چوتھا مبحث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات - دفاعِ اہلِ…

چوتھا مبحث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات

مؤمنین کی ماں مقدسہ و مطہرہ رضی اللہ عنہا آخری عمر میں طویل عرصہ تک بیمار رہیں اور جب انھیں یقین ہو گیا کہ یہ مرض الموت ہے اور کوچ کا مرحلہ آنے والا ہے تو وہ نہایت عجز و انکساری سے پکار اٹھیں جبکہ وہ اپنے دل میں سوچا کرتی تھیں کہ انھیں اپنے گھر میں دفنایا جائے۔ وہ کہا کرتی تھیں: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک گناہ کا ارتکاب کر لیا لہٰذا تم مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے ساتھ دفنا دینا۔‘‘

(الطبقات الکبرٰی: جلد 8 صفحہ 74۔ مستدرک حاکم: جلد 4 صفحہ 7 اور انھوں نے کہا یہ روایت شیخین کی شرط کے مطابق صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 193)

اس گناہ سے ان کی مراد جنگ جمل میں شرکت تھی اور اس معاملے کے لیے ان کی اپنی تاویل تھی۔ اسی لیے انھوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو وصیت کر دی کہ ’’تم مجھے ان کے ساتھ نہ دفنانا اور مجھے بقیع کے قبرستان میں میری بہنوں کے ساتھ دفنانا۔ میں اس واقعہ سے اپنے آپ کو کبھی بری الذمہ نہیں سمجھتی۔‘‘

(صحیح بخاری: 1391۔ نیز انھوں نے وصیت میں یہ بھی کہا تھا میرے جنازے کے ساتھ تم آگ نہ لے جانا اور نہ میری میت پر سرخ چادر ڈالنا۔ (الطبقات الکبرٰی: جلد 8 صفحہ 72، 76) 

مرض الموت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کی عیادت کے لیے گئے۔ ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جانے کی اجازت طلب کی جبکہ وہ انتہائی لاغر (مغلوبۃ: یعنی مرض کی شدت کی وجہ سے انتہائی لاغر ہو چکی تھی اور حرکت تک نہ کر سکتی تھیں۔ (کشف المشکل من حدیث الصحیحین لابن الجوزی: جلد 2 صفحہ 387۔ عمدۃ القاری: للعینی: جلد 19 صفحہ 87) ہو چکی تھیں۔ وہ کہنے لگیں: ’’مجھے اندیشہ ہے کہ وہ میری تعریف کریں گے۔‘‘ تو کہا گیا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد اور مسلمانوں کی معتبر شخصیت ہیں۔‘‘ وہ کہنے لگیں: ’’تم انھیں اجازت دے دو۔‘‘ وہ آئے تو کہنے لگے: ’’آپ کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘ جواب دیا: ’’خیریت کے ساتھ ہوں اگر میں (عذاب الہٰی سے) بچ گئی۔‘‘ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپؓ بھلائی پر ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں آپؓ کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کنواری سے شادی نہیں کی اور آسمان سے آپؓ کی برأت نازل ہوئی۔‘‘

جب سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما آئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ ’’ابن عباس رضی اللہ عنہما آئے اور میری تعریف کی اور میں چاہتی ہوں کہ میں نسیًا منسیًّا (بھولی بسری) بن جاؤں۔‘‘

(صحیح بخاری: 4753)

ایک روایت میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مرض الموت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کی عیادت کے لیے اجازت طلب کی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت نہ دی۔ وہ اصرار کرتے رہے۔ بالآخر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انھیں اجازت دے دی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا، میں آگ سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اے ام المومنین! بے شک اللہ عزوجل نے آپ کو آگ سے پناہ دے دی ہے۔ آپ سب سے پہلی عورت ہیں، جن کی برأت آسمان سے نازل ہوئی۔

(فضائل الصحابۃ لاحمد: جلد 2 صفحہ 872 )

ایک روایت میں ہے: بے شک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار ہو گئیں تو ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کی عیادت کے لیے آئے اور کہا: آپ اپنے دو سچے پیش رؤوں (الفرط: جو شخص قافلے سے پہلے جا کر قافلے والوں کے آرام کے لیے سامان تیار کرتا ہے اور جگہ صاف کرتا ہے۔ یہاں ثواب اور شفاعت مراد ہے۔ (مقدمۃ فتح الباری یعنی ہدیۃ الساری: صفحہ 66) کے پاس جا رہی ہیں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس۔

(اس روایت کی تخریج آگے آ رہی ہے۔)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب بیمار ہوئیں اور بیماری کے دوران جب بھی ان کا حال پوچھا جاتا تو وہ کہتیں: ’’الحمد للہ خیریت سے ہوں۔‘‘

(الطبقات الکبرٰی: جلد 8 صفحہ 75 )

جو بھی سیدہ عائشہؓ کی عیادت کے لیے آتا اور وہ انھیں بشارت دیتا تو وہ اس کے جواب میں کہتیں: ’’اے کاش میں ایک پتھر ہوتی اے کاش میں مٹی کا ایک ڈھیلا ہوتی۔‘‘

(الطبقات الکبرٰی: جلد 8 صفحہ 74 )

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مدینہ نبویہ میں سترہ رمضان المبارک کی رات 57 یا 58 یا 59 ہجری کو فوت ہوئیں۔ جب سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کی خلافت ابھی جاری تھی۔

(الطبقات الکبرٰی: جلد8 صفحہ 78۔ الاستیعاب: جلد 4 صفحہ 185، 188۔ المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم لابن الجوزی: جلد 5 صفحہ 303۔ اسد الغابۃ لابن الاثیر: جلد 7 صفحہ 186۔ البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 11 صفحہ 342۔ الوافی بالوفیات للصفدی: جلد 16 صفحہ 343۔ الاصابۃ: جلد 8 صفحہ 235)

ان کی وفات سے تمام اہل مدینہ شدید غم میں ڈوب گئے اور عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ نے کیا خوب کہا: ’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات سے صرف اسے ہی صدمہ پہنچا جس کی وہ ماں تھیں۔‘‘

(الطبقات الکبری: جلد 8 صفحہ 78۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 185۔)

جب سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے رونے کی آواز سنی تو انھوں نے اپنی خادمہ کو ادھر بھیجا کہ جا کر دیکھو ان کا کیا ہوا؟ وہ واپس گئی اور بتایا کہ وہ فوت ہو گئی ہیں۔

(قضت: کسی چیز کے کٹنے، تمام ہونے اور جدا ہونے کے معانی میں آتا ہے۔ قرآن کریم میں ہے: مَنْ قَضَى نَحْبَهُ یعنی اپنی مدت پوری کر لی۔ لغت میں قضی کے متعدد معانی آتے ہیں۔ (معانی القرآن و اعرابہ للزجاج: جلد 4 صفحہ 222۔ تفسیر راغب اصفہانی: جلد 1 صفحہ 302۔ مشارق الانوار للقاضی عیاض: جلد 2 صفحہ 189۔ لسان العرب لابن منظور: جلد 7 صفحہ 223)

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا:’’اللہ اس پر رحم کرے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب تھیں، سوائے اس کے باپ کے۔‘‘

صفحہ 1 از 2