رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے…

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ڈھلتی رات سرگوشیاں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

ذرا غور کریں! یہ ہیں ہماری والدہ محترمہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا جب ان کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا کہ امور خانہ داری اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق زوجیت کو وہ صحیح طریقے سے ادا نہیں کر سکتیں اور ان میں مردوں کی دلچسپی کا کوئی اشارہ بھی نہیں رہا، تو انھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدائی کے غم نے آ گھیرا۔ چنانچہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے التجا کی کہ وہ اپنی باری سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کرتی ہیں اور ان کا خیال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر بیویوں میں سے کسی کی طرف نہ گیا کیونکہ انھیں بخوبی علم تھا کہ ہماری والدہ محترمہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپﷺ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں اور کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں۔

(صحیح بخاری: 2593۔ صحیح مسلم: 463)۔

اس فضیلت کے ثبوت غیر متناہی ہیں۔ تاآنکہ ہماری والدہ محترمہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سب سے اونچی شان و مرتبت والی ہو گئیں۔

علامہ ابن حزم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’بے شک کسی شخص کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بہت بڑی فضیلت ہے اور یہ بات ایسی ہی ہے جیسے کہ فتح خیبر کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے فرمایا: ’’کل میں جھنڈا اسے ہی دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘چونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اس سے فزوں تر ہے اور وہ فضیلت میں اس سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ اس شخص سے بہرحال افضل ہے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں حصہ ان سے کم ہے۔ اسی لیے جب سائل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپﷺ مردوں میں سے کس کے ساتھ زیادہ محبت کرتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس (عائشہ رضی اللہ عنہا ) کے باپ کے ساتھ۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان تمام صحابہ سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سیدنا ابوبکر اور پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہونے کی دلیل ہے۔‘‘

(الفصل فی الملل و الاہواء و النحل: جلد 4 صفحہ 99)

جن مقاصد کے لیے کسی عورت سے شادی کی جاتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نصاً بیان کر دیا، پھر فرمایا: ’’تو دین دار عورت کے ساتھ شادی کر کے کامیاب ہو جا۔ تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں۔‘‘ تو یہ ناممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں کو دیگر اسباب و وسائل کو ترک کر کے دین دار عورت سے شادی کرنے کی رغبت دلائیں اور خود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کسی اور مقصد کے لیے شادی کریں۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ: ’’تمام عورتوں میں سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ایسے ہی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کو فضیلت حاصل ہے۔‘‘

تو کسی مسلمان کے لیے یہ سوچنا جائز نہیں کہ اللہ کے نزدیک دین کے علاوہ بھی کوئی وجۂ فضیلت ہے۔

علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 143) پر اور علامہ ندوی رحمہ اللہ نے (سیرۃ سیدۃ عائشۃ ام المؤمنینؓ صفحہ 79) پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے ام سلمہ! تم مجھے عائشہ کے معاملے میں اذیت نہ دو۔‘‘ کیونکہ اللہ کی قسم! تم میں سے میں اس کے علاوہ جس کسی کے لحاف میں ہوتا ہوں تو میری طرف وحی نہیں آتی۔‘‘

علامہ ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے یہ جواب، تمام امہات المومنینؓ پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کو ظاہر کرتا ہے اور اس بات پر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت حکم الہٰی کی وجہ سے تھی اور یہ حکم الہٰی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے ساتھ محبت کا ایک سبب تھا۔

حتیٰ کہ مسروق رحمہ اللہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق حدیث روایت کرتے تو کہتے: مجھے یہ حدیث صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی مبرأۃ، مصدقہ اور اللہ کے حبیب کی محبوبہ رضی اللہ عنہا نے بیان کی۔

(الزہد و الرقائق لابن المبارک: جلد 1 صفحہ 382، حدیث: 1079۔ و الشریعۃ للآجری: جلد 5 صفحہ 2404)


صفحہ 4 از 4