مکارم و محاسن اخلاق - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مکارم و محاسن اخلاق

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نماز تراویح کا خصوصی اہتمام کیا کرتی تھیں۔ جب رمضان آتا تو وہ اپنے خادم ذکوان کو حکم دیتیں وہ مصحف سے دیکھ کر ان کی امامت کرتا۔

(امام بخاری نے اسے اپنی صحیح میں (حدیث: 692۔) سے پہلے معلق روایت کیا۔ لیکن صیغہ روایت قطعی ہے۔ بیہقی نے اسے موصول روایت کیا ہے۔ جلد 2 صفحہ 253، حدیث:  3497) نووی رحمہ اللہ نے ’’الخلاصۃ‘‘ میں اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ (جلد 1 صفحہ 500۔) دیکھیں: (تغلیق التعلیق لابن حجر: جلد 2 صفحہ 290)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر قیام کرنے کی تفصیل بتاتے ہوئے فرماتی ہیں :

’’میں ہر ماہ کی چودہ تاریخ (لیلۃ التمام: ہر مہینے کی چودھویں رات کیونکہ اس میں چاند پورا ہوتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سال کی سب سے بڑی رات مراد ہے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث: جلد 1 صفحہ 536)  یا سال کی سب سے بڑی رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قیام کرتی۔ تو آپﷺ سورۃ البقرۃ، النساء اور آل عمران پڑھتے۔ جب بھی آپﷺ کسی خوشخبری والی آیت سے گزرتے تو آپﷺ اس میں رغبت کرتے اور اس کے حصول کے لیے دعا کرتے اور جب کسی وعید والی آیت سے گزرتے تو آپ اس وعید سے بچنے کے لیے دعا کرتے اور اس سے پناہ طلب کرتے۔‘‘

(مسند احمد:جلد 6 صفحہ 92۔ تفسیر ابی یعلیٰ: 4842۔ حافظ نے اسے ’’نتائج الافکار‘‘ کی جلد 3 صفحہ 155 پر حسن کہا ہے اور البانی نے (صفۃ الصلاۃ: جلد 2 صفحہ 506) میں کہا اس کی سند جید ہے۔ 

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے کمرے میں رہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کیا کرتی تھیں۔

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:

’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا تو آواز دی گئی: نماز باجماعت کے لیے آ جاؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں دو رکوع کیے پھر سجدوں کے بعد آپﷺ کھڑے ہو گئے پھر ایک رکعت میں دو رکوع کیے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: میں نے اس دن کے رکوع اور سجدوں سے زیادہ طویل رکوع اور سجدے کبھی نہ کیے۔‘‘

(صحیح بخاری: 1051۔ صحیح مسلم: 2152)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے ہمیشہ نوافل پڑھتی تھیں، اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتی تھیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتی تھیں :

اِنَّ اَحَبَّ الْاَعْمَالِ اِلَی اللّٰہِ مَا دُوْوِمَ عَلَیْہِ، وَ اِنْ قَلَّ۔

’’بے شک اللہ تعالیٰ کو وہی اعمال محبوب ترین ہیں جن پر دوام اختیار کیا جائے، اگرچہ وہ کم ہوں۔‘‘

نیز سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی عمل شروع کرتے تو اسے ہمیشہ کے لیے جاری کر دیتے۔‘‘

(صحیح بخاری: 5861۔ صحیح مسلم: 782۔)

اپنی مخصوص نفلی عبادت ادا کرنے سے پہلے اگر سو جاتیں تو اس کی قضا دیتیں۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ’’قاسم بن محمد ان کے پاس نماز فجر سے پہلے گئے جبکہ وہ نماز پڑھ رہی تھیں۔ قاسم نے ان سے پوچھا: یہ کون سی نماز ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: ’’میں رات کے وقت اپنی مقررہ عبادت نہ کر سکی تو میں اسے نہیں چھوڑوں گی یعنی ان کی قضا دوں گی۔‘‘

(سنن الدارقطنی: جلد 1 صفحہ 246) 

اسی طرح وہ نفلی عبادات کی نصیحت کرتی تھیں خصوصاً قیام اللیل کی ترغیب دلاتی تھیں۔

چنانچہ عبداللہ بن قیس سے روایت ہے:

’’مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’تم قیام اللیل کبھی ترک نہ کرو۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نہیں چھوڑتے تھے اور جب آپﷺ بیمار ہو جاتے یا تھک جاتے تو بیٹھ کر پڑھ لیتے۔‘‘

(سنن ابی داود: 1307۔ مسند احمد: جلد 6 صفحہ 249، حدیث: 26157۔ مستدرک حاکم: جلد 1 صفحہ 452۔ الشیخ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے (صحیح سنن ابی داود: حدیث: 1307) صحیح کہا اور وادعی نے (الصحیح المسند: 1618) میں کہا ہے: یہ امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کثرت سے روزے رکھا کرتیں۔

عبدالرحمٰن بن قاسم نے اپنے باپ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہمیشہ روزہ رکھتیں اور صرف عید الفطر اور عید الاضحی کے دو دنوں میں روزہ نہ رکھتیں۔

(الطبقات الکبرٰی لابن سعد: جلد 4 صفحہ 68)

ایک روایت میں ہے: ’’بے شک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسلسل روزے رکھتیں۔‘‘

(وہ ہمیشہ روزے رکھتیں یعنی صرف ان دنوں میں روزہ نہ رکھتیں جس میں ان کے لیے روزہ رکھنا منع تھا جیسے عیدین کے دن اور حیض کے دن اس طرح اشکال ختم ہو جاتا ہے اور یہاں مراد یہی ہے کہ وہ کثرت سے روزے رکھتی تھیں۔ (فتح الباری لابن حجر: جلد 4 صفحہ 221)۔ شرح مسلم للسیوطی: جلد 3 صفحہ 245)

(الطبقات الکبرٰی: جلد 8 صفحہ 75۔ الصیام للفریابی: صفحہ 100  حدیث: 131۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 187۔)

بلکہ وہ شدید گرم دنوں میں بھی روزہ ترک نہ کرتیں۔

ایک بار عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما عرفہ والے دن ان کے پاس گئے تو وہ روزہ سے تھیں اور اپنے اوپر پانی چھڑک رہی تھی۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ آپؓ روزہ افطار کر دیں۔ انھوں نے فرمایا: میں کیسے افطار کر دوں جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

اِنَّ صَوْمَ یَوْمِ عَرَفَۃَ یُکَفِّرُ الْعَامَ الَّذِیْ قَبْلَہٗ

(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 128 حدیث: 25014)

’’بے شک عرفہ کے دن کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہو گا۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دوران سفر بھی روزے رکھا کرتی تھی ۔ ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے میں سفر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہمراہ تھا، مکہ میں داخل ہونے تک انھوں نے روزے نہیں چھوڑے۔

(مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 3 صفحہ 15)

قاسم رحمہ اللہ سے روایت ہے:

’’بے شک میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دوران سفر روزے رکھتے ہوئے دیکھا حالانکہ انھیں گرم لو کے تھپیڑوں نے کمزور کر دیا تھا۔‘‘

(اَذْلَقَہُ السَّمُوْمُ: گرم لو کی لہروں نے اسے کمزور کر دیا۔ (تاج العروس: جلد 25 صفحہ 321)

(مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 3 صفحہ 16)

صفحہ 2 از 4