پانچواں نکتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری…

پانچواں نکتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے احوال و کیفیات و محسوسات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حال میں وفات پائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری ہنسلی اور سینے کے درمیان تھے۔ چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کی شدت دیکھنے کے بعد کسی اور کی موت کی شدت سے نہیں گھبراتی۔‘‘

(الحاقنۃ: گلے کے ساتھ دونوں ہنسلیوں کے درمیان پست جگہ کو کہتے ہیں۔ (النہایۃ لابن الاثیر: جلد 1 صفحہ 466) الذاقنۃ: ایک قول کے مطابق گلے کے ارد گرد اور ایک قول کے مطابق ٹھوڑی کے بالکل نیچے کا سینہ۔ (النہایۃ: جلد 2 صفحہ 162) بخاری: 449۔ مسلم: 2443)۔

اس حقیقت میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی سب سے زیادہ فضیلت اور منقبت یہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری لمحات ان کے گھر میں بسر ہوئے اور سیدہ عائشہؓ کی وفات بھی وہیں ہوئی اور آپﷺ کا مدفن بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا گھر بنا۔ اسی لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس فضیلت کو فخریہ انداز میں بیان کرتیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر، میری باری کے دن اور میری ہنسلی اور سینے یا حلقوم کے درمیان وفات پائی اور اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی وفات کے وقت میرا لعاب اور آپﷺ کا لعاب اکٹھا کر دیا۔‘‘

(سیرت السیّدۃ عائشۃ رضی اللہ عنہا للنووی: صفحہ 151)



صفحہ 3 از 3