شیعہ کے ان خفیہ خاکوں پر تبصرہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ کے ان خفیہ خاکوں پر تبصرہ

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 4 از 4

اس بارے میں گزارش ہے کہ یہ شیعہ امراء کے ساتھ تجارتی رابطے پیدا کرتے ہیں خصوصاً جو حکومتی خاندان کے افراد ہوتے ہیں ان سے تعلقات بڑھاتے ہیں اور ایسا چال بازی کا طریقہ اپناتے ہیں کہ سنیوں کو ان کے منافقانہ اندرونی خطوط کا پتہ تک نہیں لگتا اور یہ تحائف کی صورت میں اس مرحلہ وار تیار شدہ منصوبہ کو رشوت سے آگے چلاتے ہیں اور دوستوں کو مال دیتے ہیں اصل میں وہ اس مال کے ذریعے عہدے خریدتے ہیں جن کے ذریعے یہ اپنا دین اور عقیدہ کو ان ملکوں میں ہر عہد کو بالا طاق رکھتے ہوئے پھیلاتے ہیں یہ لوگ فارسی خواتین کو جو کہ عربی زبان بولنے کی دسترس رکھتی ہیں اور فہم وذکاء میں اور پرکشش شخصیت ہونے میں نمایاں ہوتی ہیں ان کو بھی ہدیہ کے طور پر پیش کرتے ہیں جو کہ جمال میں بے مثال تو ہوتی ہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ انتہا درجہ کی خباثت اور چالاکی کا پلندہ بھی ہوتی ہیں جس کی بناء پر یہ اپنے شکار کو جال میں پھنسا لیتی ہیں یہ سب کچھ یہ بے حیائی کا بدترین انداز اور طور طریقہ نکاحِ متعہ کے پردے میں اختیار کرتے ہیں اور اس خاکہ کے مطابق اس کی یہ شق کہ نوجوانوں کو ترغیب دیں یہ حکومتی ملازمت اختیار کریں اور خصوصاً فوج میں سلیکٹ ہوں اس شق کو بھی انہوں نے عملاً شروع کر دیا ہے یہ فوجی کالجوں میں نام بدل کر سنیوں کے ناموں پر نام رکھ کر داخلہ لیتے ہیں تاکہ ان کے مقاصد سے کوئی آگاہ نہ ہو اسی طرح یہ شیعہ اس ملک کی مسلح افواج کی صفوں میں گھس جاتے ہیں اور اب تو ان کی تعداد بعض ممالک میں ان کی فوج میں 30 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور بڑھ رہی ہے۔ قریبی ممالک کی ایئر فورس میں تو ان کی تعداد تقریباً 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور اب یہ ایئر پورٹ پر اپنے ہم مذہب شیعوں کے ساتھ مل کر جو چاہیں کریں انہیں امراء کی طرف سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا یہ بات ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے اس کا سدِباب کریں وگرنہ عباسی دور میں سکوت بغداد والی قتل و غارت کا انتظار کریں۔

یہ شیعہ تعلیم کے اداروں میں معلم بن کر اور صحت کے اداروں میں ڈاکٹر بن کر پھیل رہے ہیں اور اہم حساس مناصب پر فائض ہو رہے ہیں تعلیمی سلسلہ تمام ان کے ہاتھ میں آرہا ہے پرائمری، مڈل اور میٹرک حتیٰ کہ یونیورسٹی تک میں ان کی اتنی زیادہ مداخلت ہے کہ اہلِ سنت بچوں کو متاثر کر رہے ہیں اور اہلِ سنت کے ہسپتالوں میں ہر شعبہ کے اہم اور حساس عہدہ پر یہ چھائے ہوئے ہیں حتیٰ کہ طبعی طور پر مشترکہ تعاون کے نام پر کھلے عام شیعہ فائدہ اٹھا رہے ہیں ایران سے نرسیں اور ڈاکٹر سنی ملکوں میں آ کر پھیل رہے ہیں جبکہ حالت ہے تو دنیا اور دین کی بربادی سے باہر ہے اس خاکہ کے آخر میں انہوں نے مرحلہ وار یہ شق پیش کی ہے کہ سنی ملکوں کے حالات بگاڑ کر ہم دینِ الٰہی کا جھنڈا لہرائیں گے اور مہدی موعود کہ آنے سے پہلے نورِ اسلام سے دنیا کو روشن کریں گے اور شیعت کو عام کریں گے یہ اس مرحلہ وار خاکہ کی آخری شق ہے اس سے یہ بات پختہ ہو جاتی ہے کہ ان شیعوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات بے فائدہ ہیں اور ملکی سطح پر اس کی صفوں میں اندرونی وحدت اور یکجہتی پر بات چیت کرنا بے معنیٰ ہے اس کا سبب کھلا کھلا یہ ہے کہ شیعہ مہدی موعود کا انتظار کرتا ہے کہ وہ غار سے باہر آنے والا ہے اور وہ آ کر عربوں حرمین شریفین کی خدمت گاروں حتیٰ کہ کعبہ کے خدمت گاروں کو قتل کریں گے اور ان کے ہاتھ کاٹیں گے جیسا کہ ان کے ثقہ اماموں کی کتابوں میں لکھا ہے۔


صفحہ 4 از 4