کے سامنے کیا جائیں۔

  علی حیدری:  ممتاز صاحب انہیں پسند نہیں کرتے کیوں کہ ممتاز میں در گزر کرنے کا مادہ نہیں ۔۔بھر حال ہر کسی کی اپنی مرضی ہے۔ جی ممتاز صاحب

 جعفر صادق: کمال ہوگیا۔۔۔ کچھ ہی دن پہلے علی میلانی صاحب! ایک گروپ میں مجھ سے گفتگو کرتے وقت بداخلاقی کر چکے ہیں۔جو لوگ گالیاں دیں جو لوگ جھوٹ بولتے رہیں۔۔۔بلکہ انہیں بار بار سمجھایا بھی جاتا رہے کہ گالیاں دینا گناہ ہے۔۔ اور جھوٹ بولنا جائز نہیں ہے۔۔اس کے باوجود وہ ڈھیٹ بن کر اسی روش کو برقرار رکھیں۔۔۔وہ لوگ ہوگئے مؤمن۔۔۔ اور بقول ان لوگوں کے ہم ہوگئے منافق ،ناصبی وغیرہ وغیرہ

دوسری بات گالیاں اور جھوٹ بولنے والوں میں درگذر اور برداشت کا مادہ بھرا ہوا ہے۔۔۔۔۔ اورجو لوگ گالیاں سن کر بھی گالیاں نہ دیں۔۔۔ بدتمیزی اور بداخلاقی کا جواب بھی حسن اخلاق سے دیں وہ لوگ ہوگئے عدم برداشت والے۔         

انا لللہ وانا الیہ راجعون۔

 میں نے علی میلانی کو یاد نہیں کیا بلکہ وہ مجھے اپنے گروپ میں  یاد کر رہا ہے۔۔۔باقی جب بھی ابن سبا پر کسی شیعہ عالم سے گفتگو ہوگی تو وہ لوگ تو ضرور یاد آئیں گے جو اس موضوع  پر گفتگو سے بھاگ چکے ہیں۔

 یہ پکے منافق کی چاروں نشانیاں علی میلانی شیعہ  میں ہیں۔ اسے بتادیجئے گا۔ شاید ھدایت مل جائے۔


صفحہ 3 از 3