پانچواں نکتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری…

پانچواں نکتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے احوال و کیفیات و محسوسات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

جوں جوں دن گزرتے گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مرض میں شدت آتی گئی، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں مسجد کے اندر جا کر لوگوں کو نماز پڑھانے کی سکت بھی نہ رہی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی بیمار ہوتے تو کچھ دعائیں اور تعوذات پڑھ کر آپﷺ اپنے بدن مبارک پر پھونک لیتے۔ اسی طرح آپﷺ کی مرض الموت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا وہ دعائیں اور تعوذات پڑھتیں اور آپﷺ کے ہاتھ پر پھونک مارتیں پھر آپﷺ کا دست مبارک آپﷺ کے بدن پر پھیر دیتیں۔ لوگ مسجد میں جمع ہو کر نماز صبح کی امامت کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے۔ ہر بار جب آپﷺ نماز پڑھانے کے لیے اٹھنا چاہتے آپﷺ بے ہوش ہو جاتے۔ تب آپﷺ نے فرمایا: تم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہہ دیا: اے اللہ کے رسول! بے شک ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل ہیں، جب وہ قرآن پڑھیں گے تو اپنے آنسو نہ روک سکیں گے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی اور کو حکم دیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ کی قسم میں صرف اس بات کو ناپسند کرتی تھی کہ لوگ اسے برا جانیں گے کہ سب سے پہلے ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم مقام بن رہے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: دو یا تین بار میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی بات کا تکرار کیا تو آپﷺ نے زور دے کر فرمایا: ’’تم ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ بے شک تم عورتیں تو یوسف علیہ السلام کے زمانے کی عورتیں لگتی ہو۔‘‘

(صواحب یوسف: یعنی جیسے انھوں نے اپنے ارادے کو یوسف علیہ السلام پر نافذ کرنا چاہا ایسے ہی تم بھی اپنی چاہت پر اصرار کر رہی ہو۔ (شرح مسلم للنووی: جلد 4 صفحہ 140) تم ابوبکر سے کہو: یہ حدیث صحیح مسلم میں ہے۔ (حدیث: 418)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرض الموت سے پہلے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس کچھ سونا رکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مرض الموت میں وہ یاد آ گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا۔ ’’تم نے اس سونے کا کیا کیا؟ تو عائشہ رضی اللہ عنہا پانچ سے آٹھ دینار تک آپ کے پاس لے آئیں۔ آپﷺ اپنے ہاتھ سے الٹنے پلٹنے لگے اور فرماتے تھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل کے بارے میں کیا گمان رکھیں گے کہ جب وہ اس سے ملاقات کر لے گا اور یہ (دینار) اس کے پاس موجود ہوتے، تم انھیں خرچ کر دو۔‘‘

(اسے احمد نے اپنی ’’مسند‘‘ (جلد 6 صفحہ 49 حدیث: 24268) پر روایت کیا ہے اور ’’صحیح ابن حبان‘‘ (جلد 2 صفحہ 491، حدیث: 715 )۔ اس کی اسناد کو عراقی نے حسن کہا ہے۔ (تخریج الاحیاء: جلد 4 صفحہ 294) البانی رحمہ اللہ نے (السلسلۃ الصحیحۃ: جلد 6 صفحہ 320) پر حسن کہا اور شعیب الارناؤوط نے بھی ’’مسند احمد‘‘ کی تحقیق کرتے وقت (حدیث: 24268) کو حسن کہا ہے

اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری لمحات آ پہنچے۔ جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہارا دے کر بٹھایا ہوا تھا۔ وہ کہتی ہیں: میرے پاس میرے بھائی (سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما ) آئے تو ان کے ہاتھ میں مسواک تھی اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہارا دے کر بیٹھی تھی۔ چنانچہ میں نے آپ کو ان کی طرف دیکھتے ہوئے سمجھ گئیں کہ آپﷺ کو مسواک کی خواہش ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک بہت پسند کیا کرتے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا میں آپﷺ کے لیے مسواک لوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اثبات میں اپنے سر سے اشارہ کیا۔ میں نے مسواک اس سے لے لی وہ سخت تھی، پس میں نے اسے چبا کر نرم کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک کی۔ اس سے پہلے میں نے آپﷺ کو اتنے خوبصورت انداز میں مسواک کرتے ہوئے کبھی نہ دیکھا۔‘‘

(صحیح بخاری: 4451)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرتے تھے:

اَللّٰہُمَّ رَبَّ النَّاسِ، اَذْہِبِ الْبَاسَ، وَ اشْفِ وَ اَنْتَ الشَّافِیْ، لَا شِفَائَ اِلَّا شِفَائُ کَ، شِفَائً لَّا یُغَادِرُ سَقَمًا

ترجمہ: ’’اے اللہ! اے لوگوں کے رب! تو بیماری کو لے جا اور تو شفا دے تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیری شفا کے علاوہ کوئی شفا نہیں ہے۔ وہ ایسی شفا ہے جو بیماری کو نہیں چھوڑتی۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’جب آپﷺ کی وہ بیماری شدت اختیار کر گئی، جس میں آپﷺ نے وفات پائی، میں آپﷺ کا دست مبارک پکڑتی اور میں ہی اسے آپﷺ کے بدن مبارک پر پھیرتی اور یہ الفاظ دہراتی چنانچہ آپﷺ نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے چھڑا لیا اور فرمایا: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ، وَ اَلْحِقْنِیْ بِالرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی

ترجمہ: ’’اے اللہ تو میری مغفرت فرما دے اور تو مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے۔‘‘

سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :

’’یہ وہ آخری الفاظ ہیں جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے۔‘‘

(صحیح بخاری: 5675۔ مسلم: 2191)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک تندرست تھے تو فرمایا کرتے تھے: ’’کوئی نبی اس وقت تک فوت نہیں کیا جاتا جب تک اسے اس کا جنت میں ٹھکانا نہ دکھا دیا جائے۔ پھر یا تو اسے زندگی دے دی جاتی ہے یا اسے اختیار مل جاتا ہے۔‘‘ تو جب آپ بیمار ہوئے اور آپﷺ کا آخری وقت آ گیا اور آپﷺ کا سر مبارک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ران پر تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہو گئی جب آپﷺ کو افاقہ ہوا تو آپﷺ کی نگاہیں چھت کی جانب جم گئیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اَللّٰہُمَّ فِی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی

’’اے اللہ! تو مجھے رفیق اعلی کے پاس لے جا۔‘‘

تب میں نے سوچا کہ اب آپ ہمارے پاس نہیں رہیں گے، اور تب مجھے یقین ہو گیا کہ آپ جو حدیث اپنی صحت کی حالت میں ہمیں سنایا کرتے تھے، وہ بالکل صحیح ہے۔‘‘

(صحیح بخاری: 4437۔ صحیح مسلم: 2444)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :

صفحہ 2 از 3