مکارم و محاسن اخلاق - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مکارم و محاسن اخلاق

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

صرف یہی نہیں بلکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایام حج میں اپنی قیام گاہیں مختص کر لی تھیں۔ ابتداء میں تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کرتے ہوئے عرفات کی حدود کے آخر میں وادی نمرہ میں قیام کرتیں، لیکن جب وہاں لوگوں کا ازدہام ہو جاتا تو ان کا خیمہ اس جگہ سے بہت دور لگایا جاتا اور مقام ’’اراک‘‘ ( الأراک: عرفات میں شام کی جانب ایک بستی کا نام ہے۔ (شرح الزرقانی علی المؤطا: جلد 2 صفحہ 345) پر قیام کرتیں اور کبھی کبھار کوہ ثبیر ( ثبیر: مکہ کا ایک مشہور پہاڑ۔ النہایۃ: جلد 1 صفحہ 207۔)کے قرب و جوار میں قیام کرتی تھیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خود بھی اور جو اِن کے ساتھ ہوتے وہ بھی ان کے خیمہ سے ہی تلبیہ پکارتے۔ جب وہ سوار ہو کر موقف کی طرف اپنا رخ کر لیتیں تو تلبیہ کہنا بند کر دیتیں اور ان کا معمول تھا کہ وہ حج کے بعد ماہ ذی الحجہ میں مکہ سے ہی عمرہ کرتی تھیں۔ پھر یہ معمول چھوڑ دیا۔ اب وہ ماہ ذی الحجہ کے آخر میں جحفہ (میقات) میں چلی جاتیں اور ماہ محرم کا چاند دیکھ کر عمرہ کی نیت کرتیں ۔

(مؤطا امام مالک رحمہ اللہ: جلد 3 صفحہ 489)

وہ عرفہ کے دن کا روزہ رکھتی تھیں، پھر وقوف کرتیں یہاں تک کہ ان کے پاس سے لوگ واپس چلے جاتے اور زمین بالکل خالی ہو جاتی تب وہ پینے کے لیے کچھ منگوا کر اس سے روزہ کھول لیتیں۔

(مؤطا امام مالک: جلد 3 صفحہ 550۔ مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 3 صفحہ 588۔ معرفۃ السنن و الآثار للبیہقی: جلد 6 صفحہ 348۔ اس کی سند کو ابن حجر رحمہ اللہ نے (الدرایۃ: جلد 2 صفحہ 23) میں صحیح کہا ہے۔

جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مخصوص ایام شروع ہو گئے تو انتہائی افسردگی سے رو پڑیں کہ ان سے کچھ مناسک رہ جائیں گے۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ان الفاظ سے تسلی دی: ’’یہ چیز اللہ تعالیٰ نے بنات آدم پر لکھ دی ہے۔‘‘

(فتح الباری: جلد 3 صفحہ 589)

اور آپﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حکم دیا کہ وہ سب کچھ کرو جو دیگر حجاج کریں گے سوائے بیت اللہ کے طواف کے۔ جب ان کو طہارت حاصل ہوئی تو کہہ اٹھیں  ’’اے اللہ کے رسول! آپﷺ لوگ حج اور عمرہ کر کے واپس جاؤ گے اور کیا میں صرف حج کر کے واپس جاؤں گی؟‘‘ تب آپ نے ان کے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر صدیق رضی  اللہ عنہما کو حکم دیا کہ ’’وہ انھیں لے کر ’’تنعیم‘‘ جائیں۔‘‘ اس طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج کرنے کے بعد ماہ ذی الحجہ میں ہی عمرہ ادا کیا۔

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)


صفحہ 4 از 4