شیعہ کے ان خفیہ خاکوں پر تبصرہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ کے ان خفیہ خاکوں پر تبصرہ

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 3 از 4

اور مسلمانوں کو اور اہلِ سنت کو یہ شیطان نما مسلمان کہتے ہیں اس پر تبصرہ کی ضرورت نہیں ہے فرقہ واریت کی دعوت دینا اور علیحدگی پسندی اور دھمکی دینا یہ شیعہ مذہب کی روح ہے ان کی دعوت وطنی، ملکی بھی ہو تو فرقہ واریت کی ہے یہ تو عقیدہ اور دین کا معاملہ ہے اس میں ان کے علیحدگی تو ان کی فطرت میں داخل ہے اس خاکہ میں شیعہ نے کہا ہے ہماری قربانیوں کے خون خشک نہیں ہوئے اور اس نے اپنے آباؤ اجداد کی خطاؤں کا بھی اعتراف کیا ہے اس سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ ہم سنیوں کا ان شیعوں کے ساتھ رہنا ممکن نہیں وہ صرف اپنا مذہب ہی قبول کرتے ہیں جو خرافات اور خونیات مبنی ہے ان سے عہد و پیمان لینا اور ان سے حسن سلوک کرنا فضول ہے اس کے بعد اس مرحلہ اور خاکہ میں یہ درج ہے کہ شیعہ کامیابی کے لیے مذہبی مجالس قائم کریں ہم اس خطرناک اعلان سے خبردار ہو جائیں انہیں اعلانیہ مذہبی شعائر ادا کرنے کی گنجائش نہ دیں کیونکہ ان کے ذریعے یہ اپنی سیاست کھیل رہے ہیں جیسا کہ ایک محاورہ ہے "ایک پکڑو دوسرے کا مطالبہ نہ کرو" کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اس لیے پہلے ہی انہیں مجلسی چھوٹ نہ دی جائے وگرنہ اس سیلاب کا بند باندھنا مشکل ہو جائے گا اور جب یہ رسمیں شیعہ جاری کر لیں گے تو پھر اسے حکومتیں بھی نہ روک سکیں گی اور پھر یہ کھا کر بتا رہا ہے حکام اور علماء کے درمیان کینہ اور نفرت پیدا کریں گے جس سے حکومتوں کی اندرونی اور بیرونی معاونت بند ہو جائے گی اس اختلاف سے خبردار رہیں علماء کرام اپنی صفوں میں اتحاد رکھیں اور حکمران بغیر واضح دلیل کے علماء کا مؤقف قبول نہ کریں علماء کی یہ ذمہ داری ہے کہ خوشی نہ خوشی میں، آسانی میں، تنگی میں امراء کی خیر خواہی کریں اور ان کی اطاعت کریں اس سے آپ اس خاکہ والی تیار کردہ سازش سے محفوظ رہ سکتے ہیں اور شیعوں کی خبیث آرزؤں اور کینہ پروریوں کو مات دے سکتے ہیں۔ 

وگرنہ یہ دشمن اپنی گندی آرزؤں کو پورا کر لیں گے نعوذ باللہ ہماری دنیا اور آخرت اور دین برباد کرنے کی ذرا برابر پرواہ نہ کریں گے اس کے بعد یہ خاکہ بتاتا ہے کہ ہمارے شیعہ مشائخ اپنے دفاع میں لگ جائیں اور ولایت فقیہ کا دفا ع کریں اس کا آغاز ان کے شیوخ کر چکے ہیں اور ان کے شیوخ کی سرگرمیاں ظاہر ہونا شروع ہو چکی ہیں سیارہ ڈائجسٹ جو کہ سنی اخبار ہے، شیعہ کے ایک شیخ کا انٹرویو شائع ہوا ہے جس میں اس نے بظاہر ملک کے امن و امان اور اس کی حفاظت کرنے پر زور دیا ہے اور اندرونی اختلافات دور کرنے پر زور دیا ہے مگر مکر و دغا کا انداز اختیار کیا ہے۔

اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان کی تحریک کی کتابوں کو اہلِ سنت کے حکام میں بانٹا جا رہا ہے ان کے لندن سے نشر و اشاعت ہوتی ہیں اور جب کوئی امیر یا حکمران وہاں کے دورہ پر جاتا ہے اسے مناسب طریقہ سے یہ شیعہ کی کتابیں دی جاتی ہیں یہ سب کچھ ان کے خاکہ میں رنگ بھرنے کے لیے ہی ہے شیعہ تکنیکی طور پر یہ ایک بہت ہی خطرناک مشق کر رہے ہیں یہ اسی اصول پر عمل کر رہے ہیں پہلے ڈراؤ پھر قابو پاؤ جب مال ہو تو دشمن کو خرید لو اس پر ہم یہی کہتے ہیں: 

بھیڑیا بھیڑیا ہی ہے اگرچہ اس نے بکریوں میں پرورش پائی ہے کوئی ہے جو ہماری پکار پر کان دھرے؟۔

خاکہ کے عملی نفاذ کا طریقہ:

اس خاکہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے شیعوں نے یہ طے کر رکھا ہے کہ دوسرے ملکوں میں جانے والے جاسوسوں کو چاہیے خصوصاً جو ان کا ہدف ہیں افغانستان پاکستان، ترکی، عراق، کویت، بحرین، وغیرہ میں یہ تین کام کریں: 

  1. زمینیں، گھر اور فلیٹ خریدیں جس میں زندگی کی تمام سہولات ہوں۔ 
  2. یہ کریں کہ صاحبِ مال لوگوں اور اثر نفوذ والے عہدے داروں سے دوستانہ تعلقات پیدا کریں۔ 
  3. شہر کے مرکز میں نئے گھر خریدیں دراصل یہ وہی طریقہ کار ہے جو یہودیوں نے اپنایا ہے انبیاء علیہم السلام کی سرزمین فلسطین میں انہوں نے وسیع پیمانے پر بیتُ المقدس کے ارد گرد یہودی آباد کاری کر رکھی ہے اور انہوں نے اس زمین کو اپنی شرعی ملکیت گردان رکھا ہے اور اب انہیں وہاں سے نکالنا بہت ہی مشکل ہے اسی خطرے کو بھانپ کر ہم سنی لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ ان کی یہ لازمی ذمہ داری ہے کہ یہ شیعوں کی زمینیں گھر اور فلیٹ نہ فروخت کریں تاکہ یہ مسلمانوں پر غلبہ کا جو خواب دیکھتے ہیں اس میں ناکام ہوں یہ سنی عوام کا فرض ہے اور ان ملکوں کا بھی فرض ہے جنہیں انہوں نے ہدف بنا رکھا ہے اور اصحابِ مال اور جائیداد کا بھی فرض ہے کہ ان سے تعاون کریں اور ان کے اس خاکہ میں جو یہ کہا گیا ہے کہ شیعہ جس ملک میں یہ مرحلہ وار کام کریں وہ اس کی قوت نافذہ اور قانون کا احترام کرے اور حساس اداروں میں اثر و رسوخ پیدا کریں۔
صفحہ 3 از 4