مکارم و محاسن اخلاق - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مکارم و محاسن اخلاق

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ساتھ اعتکاف بیٹھنے کی اجازت طلب کی تو آپﷺ نے انھیں اجازت دے دی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں اعتکاف کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر پڑھ لیتے تو اپنی اعتکاف والی جگہ پر چلے جاتے۔ بقول راوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اعتکاف کرنے کی اجازت طلب کی تو آپﷺ نے انھیں اجازت دے دی۔ تو ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگا دیا گیا۔ جب سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے یہ خبر سنی تو انھوں نے بھی اپنا خیمہ لگا لیا اور جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو پتا چلا تو انھوں نے بھی خیمہ لگا لیا، جب دوسرے دن صبح کی نماز پڑھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو چار خیمے دیکھ کر پوچھا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘ آپﷺ کو آپ کی ازواج مطہراتؓ کے بارے میں بتایا گیا تو آپﷺ نے پوچھا: ’’انھیں اس فعل پر کس چیز نے ابھارا؟ کیا وہ نیکی کرنا چاہتی ہیں؟ تم انھیں اکھیڑ دو حتیٰ کہ میں انھیں نہ دیکھوں۔‘‘ (حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے (فتح الباری: جلد 4 صفحہ 276) میں لکھا ہے: ’’گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندیشہ ہو گیا کہ ازواج کو اس فعل پر ابھارنے والا اصل محرک بے جا مفاخرت ہے اور وہ رقابت ہے جس کی بنیاد خاوند کے متعلق غیرت ہوتی ہے۔ تاکہ ہر بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہے۔ اس طرح تو اعتکاف کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے یا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء میں سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما کو اجازت دی تو یہ کام آسان ہو گا لیکن اس کا جو انجام ہوا وہ اچھا نہیں تھا کہ دیگر ازواج مطہراتؓ بھی اسی تگ و دو میں مگن ہو گئیں۔ اس طرح نمازیوں کے لیے مسجد میں جگہ ہی نہ رہی۔ یا آپﷺ کے منع کرنے کا یہ سبب تھا کہ اگر آپﷺ کی سب بیویاں مسجد میں اعتکاف بیٹھ گئیں تو آپﷺ اپنے آپ کو اپنے گھر میں بیٹھا ہوا محسوس کرتے اور ممکن تھا کہ وہ آپﷺ کو عبادت کے لیے خلوت سے روک دیتیں جس سے عبادت کا مقصد ہی فوت ہو جاتا۔) تمام خیمے اکھیڑ دئیے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورے رمضان میں اعتکاف نہیں بیٹھے بلکہ شوال کے آخری عشرے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کیا۔‘‘

(صحیح بخاری: 3513۔ سنن ابن ماجہ: 3119)

اس حدیث سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کا شوق ظاہر ہوتا ہے اور یہ کہ وہ عبادت میں ہمیشہ سب سے آگے ہوتیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا شب قدر پانے کی کتنی متمنی تھیں اور اس میں شدت سے ان کی عبادت کے شوق کا اس سے پتا چلتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دعا کے متعلق پوچھا کرتی تھیں کہ اتفاقاً جب وہ شب قدر کو پا لیں تو وہ کون سی دعا کریں۔ چنانچہ وہ بیان کرتی ہیں کہ : ’’میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپﷺ مجھے بتائیں کہ اگر مجھے پتا چل جائے کہ شب قدر کون سی ہے تو میں اس میں کیا دعا کروں۔ فرمایا: ’’تو کہہ:

اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ

 ’’اے اللہ بے شک تو معاف کرنے والا سخی ہے۔ معافی کو پسند کرتا ہے۔ پس مجھے معاف فرما۔‘‘

(سنن ترمذی: 3513۔ سنن ابن ماجہ: 3119۔ مسند احمد: جلد 6 صفحہ 171 حدیث: 25423۔ سنن کبرٰی للنسائی: جلد 4 صفحہ 407، حدیث: 7712۔ مستدرک حاکم: جلد 1 صفحہ 712۔ شعب الایمان للبیہقی: جلد 3 صفحہ 338، حدیث: 3700۔ ترمذی نے کہا: حسن صحیح۔ علامہ نووی نے ’’الاذکار‘‘ کے صفحہ 247 پر اس کی سند کو صحیح کہا اور (اعلام الموقعین لابن قیم: جلد 4 صفحہ 249) میں صحیح کہا ہے۔ البانی رحمہ اللہ نے (صحیح سنن ترمذی: 3513) میں صحیح کہا ہے۔ الوادعی رحمہ اللہ نے (احادیث معلقۃ: صفحہ 459۔) پر کہا بظاہر یہ حسن لگتی ہے لیکن دارقطنی رحمہ اللہ نے کہا عبداللہ بن بریدہ کا عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت نہیں۔ پھر اس کی سند میں سفیان کے بارے میں بھی اختلاف ہے)

جہاں تک حج کا معاملہ ہے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حج کی اتنی شدت سے آرزو مند رہتیں کہ وہ فوت ہونے سے ڈرتیں۔ چونکہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا کہ: ’’اے اللہ کے رسول! کیا ہم (عورتیں ) آپ کے ساتھ غزوات میں جائیں اور جہاد کریں؟‘‘

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ’’تمہارے لیے سب سے بہتر اور سب سے خوبصورت جہاد حج مبرور ہے۔‘‘ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’جب سے میں نے یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے ہیں، میں کبھی حج نہیں چھوڑوں گی۔‘‘

(صحیح بخاری: 1861)

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد متعدد مرتبہ حج کیا اور وہ مردوں کی موجودگی میں طواف نہ کرتیں بلکہ مردوں سے الگ تھلگ (حَجَرَۃً: یعنی علیحدہ ہو کر۔ ایک طرف یا ایک کنارے پر۔ (شرح السنۃ للبغوی: جلد 7 صفحہ 120) ہو کر طواف کرتیں۔ ان کے قریب نہ جاتی۔ ایک عورت نے ان سے کہا کہ: آئیے اے ام المومنینؓ! ہم استلام (حجر اسود کا بوسہ) کر لیں؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’تم چلی جاؤ‘‘ اور خود جانے سے انکار کر دیا۔

(صحیح بخاری: 1618) 

جب دن میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا طواف کا ارادہ کرتیں تو مطاف سے مردوں کو باہر نکال دیا جاتا۔

(صحیح بخاری: 1618، اور بخاری کے الفاظ یہ ہیں: ’’لیکن جب عورتیں بیت اللہ میں جاتیں اور مطاف میں پہنچتیں تو مردوں کو نکال دیا جاتا۔‘‘)

صفحہ 3 از 4