سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سخاوت کا بیان - دفاعِ اہلِ سنت…

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سخاوت کا بیان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

(مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 6 صفحہ 90۔ سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 187۔ عطاء: یہ عطاء بن اسلم بن صفوان ہیں۔ اس کی کنیت ابو محمد ہے اور ولاء کے ذریعے یہ قریشی ہے اپنے وقت کے شیخ الاسلام، مکہ کے مفتی اعظم اور محدث شمار ہوتے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں پیدا ہوئے، علوم کثیرہ پر اسے دسترس حاصل تھی، زہد و عبادت میں بھی خاص مقام حاصل تھا۔ 114 یا 115 ہجری میں فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء: جلد 5 صفحہ 78۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 1 صفحہ 141)

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

’’میں نے دو عورتوں (سیدہ عائشہ اور سیدہ اسماء رضی اللہ عنہما) سے بڑھ کر کوئی سخی نہ دیکھا۔ تاہم ان دونوں کی سخاوت کے انداز اپنے اپنے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تو اپنے پاس تھوڑا تھوڑا مال جمع کرتی رہتی تھیں پھر اسے تقسیم کر دیتیں۔ جبکہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کو جونہی مال ملتا وہ کم ہوتا یا زیادہ وہ اسے فوراً تقسیم کر دیتی تھیں۔ آنے والے دن کے لیے ایک درہم بھی نہ رکھتی تھیں۔‘‘

(الادب المفرد للبخاری: حدیث: 780)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فقراء کے حسب حال ان کی مدد کرتی تھیں۔ ایک بار ایک سوالی ان کے پاس آیا تو اسے ایک روٹی دے دی۔ وہ لے کر چلا گیا پھر ان کے پاس سے ایک آدمی گزرا جس نے صاف ستھرا لباس پہنا ہوا تھا اور قدرے باوقار تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے بٹھا کر کھانا فراہم کر دیا۔ اس نے وہیں تناول کیا۔ ان دو اشخاص کے متعلق مختلف سلوک کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اَنْزِلُوا النَّاسَ مَنَازِلَہُمْ 

(اسے ابو داودؒ نے روایت کیا۔ حدیث: 4842۔ اور امام مسلمؒ نے اسے ان الفاظ کے ساتھ معلق روایت کیا ہے: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم لوگوں کے ساتھ حسب روایت سلوک کریں۔‘‘

’’تم لوگوں کے ساتھ حسب مرتبہ سلوک کرو۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ کبھی نہ سوچا کہ وہ جو چیز اللہ کی راہ میں خرچ کر رہی ہیں وہ قلیل ہے کثیر۔ کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے فیض یافتہ تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اِتَّقُوْا النَّارَ وَ لَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ 

( صحیح بخاری: 1417۔ صحیح مسلم: 1016۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ اس کے راوی ہیں۔)

’’تم آگ سے بچو، چاہے آدھی کھجور کے ذریعے ہو۔‘‘

ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود انھیں ان الفاظ کے ساتھ نصیحت فرمائی تھی:

یَا عَائِشَۃُ! اِسْتَتِرِیْ مِنَ النَّارِ وَ لَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ، فَاِنَّہَا تَسُدُّ مِنَ الْجَائِعِ مسدُّہَا مِنَ الشَّبْعَانِ

(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 79۔ اس کی اسناد کو منذری رحمہ اللہ نے (الترغیب و الترہیب: جلد 2 صفحہ 57) پر اور عراقی رحمہ اللہ نے (تخریج الاحیاء: جلد 1 صفحہ 302) پر اور بوصیری نے (اتحاف الخیرۃ المہرۃ: جلد 3 صفحہ 39) پر اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے (فتح الباری: جلد 3 صفحہ 334) پر حسن کہا ہے۔

’’اے عائشہ! تم آگ سے پردے میں ہو جاؤ اگرچہ آدھی کھجور کے ذریعے ہو۔ کیونکہ بھوکے کی بھوک اس سے اسی طرح ختم ہوتی ہے جس طرح پیاسے کو ایک گھونٹ پانی سے تسکین مل جاتی ہے۔‘‘

صحیح مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت مروی ہے:

’’ایک بار ایک مسکین عورت میرے پاس آئی، اس نے اپنی دو بیٹیاں اٹھائی ہوئی تھیں۔ میں نے اسے تین کھجوریں دیں، اس نے اپنی دونوں بیٹیوں کو ایک ایک کھجور دی اور خود ایک کھجور کھانے کا ارادہ کیا تب اس کی دونوں بیٹیوں نے وہ کھجور بھی کھانے کی خواہش کا اظہار کیا، چنانچہ اس نے کھجور کے دو حصے کیے اور دونوں کو آدھی آدھی کھجور دے دی اور خود نہ کھائی۔

(بقول عائشہؓ) مجھے اس کا یہ سلوک بہت عجیب لگا۔ میں نے اس کا سارا واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپﷺ نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے اس کھجور کے بدلے اس کے لیے جنت واجب کر دی ہے۔‘‘ یا آپﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے اُسے اس کھجور کے بدلے، آگ سے آزاد کر دیا ہے۔‘‘

(صحیح مسلم: 2630)

ایک بار ایک مسکین نے آپ رضی اللہ عنہا سے کھانے کے لیے کچھ مانگا۔ اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس انگور کا ایک دانہ پڑا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خادم سے کہا کہ یہ دانہ اٹھا کر اسے دے دو۔ وہ انگور کی طرف تعجب بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تم تعجب کر رہے ہو؟ تمھیں کیا معلوم ہے اس ایک دانے میں کتنے ذروں کا وزن ہے؟ گویا وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرف اشارہ کر رہی تھیں: 

فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗ ۞ (سورۃ الزلزلة آیت 7)

ترجمہ: چنانچہ جس نے ذرہ برابر کوئی اچھائی کی ہوگی وہ اسے دیکھے گا۔

(یہ اثر بیہقی نے شعب الایمان: جلد 3 صفحہ 254، حدیث نمبر: 3466۔) پر روایت کیا ہے۔ 

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سخاوت کی ایک واضح مثال یہ بھی ہے کہ انھوں نے اپنی نذر کے کفارے میں چالیس غلام آزاد کیے۔

(صحیح بخاری: 6075)

نیز آپ رضی اللہ عنہا نے سڑسٹھ (67) غلام آزاد کیے۔

(سبل السلام للصنعانی: جلد 4 صفحہ 149)

اسی طرح سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس اپنی آزادی کی قسطوں میں معاونت لینے کے لیے آئیں۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے ابھی تک ایک قسط بھی ادا نہ کی تھی کہ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان کی نقد قیمت یکمشت دے کر انھیں خریدا اور آزاد کر دیا۔

(صحیح بخاری: 2565۔ صحیح مسلم: 1504)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کی تربیت آزادی دلانے کی فضیلت پر کی تھی۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس بنوتمیم کی ایک لڑکی بطور خادمہ تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:

اَعْتِقِیْہَا فَاِنَّہَا مِنْ وُلْدِ اِسْمَاعِیْلَ

(صحیح بخاری: کتاب العتق: حدیث:2543)

’’تم اسے آزاد کر دو کیونکہ یہ اولاد اسماعیل علیہ السلام سے ہے۔‘‘



صفحہ 2 از 2