ایرانی سلطنت کی مضبوطی کا طریقہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ایرانی سلطنت کی مضبوطی کا طریقہ

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 1 از 2

ایرانی سلطنت کی مضبوطی کا طریقہ

کسی بھی حکومت یا جماعت یا شعبہ کے ارکان کی حفاظت یا مضبوطی تین بنیادوں پر ہوتی ہے:

  1.  قوتِ حاکمہ 
  2. علم و معرفت 
  3. اقتصادیات۔ 

جب بھی حکومت کی بنیاد کو متزلزل کرنا ہوتا تو حکام اور علماء کے درمیان اختلاف پیدا کر دیا جائے اور اس شہر یا ملک کے صاحبِ مال لوگوں کو بکھیر کر اپنے علاقہ میں لے آئیں دنیا کے دوسرے ممالک میں بھیج دیا جائے تو ہم نے یقینی کامیابی حاصل کر لی اور توجہ کے قابل ہو جائیں گے بقیہ آبادی اس قوت اور حاکمیت کے تابع ہوتی ہے اور وہ اپنی معیشت میں مگن ہوتی ہے اور اپنی روٹی اور رہائش کے چکر میں ہوتی ہے یہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والے معاملے کے تحت قوت سے دبی رہتی ہے ہمارے ہمسائے ممالک جو اہلِ سنت اور وہابی بھی ہیں مثلاً: ترکی ایران افغانستان پاکستان، متحدہ عرب عمارت خلیج، فارسی وغیرہ یہ بظاہر متحد نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں مختلف ہیں ان علاقوں کو ایک بہت بڑی اہمیت اس وجہ سے بھی ہے گزشتہ اور موجودہ دور میں رہی ہے کہ یہ کرۂ ارض کی شاہ رگ ہیں ان میں تیل کی دولت ہے دنیا کے حساس ترین ممالک ہیں ان علاقوں کے حکام تیل کی تجارت کی وجہ سے زندگی کی حیثیت رکھتے ہیں ان علاقوں کے رہائشی تین طبقات میں تقسیم ہیں:

  1.  بدو صحرا نشین جو سینکڑوں سال سے یہاں آباد ہیں۔ 
  2.  وہ لوگ ہیں جو بنجر علاقوں اور بندرگاہوں سے ہجرت کر کے ہماری اس سرزمین میں آباد ہوئے انکی ہجرت کا آغاز شاہ اسماعیل صفوی، نادر شاہ، کریم خان، تاجر بادشاہوں پہلوی خاندان کے زمانہ میں ہوا تھا اور اس اسلامی تحریک یعنی شیعوں کے انقلاب ایران کے دور میں بھی وقفہ وقفہ سے انہوں نے بھی ہجرت کی۔ 
  3. وہ لوگ ہیں جو اِدھر اُدھر کی چھوٹی چھوٹی عربی حکومتیں ہیں اور وہ لوگ ہیں جو ایران کے اندرونی شہروں میں ہیں تجارت، امپورٹ، ایکسپورٹ کمپنیاں اور عمارتیں وغیرہ پر ان لوگوں کا تسلط ہے، ان علاقوں کی رہائشی عمارتوں کے کرایوں اور زمینوں کی خرید و فروخت پر گزارا کرتے ہیں اور با اثر ہیں اور وہ تیل کی تجارت سے حاصل ہونے والی تنخواہوں پر گزر اوقات کرتے ہیں۔

معاشرتی فساد، ثقافتی اور کاروباری خرابی اور اسلام کے خلاف طرزِ عمل یہ ان میں بالکل واضح ہے ان علاقوں کے رہائشی زیادہ تر اپنی زندگی دنیاوی لذت اور فسق و فجور میں ڈوب کر گزار رہے ہیں ان میں سے زیادہ تر نے یورپ اور امریکہ میں فلیٹ بنا رکھے ہیں اور وہاں کی صنعت میں حصہ ڈالا ہے اور اپنا روپیہ وہاں کے بینکوں میں رکھا ہوا ہے، خاص طور پر جاپان، انگلینڈ سویڈن اور سوئس بینکوں میں کہ انہیں یہ خوف ہے کہ ان کے ملک کے حالات مستقبل کے لیے اچھی غمازی نہیں کر رہے یہاں وہ غیر محفوظ ہیں جب ہم شیعہ ان عربی ممالک پر قبضہ جما لیں گے گویا کہ ہم نے آدھی دنیا فتح کر لی ہے۔

