ایرانی سلطنت کی مضبوطی کا طریقہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ایرانی سلطنت کی مضبوطی کا طریقہ

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 2

2)۔ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ شیعہ پر لازم ہے کہ وہ قانون کا احترام کریں اور قانون نافذ کرنے والوں کی بات مانیں اور حکومت کہ ملازموں کی بات بھی تسلیم کریں اور مذہبی مجلسوں کے انعقاد کے لیے رخصت طلب کریں امام بارگاہ بنوائیں کیونکہ مذہبی رسومات مستقبل کے لیے ہمارا اعتماد بحال رکھیں گی اور حساس مقامات پر بلند و بالا اور اعلیٰ رہائشیں تیار کریں اور ان دو مرحلوں سے گزرنے کے لیے یہ ضروری ہے جہاں بھی ہمارے کارندے رہتے ہیں اس ملک کی شہریت حاصل کریں اس کا طریقہ یہ ہے کہ دوستوں کو تحائف دیے جائیں اور نوجوانوں کو ترغیب دیں کہ حکومتی اداروں میں ملازمت اختیار کریں اور خاص طور پر فوج میں سلیکٹ ہوں اور اس نقشہ کے 10 سالوں کہ نصفِ ثانی میں یہ خفیہ طریقہ اختیار کرنا لازمی ہے کہ علماۓ اہلِ سنت کو آپس میں بھڑکایا جائے کسی علاقے میں معاشرہ کی خرابی یا اسلام مخالفِ اعمال کثرت سے ہوں تو کسی دینی تنظیم یا شخصیت کے حوالے سے پمفلٹ بانٹ دیے جائیں جن میں تنقید کی گئی ہو ظاہر ہے اس طرح مختلف شعبوں میں بھڑکاؤ پیدا ہوگا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یا تو دینی قیادت پر پابندی لگ جائے گی یا دینی شخصیت کی زبان بندی ہوگی یا یہ ہوگا وہ اس غلط نشریات کی تردید کریں گے اور دین کی طرف منسوب ان نشریات کا دفاع کریں گے بہر صورتِ شک کی فضا پیدا ہو جائے گی علماء اور دینی لوگ حکمرانوں سے بدظن ہوں گے اور حکمران علماء سے بدگمان ہوں گے اور دین پسند لوگوں کا تقدس اس علاقہ میں پامال ہوگا اور مساجد اور دینی ادارے اور دینی نشر و اشاعت کا کام رک جائے گا ہم دینی خطابات اور مذہبی مجالس ان کے نظام میں خرابی کا باعث ہوں گی اس سے بڑھ کر یہ فائدہ ہوگا کہ علماء اور حکام کے مابین کینہ اور نفرت جنم لے گی جب ان وہابی اور اہلِ سنت کو ان کے اندرونی مراکز سے حمایت حاصل نہ ہوگی تو پھر باہر سے یہ کچھ حمایت حاصل نہ کر سکیں گے۔

3)۔ اسی 10 سالہ مرحلے میں یہ بات حاصل ہوگی کہ ہمارے کارندوں کی دوستی مالداروں اور حکومتی ملازموں کے ساتھ گہری ہوگی اور زیادہ تر فوج میں اور قوتِ نافذہ میں تعلق کی بنا پر یہ شیعہ پورے آرام و سکون سے کام کریں گے یہ دینی تحریکوں میں دخل اندازی نہ کریں اس سے حکام بالا ان سے پہلے سے بھی زیادہ مطمئن ہوں گے اس مرحلہ میں جو دین والوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوئے ہوں گے تو اس صورت میں ہمارے اس علاقہ کے شیوخ پر یہ فرض ہے وہ حکام کی حمایت کریں اور ان کا دفاع کریں خاص طور پر مذہبی رسومات میں حکمرانوں کا ساتھ دیں اور جب خطرہ نہ ہو تو اپنے شیعہ ہونے کا اظہار کردیں اور حکام کی نظروں میں نہ کھٹکیں بلکہ ان کی رضا حاصل کریں اور ان کے حکومتی کام کے بلا خوف و خطر بات مانیں اور اسی مرحلہ میں ہم بندرگاہوں جزیروں اور شہروں میں جو ہمارے ملک میں دوسرے ملکوں کے بینک ہیں ان سے رابطہ کریں گے تاکہ قریب بھی ملکوں کے ساتھ اقتصادی تبادلہ کر سکیں۔ یہ بات یقینی ہے مالدار اقتصادی مضبوطی کی خاطر اپنے وفد ہمارے ملک میں بھیجیں گے اور جب ہم انہیں تجارتی آزادی دیں گے تو وہ ہمارے وطن میں خوش ہوں گے اور ہم ان سے اقتصادی فوائد حاصل کریں گے۔

