شیعہ کے ان خفیہ خاکوں پر تبصرہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ کے ان خفیہ خاکوں پر تبصرہ

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 4

"حسینیات" وہ جگہیں ہیں جن میں شیعہ جمع ہوتے ہیں خاص طور پر ماہِ محرم میں وہاں رخسار پیٹے جاتے ہیں گریبان چاک کرتے ہیں زنجیر زنی کرتے ہیں اس سے سیدنا حسینؓ کی شہادت کی یاد مناتے ہیں اور اس میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالیاں دیتے ہیں ان حسینی مراکز کا یہ بہت اہتمام کرتے ہیں، اتنا یہ امام بارگاہوں کا بھی اہتمام نہیں کرتے جو ایران سے باہر حسینی مراکز ہیں یہ اصل میں ایران کے جاسوسی مرکز ہیں اخبار "انقلاب اسلامی" میں ابو حسن بنی صدر نے خود اس کی تفصیل بتائی ہے جیسا کہ اخبار نے خلیج کی ریاستوں میں جاسوسی مراکز کا ذکر کیا ہے ان میں سے ان حسینی مراکز کو بھی جاسوسی کا مرکز قرار دیا ہے ایرانی کاروباری لوگ حکومت امارات میں رہنے والے ایرانی تاجروں سے مال جمع کرتے ہیں تاکہ ان مراکز کو مضبوط کریں اور یہ خاکہ ان علاقوں میں خاص طور پر روبعمل لایا جاتا ہے جہاں اہلِ سنت کے اکثریت ہے یہ شیعی نقشہ کے مطابق ہی ہو رہا ہے کہ اس میں یہ بیان ہوا ہے کہ شہروں سے ہجرت کر کے آنے والوں کو کام اور تجارت کی سہولتیں دی جائیں تاکہ وہ دلجمعی سے یہ عمل جاری رکھیں عراق میں انہوں نے اس کا تجربہ کیا ہے جو انہوں نے مرحلہ وار 50 سالہ منصوبہ دیا ہے وہاں 10 فیصد شیعہ آبادی تھی اب اس مرحلہ کے بعد تقریباً 50 فیصد ہو چکی ہے جو شیعت کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے علاوہ ازیں یہ اکثر شیعہ ذرائع و ابلاغ پر مالی حیثیت میں ثقافت پر، تجارت پر اور ادب پر قابض ہیں یہ اپنے نقشہ کے مطابق عراق کے کئی علاقوں میں چھا رہے ہیں، موصل شہر کے 60 دیہات شیعہ ہوئے ہیں اور بہت سارے خاندان سنی عقیدہ چھوڑ کر شیعہ عقیدہ اپنا رہے ہیں، سعدون، دلیم، بنو خالد، جنابی، جبور وغیرہ قبائل شیعہ ہو چکے ہیں حتیٰ کہ سنیوں کے مرکزی شہر بھی ان کے زیرِ اثر آ چکے ہیں ابنار میں بھی یہ داخل ہو چکے ہیں اور بعض شہر تو ان کا مرکز ثقل بنے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے یہ صنعتی اداروں پر غلبہ پا چکے ہیں اور جو ان کے اس مرحلہ وار خاکہ میں یہ بات درج ہے کہ ارکانِ سلطنت کو مضبوط کرو یہ بات نہایت خطرناک ہے یہ ان کا سیاسی جوہر ہے جس کی وجہ سے یہ ایک سلطنت بناتے ہیں، دوسری سلطنت گراتے ہیں اور یہ اپنے شیعہ مذہب کی روشنی میں کرتے ہیں اس کے مطابق نہ ہو سکے تو اپنے تیار کردہ طریقہ کے مطابق یہ غلبہ حاصل کرتے ہیں اور قرار اور اثر و نفوذ غلبہ سے ہی حاصل ہوتا ہے اور علماء ہی یہ طاقت رکھتے ہیں کہ احکام کی وضاحت کریں اور بعض شیعہ عہدۂ قضا پر غالب ہوتے ہیں اور اقتصادیات، معاشرہ کی متحرک رکھنے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں اور اسی سے زندگی طاقت پکڑتی ہے جب یہ تین اہداف اقتصادی غلبہ، علم و معرفت کا غلبہ، اور قوت قضا کا غلبہ پا لیتے ہیں تو پھر یہ مالداروں کو منتشر کر دیتے ہیں اور خود مالی مضبوطی حاصل کر لیتے ہیں اگرچہ ان کی اقلیت بھی ہے یہ فتنہ انگیزی کرنے علماء اور حکام کے درمیان تصادم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔اور ان کا یہ 50 سالہ مرحلہ وار تسلط حاصل کرنے کا عملی آغاز ہو جاتا ہے جسے یہ اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی تعلقات کہتے ہیں اور جنہیں یہ اپنے نمائندے اور کارندے کہتے ہیں یہ اصل میں انکی چالبازیاں ہوتی ہیں اور ان کے جاسوس ہوتے ہیں تو ان فساد زدہ علاقوں میں مختلف مقامات پر منقسم ہو جاتے ہیں فوجیوں کی صورت، تاجروں کے روپ میں، اساتذہ کی صورت میں، طلباء کی صورت میں، تبصرہ نگاروں کے روپ میں آتے ہیں مگر یہ حقیقت میں جاسوس ہوتے ہیں۔