تیار شدہ خاکہ کے نفاذ کا طریقہ کار:

یہ 50 سالہ خاکہ بروئے کار لانے کے لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے ارد گرد والی حکومتوں کے ساتھ اچھے تعلق رکھیں بلکہ ہم صدام کے معزول ہونے کے بعد عراق کے ساتھ بھی ہم اپنے تعلقات اچھے رکھیں گے وجہ یہ ہے کہ ہزار دوست کو زیر کرنا آسان ہے جبکہ ایک دشمن کو زیر کرنا مشکل ہے ان سیاسی اور ثقافتی اور اقتصادی تعلقات کی آڑ میں بہت سارے ہمارے ایرانی لوگوں کی تعداد، ان حکومتوں کی طرف پہنچ جائے گی، اس سے ہم مہاجروں کے لبادہ میں اپنے کارندے بھیجیں گے جن کی ہم تنخواہیں دیں گے اور انہیں حقِ خدمت دیا جائے گا۔ اس بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ 50 سال ایک طویل عرصہ ہے ہماری تحریک 20 سال بہت کامیابی سے ہمکنار ہوئی تھی ہمارا مذہب بھی ایک دن میں نہیں پھیلا بلکہ ملکوں میں ہمارے وزراء اور وکیل اور حاکم نہ تھے بلکہ معمولی عہدے دار بھی نہ تھا حتیٰ کہ وہابی، شافعی حنفی مالکی حنبلی تو ہمیں مرتد قرار دیتے ہیں اور بارہا شیعوں کا قتلِ عام بھی ہوا یہ پہلے کی بات ہے مگر آج اس دور میں ہمارے آباؤ اجداد کے نظریات اور ان کی آراء اور مساعی نتیجہ خیز ہیں اگرچہ ہم آئندہ خود نہ ہوں گے لیکن ہماری تحریک اور مذہب دونوں باقی رہیں گے اس مذہبی فریضہ کی ادائیگی کے لیے قربانی کی ضرورت ہے ہمارا پروگرام ہونا چاہیے اور خاکہ بندی تیار رکھی جائے، خواہ 50 سال کے بجائے پانچ سو سال لگ جائیں، ہم لاکھوں شہداء کے ورثاء ہیں جو مسلم نما شیطانوں کے ہاتھوں مارے گئے اور ان کے خون تاریخ کے راہ پر اب بھی بہہ رہے ہیں یہ خون خشک نہیں ہوئے اور یہ بہتے ہی رہیں گے یہ لوگ جب تک اپنے بڑوں کی خطاؤں کا اعتراف نہ کر لیں گے اور شیعہ مذہب کو اسلام کی اصل قرار نہ دیں گے خون پیش کرتے رہیں گے۔

مرحلہ وار فہم:

1)۔ ہمارے لیے افغانستان، پاکستان، ترکی، عراق اور بحرین میں مذہب شیعہ کی ترویج و اشاعت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہم نے جو دوسرے 10 سال کا خاکہ تیار کیا ہے، ہم اسے ملکوں میں پہلا خاکہ بنا کر کام کر سکتے ہیں ہمارے کارندوں کو تین چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے۔

  •  یہ ہمارے نمائندے زمینوں، گھروں، فلیٹوں کی خریدداری کریں اور کاروبار بنائیں اور زندگی کی سہولیات اور آسانیاں شیعہ مذہب والوں کو فراہم کریں تاکہ وہ ان گھروں میں رہیں اور تعداد بڑھے یہی کام فلسطین میں یہودیوں نے کیا ہے۔
  • تعلقات بڑھائیں اور بازار میں حکومتی اداروں میں اور بڑے بڑے رؤسا اور مشاہیر اور حکومتی محکموں میں اثر و رسوخ رکھنے والے لوگوں سے دوستی کریں۔
  • بعض ملکوں میں عمارتوں کی تعمیر جدا جدا ہے لیکن ان میں بستیوں اور چھوٹے شہروں کا ٹاؤنز تعمیر ہوتے ہیں ہمارے ان کارندوں کو چاہیے وہ انہیں خریدیں اور مناسب قیمت پر بیچیں اور ان افراد کو دیں جنہوں نے اپنی جائیدادیں شہر کے مراکز میں فروخت کی ہیں اس انداز پر شیعوں کی آبادی گھنی ہو سکتی ہے اور سنیوں کے ہاتھوں سے جائیداد نکالی جا سکتی ہیں۔
صفحہ 1 از 2