4)۔ اور چوتھے مرحلے میں حکمرانوں اور علماء کے درمیان کینہ پیدا ہو چکا ہوگا اور تاجر پیشہ لوگ یا تو مفلس ہو جائیں گے یا راہِ فرار اختیار کر جائیں گے لوگوں میں اضطراب پیدا ہوگا یہ اپنی جائداد آدھی قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہوں گے تاکہ پرامن جگہ پر منتقل ہو جائیں اس پس و پیش کی صورت میں ہمارے نمائندے حکمرانوں کی حمایت حاصل کریں اسی کشمکش میں اگر ہمارے نمائندے بیدار مغزی سے کام لیں گے تو یہ شہر کے بڑے بڑے عہدوں پر فائض ہو سکتے ہیں اور عدالت اور حکام کے متعلقہ اداروں تک رسائی میں تھوڑی سی مسافت باقی رہ جائے گی ہم اتنے اخلاص کا مظاہرہ کریں گے کہ یہ حکام یہ تصور کریں گے کہ پہلے ملازم تو خائن تھے اس سے وہ انہیں محکموں سے باہر نکال دیں گے یا پھر اس سے ہمارے افراد شیعہ کو لیں گے اس سے دو فوائد ملیں گے: 

  1.  اس سے ہمارے عناصر حکام کا زیادہ اعتماد حاصل کر لیں گے۔ 
  2.  جب اہلِ سنت کسی فیصلہ پر ناراض ہوں گے تو شیعہ کی قدر حکام کے نزدیک زیادہ ہوگی اور اہلِ سنت حکومت کے خلاف احتجاج کریں گے تو اس صورت میں ہمارے نمائندے حکام کا ساتھ دیں اور لوگوں کو صلح کی دعوت دیں اور جو جانا چاہتا ہے ان کی جائیدادیں خرید لیں۔

5)۔ مرحلہ یہ ہے کہ جب کسی ملک میں فضا تحریک کے لیے تیار ہو چکی ہوگی اور یہ اس وجہ سے ہوگی ہم نے امن و سکون، راحت اور حکومتی فیصلہ کن حالت کر دی ہے حکومت طوفان میں پھنسی کشتی کی مانند ہوگی جو غرق ہونے کے لیے ہچکو لے کھا رہی ہے اور ہر ایک اس کی نجات کا مطالبہ کر رہا ہوگا اس وقفہ میں ہمارا مطالبہ ہوگا قابلِ اعتماد شخصیات کی کمیٹی بنائی جائے تاکہ وہ ہر دور میں سکون پیدا کرے ہم حکام سے حکومتی اداروں کی نگرانی پر تعاون کریں گے اور ملک کو کنٹرول کریں گے وہ یہ سب تعاون قبول کریں گے اور ہماری اکثریت کرسیوں پر براجمان ہوگی تو ہم اپنی اسلامی تحریک بغیر کسی جنگ اور خون ریزی کے دوسرے ملکوں میں برپا کر سکیں گے اگر بالفرض یہ مرحلہ جو آخری ہے حاصل نہیں ہوتا تو پھر ہم خاندانی تحریک برپا کر دیں گے اور حکام سے غلبہ چھین لیں گے اور ہمارے شیعہ عناصر ان ملکوں کے رہائشی تو ہوں گے اور ہم اللہ کے ہاں اور دین کے سامنے فریضہ کی ادائیگی میں سرخرو ہوں گے ہمارا ہدف کسی معین شخص کو تختِ حکومت پر بٹھانا نہیں ہمارا مقصد تو صرف تحریک برپا کرنا ہے اور اس دینِ الٰہی کا علم بلند رکھنا ہم تو ہر ملک میں اپنا وجود منوانا چاہتے ہیں وہ ہم نے کر لیا ہے ہم کفر کی دنیا کے سامنے اس بڑی قوت کے ساتھ ابھریں گے اور ہم نورِ اسلام سے دنیا کو روشن کر لیں گے امام مہدی موعود کے ظہور تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔


صفحہ 2 از 2