ہمارے اصحاب بست اختیار اس خطرناک سازش سے آگاہ ہو کر بیدار ہو جائیں یہ بڑا ہولناک خاکہ یہ جو شیعت کی سیڑھی بن رہا ہے آئندہ اسی سیڑھی کے ذریعے یہ سارا نظامِ شیعت میں بدل جائے گا جیسا کہ ایران میں اس وقت عراق کر رہا ہے اور سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر، امارات، عمان، ترکی، عراق، افغانستان، پاکستان وغیرہ کے ساتھ جو ایران مضبوط راستہ استوار کرنے کا کہتا ہے یہ اس کی سیاست ہے اسے علاقائی امن و تعاون کی کوئی ضرورت نہیں یہ اس کا ظاہری اعلان ہے اندرون خانہ یہ ان حکومتوں کو شیعیت کے زیرِ اثر لانا چاہتا ہے۔ اور اس 50 سالہ خاکہ میں جو ثقافتی سیاسی اور اقتصادی تعلقات مضبوط رکھنے کی شق بیان ہوئی ہے یہ علوم کے تبادلہ اور علمی تعاون کی صورت میں پوری کرتے ہیں حکومتِ ایران کی یونیورسٹیاں اور ان کے پڑوسی ممالک کے یونیورسٹیوں کے درمیان علوم کا تبادلہ کر کے یہ ہدف حاصل کیا جاتا ہے اور کبھی مفکرین اور ثقافتی وفود کو میدان میں لا کر شیعیت کا پرچار کرتے ہیں اور علمی ملاقاتوں نے اہلِ سنت کی یونیورسٹیوں کے طلبہ کے سامنے لیکچرز کے نام پر شیعیت کا زہریلا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے اور یہ ہدف کبھی فوجی میدان میں مشترکہ مصلحتوں اور علاقہ میں امن مستقل قائم رکھنے کے بہانے فوجی مخبر آتے جاتے ہیں ایران کے مخبر دوسرے ممالک میں آتے ہیں اور دوسرے ان کے ملک میں آتے ہیں اور بہانہ یہ ہوتا ہے کہ فوجی حساس معاملات مشورہ کرنا ہے اسی دوران شیعہ اہم حساس معاملات کے راز مسلمان فوج سے حاصل کر لیتے ہیں اقتصادی تعلقات کے روپ میں یہ شیعہ اپنا ہدف اسی طرح حاصل کرتے ہیں کہ تجارت میں وسعت پیدا کرتے ہیں اور ہر عام و خاص سطح پر چھوٹی یا بڑی کمپنیاں قائم کرتے ہیں جو صرف شیعہ کے مال سے قائم ہوتی ہیں یا شیعہ اور سنی کے مال سے ملا کر قائم کرتے ہیں اور پھر رسمی طور پر تجارتی تبادلہ کرتے ہیں وزارتِ صنعت و تجارت ایران اسے ترتیب دیتی ہے اور یہ 50 سالہ مرحلہ شیعہ کا ہدف جو ہے اس کے خاکہ میں یہ درج ہے کہ اس کے 50 سال کو طویل مدت نہ سمجھو الخ۔

صفحہ 2 از 4