چوتھا مبحث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات - دفاعِ اہلِ…

چوتھا مبحث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

(مسند ابی داود طیالسی: جلد 3 صفحہ 185، حدیث: 1718۔ اس کے حوالے سے۔ حلیۃ الاولیاء: جلد 2 صفحہ 44۔ بوصیری نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ (اتحاف الخیرۃ المہرۃ: جلد 7 صفحہ 248)

ایک روایت میں ہے: ’’اے عائشہ! اس (اللہ تعالیٰ) نے تیری مصیبت ختم کر دی ہے۔ روئے زمین پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھ سے زیادہ کوئی شخص محبوب نہ تھا، سوائے تمہارے باپ کے۔‘‘ پھر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتی ہوں۔ ‘‘

(السنۃ لابن ابی عاصم: 1234)

سیدنا ابوہریرہ (ان کا نام مشہور روایت کے مطابق عبدالرحمٰن بن صخر ہے ابوہریرہ کنیت ہے اور یمن کے قبیلہ بنو دوس سے ہیں۔ جلیل القدر صحابی ہیں، تمام صحابہؓ سے زیادہ انھیں احادیث یاد تھیں اور اسی طرح انھوں نے کثرت سے روایت کی۔ حافظ حدیث، ثقہ اور مفتی تھے۔ روزوں اور تہجد کے ساتھ مشہور تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں بحرین کا گورنر بنایا اور کچھ عرصہ تک مدینہ کے گورنر بھی رہے۔ 57 ہجری کے لگ بھگ فوت ہوئے۔ (الاستیعاب: جلد 2 صفحہ 70۔ الاصابۃ: جلد 7 صفحہ 465) رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ بقیع والے قبرستان میں پڑھائی اور انھیں بقیع میں دفن کیا گیا۔ اس وقت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مروان بن حکم مدینہ منورہ کا گورنر تھا لیکن وہ حج پر چلا گیا اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب بنا کر گیا۔

( المستدرک للحاکم: جلد 4 صفحہ 5۔ تاریخ الاسلام للذہبی: جلد 4 صفحہ 164)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نماز عشاء کے بعد اندھیری رات میں دفن کیا گیا۔ جنازے کے ساتھ جانے والوں کے لیے آگ جلائے بغیر کوئی چارہ نہ رہا۔ چنانچہ انھوں نے کپڑے (الخرق: پھٹے پرانے کپڑے۔ (جمہرۃ اللغۃ لابن درید: جلد 1 صفحہ 590۔ الصحاح للجوہری: جلد 4 صفحہ 1468) تیل میں ڈبو کر آگ سے روشن کیے تاکہ قبرستان تک ان کا راستہ روشن ہو جائے، لوگوں کا بہت ہجوم ہو گیا وہ چارپائی ( النعش: جب میت چارپائی پر ہو تو اسے النعش کہتے ہیں۔ (الصحاح للجوہری: جلد 3 صفحہ 1022۔ لسان العرب: جلد 6 صفحہ 355۔) کے گرد جمع ہو گئے۔ اس رات سے زیادہ کسی رات میں اس قدر لوگ دکھائی نہ دئیے حتیٰ کہ باب العوالی (العوالی: مدینہ منورہ کی شرقی جانب کے سارے علاقے میں واقع بستیوں پر العوالی کا اطلاق ہوتا ہے جس کا مدینہ سے قریب ترین فاصلہ چار میل ہے اور نجد کی جانب (مدینہ سے مشرق کی جانب) بعید ترین العوالی آٹھ میل تک ہے۔ (مشارق الانوار: جلد 2 صفحہ 108۔ النہایۃ فی غریب الحدیث: جلد 3 صفحہ 295۔ المغرب فی ترتیب المعرب للمطرزی: صفحہ 327 (بالائی مدینہ) کے لوگ بھی مدینہ میں پہنچ گئے۔

(الطبقات الکبرٰی: جلد 8 صفحہ 76۔ تاریخ الطبری: جلد 11 صفحہ 602۔ مستدرک للحاکم: جلد 4 صفحہ 5)

ان کی قبر میں آل صدیق سے پانچ جوان اترے۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم کے دونوں بیٹے عروہ اور عبداللہ اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی محمد بن ابی بکر کے دونوں بیٹے قاسم اور عبداللہ رحمہما اللہ اور ان کے دوسرے بھائی سیّدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے بیٹے عبداللہ رحمہ اللہ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تقریباً 67 سال عمر پائی۔ اللہ ان سے راضی ہو اور انھیں راضی کرے۔

(الطبقات الکبرٰی: جلد 8 صفحہ 7۔ تاریخ ابن ابی خیثمۃ، جلد 2 صفحہ 58۔ الاستیعاب: جلد 4 صفحہ 1885۔ اسد الغابۃ: جلد 7 صفحہ 186۔ المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم: جلد 5 صفحہ 203۔ تاریخ الاسلام للذہبی: جلد 4 صفحہ 249۔ البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 11 صفحہ 342۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 8 صفحہ 235)


صفحہ 2 از 2